سی پی این ای کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد,سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت، کانفرنس کا مقصد تمام سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا: اعجازالحق

سی پی این ای کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد,سیاسی و سماجی شخصیات ...
سی پی این ای کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد,سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت، کانفرنس کا مقصد تمام سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا: اعجازالحق

  

اسلام آباد (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے زیر اہتمام قومی یکجہتی کانفرنس نے آئین و قانون کی مکمل بالادستی اور جمہوریت کے تسلسل کا تہیہ کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان اتفاق رائے کو فروغ دینے، نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل کرانے اور مملکت، عوام اور ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ بننے والے نان اسٹیٹ ایکٹرز، کالعدم تنظیموں کیخلاف بلا امتیاز کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اور مسلح افواج کی قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

پیر کو نجی ہوٹل میں منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس میں منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہم نے تہیہ کر رکھا ہے (اے) آئین، قانون کی حکمرانی کی بالادستی، شراکتی جمہوریت، جمہوریت کے تسلسل اور بلا امتیاز تمام شہریوں کے لئے برابر کے انسانی حقوق کے احترام اور انہیں منوانے کے ہم پر جوش حامی رہیں گے۔ (بی) پر تشدد انتہا پسندی، ہر شکل کی دہشت گردی اور پراکسی جنگوں کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ (سی) اچھی گورننس، شفافیت، احتساب، جاننے کے حق، آزادی اظہار، خاص طور پر میڈیا کی آزادی کو فروغ دیتے رہیں گے۔ (ڈی) اس خطے میں امن، باہمی مفاد کے تعلقات اور مختلف ملکوں خصوصاً پڑوسی ملکوں کے درمیان برابری اور خودمختاری کی بنیاد پر امن بقائے باہم۔ (ای) تمام دو طرفہ تنازعات کا تصفیہ پر امن طریقوں سے کیا جائے اور اس مقصد سے بلا روک ٹوک با مقصد مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ (ایف) ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم حق اور سچ لکھیں گے اور حق اور سچ کا ساتھ دیں گے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1۔ تمام سیاسی جماعتیں، تمام حکومتیں اور مملکت کے تمام ادارے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کریں اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ 2۔ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام لوگوں، خاص طور پر مسلح افواج، قانون نافذ کرنےوالے اداروں اور قبائلی خطے کے عوام کی شاندار قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جبکہ مملکت، عوام اور پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے نان اسٹیٹ ایکٹرز، کالعدم تنظیموں اور ان تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 3۔ ہم جمہوری حقوق کا پورا احترام کرتے ہیں جن میں پر امن اجتماع اور بلا تشدد احتجاج اور ایسی کاروائیوں کا حق شامل ہے جن سے تحفظ عامہ، امن و سکون، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی متاثر نہ ہو اور وہ جمہوری اقدار جو پر امن رہنے کا تقاضا کرتی ہیں۔ عدالتی ثالثی، ایک دوسرے کے لئے پارلیمانی رواداری جاری رہے اور جمہوری ڈھانچے کو غیر مستحکم کرنے اور آئینی نظام کے بریک ڈاو¿ن کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا جائے۔ 4۔ اعتماد پیدا کرنےوالے ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے پڑوسی ملکوں سے کشیدگی میں کمی آئے۔ تشویش کا باعث بننے والے تمام معاملات پر مذاکرات کا سلسلہ بحال ہو، جنگ بندی اور سرحدوں کی مو¿ثر نگرانی برقرار رکھی جائے اور مشترکہ طور پر دہشت گردی سے لڑنے کا طریقہ کار وضح کیا جائے۔ 5۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان قومی اتفاق رائے کو فروغ دیا جائے تاکہ گورننس کو بہتر بنانے کے لئے ہمہ جہتی اصلاحات کی جا سکیں، چیک اینڈ بیلنس کی بنیاد ڈالی جا سکے اور شفاف نظام، مانیٹرنگ اور احتساب کو کسی امتیاز کے بغیر جاری رکھا جاسکے۔ 6۔ سی پی این ای سے مشاورت کے بعد معلومات تک رسائی کے قانون کو نافذ کیا جائے۔ 7۔ بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کے امن پسند عوام پر بھارتی سیکورٹی فورسز کے مظالم کا خاتمہ کیا جائے اور عالمی برادری سے اپیل کی جائے کہ وہ حق خود اختیاری کے حصول میں کشمیری عوام کی مدد کرے اور ایل او سی اور پاک بھارت سرحدوں پر جنگ بندی برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ 8۔اس خطے کے تمام ممالک ہر قسم کی دہشت گردی کو شکست دینے، تخریب کاری، پراکسی جنگیں روکنے کے لئے مو¿ثر اقدامات کریں۔ 9۔ اس خطے کے ملکوں کے درمیان پر امن ماحول بحال اور جنگ بھڑکانے والے طرز عمل اور جنگجوازم کا خاتمہ کیا جائے۔ 10۔ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ نفرت اور مایوسی پھیلانے والوں کے ہاتھوں آلہ کار بننے کے بجائے اعتدال، برداشت، توازن کا راستہ اختیار کرے اور مثبت اقدار پر عمل کرے۔ قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ مظاہرہ کرنا ہر شخص کا حق ہے لیکن ریاست کو طاقت کے ذریعے جام کرنے کی دھمکی فاشزم ہے، طاقت کے ذریعے نظام کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، طاقت کے ذریعے اپنا ایجنڈا مسلط کرنا فسطائیت ہے، آج اگر عمران خان چند ہزار لوگوں کو جمع کر کے غیر جمہوری طریقے سے اپنا ایجنڈا مسلط کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آئندہ کوئی بھی حکومت 6 ماہ سے زیادہ نہیں چل سکے گی، وزیر اعظم نے کہہ دیا ہے وہ اپنا اور خاندان کا عدالت میں دفاع کریں گے، پانامہ لیکس پر عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے، آف شور کمپنی رکھنا جرم نہیں، دنیا کا ہر دولت مند شخص آف شور کمپنی رکھتا ہے، اگر یہ جرم ہے تو پھر عمران خان اور ان کے ساتھ بھی مجرم ہیں، عمران خان اقتدار میں آنے کے لئے چور دروازے تلاش کر رہے ہیں، بنکاک میں پیلے قی مضوں والوں کو پتہ تھا ان کے احتجاج سے انہیں اقتدار نہیں ملے گا لیکن وہ مارشل لاءلگا کر چلے گئے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ حالات میں یکجہتی وقت کا تقاضا ہے، ملک کو درپیش مسائل کے پیش نظر قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوج کی پشت پر کھڑی ہو، موجودہ حالات میں کسی کو دفاعی پوزیشن پر لانا مناسب نہیں ہے، طاقت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کرنے سے قومی یکجہتی پیدا نہیں ہو سکتی، یکجہتی اداروں کے اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے سے آئے گی، کوئی حکومت دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے آئین پر عملدرآمد کیا لیکن عملدرآمد نہ ہونے کی بنیاد پر کسی کا گریبان پکڑ کر تھپڑ مارنا درست عمل نہیں ہے، سیاست میں اختلافات رائے ہوتا ہے