مودی حکومت اور بھارتی فوج میں اختیارات کی نئی جنگ چھڑ گئی ،منوہر پاریکر اپنے جاری کئے خط سے مکر گئے ،فوج سے چھینے گئے اختیارات واپس کرنے کی یقین دہانی کرا دی

مودی حکومت اور بھارتی فوج میں اختیارات کی نئی جنگ چھڑ گئی ،منوہر پاریکر اپنے ...
مودی حکومت اور بھارتی فوج میں اختیارات کی نئی جنگ چھڑ گئی ،منوہر پاریکر اپنے جاری کئے خط سے مکر گئے ،فوج سے چھینے گئے اختیارات واپس کرنے کی یقین دہانی کرا دی

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں بھی فوج اور مودی حکومت میں ’’ اختیارات حاصل کرنے کی جنگ ‘‘اور کشمکش شروع ہو گئی ،فوج کو سول حکومت کے’’ نیچے لگانے کی کوششوں پر ملٹری قیادت نے تحفظات کا اظہار کر دیا ،انڈین وزیر دفاع نے فوجی حکام کے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانی کرا دی ،فوجی افسران کو انتظامی حکام کے ماتحت نہیں کیا جائے گا ،اگر اس حوالے سے کوئی ’’غلط فیصلہ ‘‘ ہوا بھی ہے تو 7روز کے اندر اندر اس کو ٹھیک کیا جائے گا ،منوہر پاریکر فوج کو ’’رام ‘‘ کرنے کے لئے میدان میں آ گئے ۔

بھارتی نجی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق انڈین وزارت دفاع نے 18اکتوبر کو ایک انتظامی مراسلہ جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ بھارتی فوج کا کرنل رینک کا ایک افسر آرمڈ سول فورسز کے جوائنٹ ڈاریکٹر کے برابر ہے جبکہ اس سے پہلے فوج یہ تصور کرتی تھی کہ فوج کا کرنل رینک کے افسر کے پاس سول فورسز کے ڈاریکٹر کے برابر اختیارات ہوتے ہیں ،اس مراسلے کے مطابق اب بھارتی فوج کا برگیڈئیر ڈاریکٹر کے برابر ہو گا،اس مراسلے سے پہلے ایک بھارتی فوج کے بر گیڈیئر کے پاس پرنسپل ڈائریکٹر کے برابر اختیارات تفویض تھے جبکہ میجر جنرل کے پاس جوائنٹ سیکرٹری کے برابر اختیارات تھے لیکن بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق بریگیڈیئر اب ڈائریکٹر کے برابر ہوگا تو میجر جنرل اب پرنسپل ڈائریکٹر کے برابر ہو گا،وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والا خط وزیر دفاع منوہر پاریکر کیاجازت سے جاری کیا گیا لیکن بھارتی فوج کی جانب سے اختیارات میں کٹوتی پر’’ آنکھیں دکھانے ‘‘ سے منوہر پاریکر ’’بھیگی بلی بن گئے اور کہا کہ ان کے علم میں لائے بغیر وزارت دفاع کی جانب سے فوج کے اختیارات میں کمی کا مراسلہ جاری کیا گیا ۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ وزرات دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے خط نے فوجی حکام نے شدید ناراضگی اور غسے کا اظہار کیا ہے ،ٹی وی کیمروں کے سامنے تو فوجی افسران کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن ’’آف کیمرہ ‘‘ فوجی افسران کا کہنا ہے کہ مودی حکومت جان بوجھ کر فوجی افسران کو سول حکام کے ’’نیچے ‘‘ لگانے کی کوشش کر رہی

ہے ۔

فوج میں ’’آسام رائفلز ‘‘ کے سابق ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل رامیشور رائے نے کہا کہ مودی حکومت کس کو بیوقوف بنا رہی ہے ،آج تک فوج کے مطالبات کو لے کر کئی کمیٹیاں بنیں ،کیا حالات سدھرے؟ ہم تو بس اتنا ہی کہہ رہے ہیں کہ جتنا سول ملازمین کو دے رہے ہیں، اتنا ہمیں بھی دے دو، لیکن نہیں اس معاملے پر حکومت کئی راستے تلاش کر لیتی ہے لیکن اس کے باوجود جب کوئی بھی بحران آتا ہے، ساری حکومتی مشینری فیل ہو جاتی ہے تو ایک فوج ہی ہے جو حالات کو سنبھال لیتی ہے، لیکن بات جب عہدے اور پیسہ دینے کی آتی ہے تو ہر کوئی کنی کتراتا نظر آتا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی فوج اور حکومت کے درمیان ساتویں تنخواہ کمیشن،  رینک ،  پنشن، معذوری پنشن سمیت کئی دیگر مسائل  پر شدید اختلافات چل رہے ہیں ،ایسے میں وزارت دفاع کے اس’’ مراسلہ بم‘‘ نے جلتی میں تیل کا کام کیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...