عمران خان کو چاہیے تھا2 نومبر کے لانگ مارچ سے قبل تمام سیاسی جماعتوں باالخصوص جماعت اسلامی سے مشاورت کرتے ،امیر جماعت اسلامی

عمران خان کو چاہیے تھا2 نومبر کے لانگ مارچ سے قبل تمام سیاسی جماعتوں باالخصوص ...
عمران خان کو چاہیے تھا2 نومبر کے لانگ مارچ سے قبل تمام سیاسی جماعتوں باالخصوص جماعت اسلامی سے مشاورت کرتے ،امیر جماعت اسلامی

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ عمران خان کو چاہیے تھا کہ دو نومبر کے لانگ مارچ سے قبل تمام سیاسی جماعتوں خاص طور پر جماعت اسلامی سے مشاورت کرتے۔ عوام بے لاگ احتساب چاہتے ہیں اب اپنے چور کو زندہ باد کہنے کی روایت ختم کر کے بے لاگ احتساب کیا جائے،،کرپشن کرنے والوں کا نام ای سی ایل میں ڈال کر پاسپورٹ ضبط کرنے کا قانون متعارف کرایا جائے۔کرپٹ افراد کو پاکستان میں کرپشن کے پیسے چھپانے کے لئے جگہ میسر نہ آئی تو لندن،ملائیشیا اور پانامہ کا رخ کر لیا۔ پوری قوم کو مل جل کر کرپشن کے خلاف جہاد کرنا ہو گا۔سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر بھارت کوپیغام دینا چاہتے ہیں کہ جارحیت کی گئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہورہائیکورٹ بار کے کراچی شہداءہال میں وکلاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیاءعبدالرحمان ، نائب صدر سردار شہباز ، سیکرٹری انس غازی ، فنانس سیکرٹری سید اسد بخاری سمیت دیگر موجود تھے ۔لاہور ہائیکورٹ بار میں خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کے سیاست دانوں نے چند سالوں میں دو کھرب پچاس ارب روپے کی جائیدادیں بنائیں۔کرپٹ افراد کو پاکستان میں کرپشن کے پیسے چھپانے کے لئے جگہ میسر نہ آئی تو لندن،ملائیشیا اور پانامہ کا رخ کر لیا۔ پاکستان میں مالی کرپشن سے بڑھ کر نظریاتی کرپشن موجود ہے ، ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ، پاکستان کے آئین کے تحت ہر ایک فرد کو اپنی آزاد زندگی گزارنے کا حق ہے ، پانامہ لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کا خود کو احتساب کے پیش کرنا قابل ستائش بات ہے لیکن افسوس کہ اس پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری نہ کرانے سے ملک مفروضوں کے ذریعے لایا جا رہا ہے۔وسائل کا رخ محروم صوبوں کی جانب نہیں موڑا جا رہا جس سے چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پنڈتوںاور شہزادوں کی موجودگی میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ ملک میں اس تک وقت تبدیلی نہیں آ سکتی جب تک بحشیت قوم اپنے روئیوں کو تبدیل نہیں کریں گے۔ ، بانی پاکستان قائد اعظم کا سلوگن بھی یہی تھا۔انہوں نے کہا کہ ترقی اسلحہ ، سٹرکیں بنانے سے نہیں بلکہ ایمان ، تنظیم اور یقین محکم سے آئی گی ، سراج الحق نے کہا کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن حمود الرحمان کمیشن کی طرح انکوائری کرے اور معاملہ کا ٹرائل کیا جائے۔

انہوں نے نیب کے ادارہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیب ادارہ کو شرم آنی چاہئے 50کروڑ روپے ہڑپ کرنے کے بعد قومی خزانہ میں ایک کروڑ روپے دیئے ۔انہوں نے کہا کہ نیب کے دارہ کو ختم کیا جائے۔ ملک میں کرپشن کرنے والے ہر اس فرد کا احتساب ہونا چاہئے جس نے ملک کو لوٹا ہے چاہے اس میں ملک کے وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں بھی چور بیٹھے ہیں اور اپوزیشن میں بھی چور موجود ہیں ۔ سراج الحق نے کہا کہ سپریم کورٹ پاکستان کے احکامات کی روشنی میں ملک میں مردم شماری کرائی جائے اور یہ فرض حکومت کی اولین فرائض میں شامل ہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبائی اور مرکزی سطح پر وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ممکن بنایا جائے۔ جس کے نہ ہونے سے براہ راست غریب متاثر ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ ملک سے لوٹنے والے پیسہ کو چھپانے کے لیے بیرون ملک بجھوا دیا جاتا ہے۔ ملک میں دنیا کا پانچواں بڑا سونے کا ذخیرہ موجود ہے لیکن پھر بھی پاکستان مختلف بحرانوں کا شکار ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے ہمیں متحد ہونا پڑے گا۔ پاکستان میں اگر حقیقی جمہوری پارٹی ہے تو وہ صرف جماعت اسلامی ہے ۔ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا اس کی طرف اٹھنے والا ہر ہاتھ توڑ دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی جرنیل وڈیروں نے نہیں بلکہ عوام نے بنایا ہے ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ مالی اور نظریاتی کرپشن کا خاتمہ کیا جائے آج جمہوریت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندر ہونے والے الیکشن بھی الیکشن کمیشن کے تحت ہونے چاہئے۔جمہوریت کیلئے وکلا برادری کی بڑی قربانیاں ہیں۔پرویز شرف اصل میں دل کی تکلیف میں مبتلا ہے۔وکلا نے پرویز مشرف کو انجام تک پہنچنانے میں اہم کردار ادا کیا۔سب کا یہ مطالبہ ہے کہ تبدیلی ہونی چاہیے ،۔تبدیلی سب سے پہلے اپنی ذات میں لاناہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ اپنی ذات سے شروع کی جائے ذاتی اصلاح اشد ضروری ہے ۔

مزید : لاہور


loading...