’ہم کام تو کریں گی لیکن کپڑے۔۔۔‘ بادشاہ کی موت کے غم میں جسم فروش خواتین نے ایسا اعلان کردیا کہ پورے ملک کو حیران پریشان کردیا

’ہم کام تو کریں گی لیکن کپڑے۔۔۔‘ بادشاہ کی موت کے غم میں جسم فروش خواتین نے ...
’ہم کام تو کریں گی لیکن کپڑے۔۔۔‘ بادشاہ کی موت کے غم میں جسم فروش خواتین نے ایسا اعلان کردیا کہ پورے ملک کو حیران پریشان کردیا

  


بنکاک (نیوز ڈیسک) تھائی لینڈ کے بادشاہ بھومی بول کی موت پر پورے ملک میں صفِ ماتم بچھ گئی اور ایک ماہ کے سوگ کا اعلان کیا گیا، لیکن جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی خواتین نے بمشکل 10 دن سوگ منانے کے بعد اپنا کاروبار دوبارہ کھول دیا ہے۔ اخبار دی میٹرو کی رپورٹ کے مطابق بنکاک میں جسم فروشی کے اڈوں پر کام کرنے ولی خواتین گزشتہ رات کام پر واپس آ گئیں، اور جب اس بارے میں ان سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ”ہم نے کام تو کرنا ہے، ہمیں زندہ رہنے کے لئے رقم کی ضرورت ہے، ہاں ہم سوگ کے اظہار کے لئے سیاہ لباس ضرور زیب تن کریں گی۔“

اخبار سے بات کرتے ہوئے ایک دوشیزہ کا کہنا تھا ”یہاں ابھی بھی بہت خاموشی ہے، بادشاہ سلامت کی موت کی وجہ سے ہر کوئی غمزدہ ہے، لیکن ہمیں کام تو کرنا ہے، ہم اور کیا کرسکتے ہیں، ہمیں رقم کمانے کے لئے گاہکوں کو ڈھونڈنا ہے۔“ ایک اور دوشیزہ کا کہناتھا ”ہمیں بادشاہ سلامت سے بہت محبت ہے، ہم اپنے ملک سے بھی محبت کرتی ہیں، لیکن ہماری مجبوری ہے، ہم سیاہ ماتمی لباس پہن کر کام کر لیں گی۔“

نوجوان لڑکی نے اپنا کنوارہ پن فروخت کرنے کا اعلان کر دیالیکن وجہ ایسی کہ ہر کسی کو پریشان کر دیا

دارلحکومت میں اکثر شراب خانے اور رات کے وقت چلنے والے کلب بھی کھل گئے ہیں لیکن بادشاہ کی موت کے سوگ میں یہاں کام کرنے والی دوشیزائیں بھی سیاہ لباس میں ملبوس ہیں۔ موسیقی کی آواز دھیمی ہے جبکہ سرعام رقص سے بھی احتراض کیا جارہا ہے۔ رات بھر کھلے رہنے والے کلب اور تفریح گاہیں بھی آج کل رات 12بجے ہی بند کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ تھائی لینڈ کے بادشاہ بھومی بول جدید تاریخ میں طویل ترین عرصہ تک حکمرانی کرنے والے بادشاہ ثابت ہوئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ماہا واجی رالو کورن بادشاہ بن گئے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...