سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے چناﺅ کے لئے31اکتوبر کو میدان لگے گا

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے چناﺅ کے لئے31اکتوبر کو میدان لگے ...
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے چناﺅ کے لئے31اکتوبر کو میدان لگے گا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے چناﺅ کے لئے31اکتوبر کو پولنگ ہوگی ،ان انتخابات میں صدر ،نائب صدور ،سیکرٹری ،فنانس سیکرٹری ، ایڈیشنل سیکرٹری اور ممبران ایگزیکٹوکی سیٹوں پرمجموعی طورپر46امیدوار میدان میں آ گئے ہیں۔امیدواروں اور ان کے حامیوں کی طرف سے انتخابی مہم میں شہر شہر اور ڈور ٹو ڈور الیکشن مہم عروج پر پہنچ گئی ہے ۔

سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں 2651ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ صدارت کے عہدے کے لئے پروفیشنل گروپ کے رشید اے رضوی اور آزاد گروپ کے ڈاکٹرفاروق ایچ نائیک کے درمیان کاٹنے دار مقابلہ ہے ۔ سیکرٹری کے لئے آفتاب احمد باجوہ اور صفدر حسین تارڑ کے درمیان بھی سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ بار کی صدارت کے لئے اس مرتبہ مقابلہ کراچی کے امیدواروں کے درمیان ہوگاجس میں صدارت کے لئے پروفیشنل گروپ کی طرف سے پاکستان بارکونسل کے رکن رشید اے رضوی میدان میں ہیں جو وکلاءسیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں جبکہ ان کے مقابلے پر آزاد گروپ کے امیدوارڈاکٹرفاروق ایچ نائیک ہیںجو وکلاءسیاست کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں ،وہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سینیٹ کے چیئرمین اور وزیرقانون کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکے ہیں،دونوں امیدواروں کے درمیان کاٹنے دار مقابلے کی توقع ہے ،سیکرٹری کی سیٹ کے لئے آفتاب احمد باجوہ اور صفدر حسین تارڑ مقابلہ ہوگاجس میں آفتاب احمد باجوہ جو پچھلے الیکشن میں آزاد گروپ کے امیدوار تھے جو موجودہ سیکرٹری سپریم کورٹ بار اسد منظور بٹ سے صرف 5ووٹوں سے الیکشن ہار گئے تھے اس مرتبہ آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں تاہم انہیںپروفیشنل گروپ کی مکمل حمایت حاصل ہے ،ان کادعویٰ ہے کہ انہیں آزاد گروپ میں شامل مختلف دھڑوں کی حمایت بھی حاصل ہے ۔

ان کے مقابلے پر آزاد گروپ کی طرف سے صفدر حسین تارڑ مقابلے پر ہیں جو مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔سپریم کورٹ بارکے الیکشن میں نائب صدر پنجاب کے لئے بختیار علی سیال (آزاد گروپ) ہیں یہ بھی پچھلے الیکشن میں اسی گروپ کی طرف سے الیکشن لڑے تھے لیکن تابندہ اسلام سے الیکشن ہار گئے تھے،ان کے مقابلے پر محمد طارق ملک (پروفیشنل گروپ)ہیں۔ دیگر صوبوں سے نائب صدارت برائے بلوچستان کے لئے جعفر رضا خان اور وسیم خان جدون ،نائب صدارت سندھ کے لئے غلام شبیر شر،شکیل احمد اورمحمد سہیل حیات خان رانا ، نائب صدارت کے پی کے کے لئے محمد اجمل خان ،محمد حبیب قریشی ، اورتہمینہ محب اللہ امیدوار ہیں۔سیکرٹری شپ کے لئے آفتاب احمد باجوہ اور صفدر حسین تارڑ،ایڈیشنل سیکرٹری کے لئے چودھری محمد اسلم گھمن اور راجہ غضنفر علی خان ،فنانس سیکرٹری کے لئے ارشد زمان کیانی ، غلام محمد چودھری اور محمد احمد شاہ امیدوار ہیں جبکہ ایگزیکٹو ممبرز کی 14 سیٹوں پر 27 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ وکلاءسیاست میں برادری کی بنیاد پرراجپوت ، جٹ اور ارائیں برادری کے وکلاءالیکشن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔لاہور میں سب سے زیادہ ووٹ ہونے کی بنا پر یہ شہر انتخابی مہم کا مرکز بن چکا ہے ۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے 31 اکتوبر کو ہونیوالے سالانہ انتخابات کے لیے ووٹرز کی حتمی فہرست کے مطابق سپریم کورٹ بار کے 2951 اراکین رجسٹرڈووٹرہیں۔ سپریم کورٹ بار کے اعداد وشمار کے مطابق سب سے زیادہ ووٹرز کی تعداد لاہور میںہے جبکہ سب سے کم ووٹرز بہاولپور میں ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے31اکتوبر کو ہونےو الے انتخابات میں لاہورسے 1274، سندھ سے 485، اسلام آباد سے457، کے پی کے سے283، ملتان سے 194،بلوچستان سے169 اور بہاولپور سے 89 ووٹرزاپنا اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ امیدواروں کا چناﺅ کریں گے۔علاوہ ازیں الیکشن سال 2016-17کے لئے چیئرمین الیکشن بورڈ چوہدری افراسیاب خان کی جانب سے الیکشن شیڈول جاری کیا ہے۔

مزید : لاہور