سعودی عرب میں کتنے لوگ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

سعودی عرب میں کتنے لوگ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں؟ جان کر آپ حیران رہ ...
سعودی عرب میں کتنے لوگ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

  

جدہ(غلام نبی مدنی)سعودی سرکاری اعدادوشمار کی جنرل اتھارٹی نے 2016 میں باقاعدہ ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے پانچ  لاکھ سے زائد سعودی ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں لیکن اس رپورٹ میں تعدد ازواج کے اسباب بیان نہیں کے گئے۔

عرب میڈیا کے مطابق چالیس سے 50 سال کی عمر کے 73171 ایسے افراد ہیں جن کی ایک سے زائد بیویاں ہیں۔50 سے 55 کے درمیان متعدد بیویاں رکھنے والے 73128 ہیں۔ 70452 افراد وہ ہیں جن کی عمر55 سے 60 سال کے درمیان ہے اور وہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 15 سے 20 سال کے نوجوان صرف ایک بیوی رکھتے ہیں۔جب کہ 20 سال سے 25 سالے والے 869 افراد ایسے ہیں جن کی دو بیویاں ہیں تاہم دوسری سعودی گزٹ کاکہناہے کہ دو بیگمات رکھنے والے بیشتر مردوں کی عمریں 45 سے 48 سال کے درمیان ہیں۔30سے 34 سال کے 18246 افراد دوبیگمات رکھتے ہیں اور ان میں سے 539 افراد کی دو سے بھی زیادہ بیگمات ہیں۔ 35 سے 39 سال کے 30600 افراد کی دو بیگمات اور مجموعی تعداد میں سے 2668 افراد کی دو سے زیادہ ہیں۔

ازدواجی اور فیملی کنسلٹنٹ ڈاکٹر منصور الدھیمان کے مطابق 40 سے زائد عمر والے افراد چوں کہ مالی طور پر عموما دوسری شادی پر قادر ہوتے ہیں اس لیے تعدد ازواج کا زیادہ تر رجحان ایسے افراد کے ہاں زیادہ ہے بنسبت کم عمر والے نوجوانوں کے۔ ڈاکٹر منصور کے مطابق تعدد ازواج کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں جن میں سے ایک تو شرعی حکم پر عمل کرنا،پہلی بیوی کا جسمانی طور بچے جننے کا اہل نہ ہونا،مرد کا جنسی طور پر دوسری بیوی کا حاجت مند ہونا،میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کا ہونا۔جب کہ کچھ لوگ محض خاندانی رواج کے باعث تعدد ازواج کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اور کچھ لوگ کثرت اولاد کی وجہ سے تعدد ازواج کو پسند کرتے ہیں ۔

دوسری طرف پہلی بیوی عموما مرد کی دوسری شادی کی اس لیے حامی نہیں ہوتی کہ عام طور پر خاوند دونوں بیویوں کی درمیان میانہ روی نہیں رکھ پاتا اور بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ نہیں رکھ پاتا۔

یاد رہے سعودی معاشرہ چوں کہ عرب معاشرہ ہے اور عربوں کے ہاں تعدد ازواج ایک رواج تھا جس کی وجہ کثرت اولاد پر ان کا فخر کرنا بتایا جاتا ہے۔جب کہ حدیث میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زیادہ محبت کرنی والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو میں قیامت میں کثرت امت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔(رواہ أبوداؤد)

اسی وجہ سعودی عرب میں تعدد ازواج عام بات ہے۔لیکن دوسری طرف نوجوانوں کے ہاں مالی وسائل کی کمی اور مہر کی زیادتی کی وجہ سے پہلی شادی میں تاخیر بہت عام ہوگئی ہے جس کی وجہ سے نوجوان کافی پریشان دکھائے دیتے ہیں۔

مزید : عرب دنیا