دشمنیاں نہیں ہوتیں، سیاسی حکومتوں سے غلطیاں سرزد ہوئی ہوں گی لیکن طاقت کے ذریعے غیر جمہوری راستہ اختیار کرنے کے بجائے آئندہ الیکشن کا انتظار کیا جائے جس میں لوگ وعدے پورے نہ کرنےوالوں کو خود سزا دیں گے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے بنائے گئے قانون میں امتیاز برتا گیا اور امتیازی قانون کبھی کامیاب نہیں ہوتا، جنہوں نے متنازعہ قانون بنایا وہ بھی اس کی زد میں آگئے، ملک میں جب تک انسانی، جانی اور مالی حقوق محفوظ نہیں ہوں گے امن قائم نہیں ہوگا، میڈیا تلخ رویوں کو رواج دے رہا ہے، پارلیمنٹ کے اصلاح کی ضرورت ہے تو میڈیا کے اصلاح کی بھی شدت سے ضرورت ہے، آزمائش کا ملکر مقابلہ کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سیاسی قوتوں کو طے کرنا ہوگا فیصلے اصول نے کرنے ہیں، دلیل نے کرنے ہیں یا طاقت نے کرنے ہیں؟۔ پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنی تحریک کو نئے عروج پر پہنچا دیا ہے، مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک تحت لاہور کی طرح نہیں چل سکتا، مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ بلانا اور این ایف سی کی بات نہ کرنے کا مطلب ہے حکومت اس نظام کو نہیں مان رہی، پارلیمان شراکت داری سے بنتی ہے جس میں حکومت کو جھکنا پڑتا ہے، اپوزیشن کے مطالبات کو ماننا پڑیگا، شراکت داری اسے نہیں کہتے کہ کوئی ایک صوبے سے جیت کر اندھی حکمرانی کرے، حکمرانوں کے پاس قرضے لینے کے بغیر کوئی ذریعہ معاش نہیں، ملک کو گروی رکھ دیا گیا ہے، اسے درباری طریقے سے چلانا اب ممکن نہیں، وزیر اعظم کے عہدے کو متنازعہ نہیں بنائیں گے تاہم ملک میں جاری احتساب کا عمل پیچھے نہیں ہو سکتا، حکومت پاناما پیپرز پر پیپلزپارٹی کے بل کو پاس کرنے دے، سی پیک کو متنازعہ ہونے سے بچایا جائے، پاک فوج کسی میدان میں تنہا نہیں، اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جب تک ملک میں انصاف پر مبنی نظام یقینی نہیں بنایا جاتا قومی یکجہتی قائم نہیں کی جا سکتی، پوری قوم کو یک جا ہو کر کشمیریوں کا ساتھ دینا ہوگا، ملک میں غربت اور تعلیم کا مسئلہ اس وقت حل ہوگا جب غریب عوام کا غریب نمائندہ پارلیمنٹ میں پہنچے گا، حکمرانوں کو آئین میں اپنے حقوق کے آرٹیکل نظر آتے ہیں لیکن غریبوں کے حقوق کے بارے میں کوئی آرٹیکل نظر نہیں آتا، وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے پچھلے دھرنے کے دوران کئے گئے وعدوں میں ایک بھی وفا نہیں کیا، ملک کو آٹے اور چینی کے بحران سے زیادہ قیادت کے بحران کا سامنا ہے، دائیں اور بائیں کی سیاست کے بجائے ہمیں درست اور غلط کی سیاست کرنا ہوگی، جب تک قانون، آئین اور میرٹ کی بالادستی نہیں ہوگی خودکش بمبار ملتے رہیں گے، مسلح دہشت گردی بھی ایک مسئلہ ہے لیکن اس سے بڑا مسئلہ معاشی اور سیاسی و دہشت گردی ہے، غیر آئینی طریقے سے کامیابی کو کامیابی نہیں سمجھتا، اگر غیر آئینی طریقوں سے معاملات چلائے جائیں گے تو ہمیں کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں، ایک سیاسی ورکر کے طور پر میری تجویز ہے کہ ملک میں پانچ سالہ دور حکومت کا تجزیہ ناکام ہو چکا، اب حکومتوں کا دورانیہ چار سال ہونا چاہئے، ڈیلیور کرنے کے لئے چار سال کافی ہیں، اگر ایک جماعت ڈیلیور نہیں کر رہی تو اسے پانچ سال تک عوام پر مسلط نہیں رہنا چاہئے۔ ایم کیو ایم (پاکستان) کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے ٹیکسوںکا ظالمانہ نظام ختم کرنے اور کراچی کو سیاسی اونرشپ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری نہ ہونے کا ملک کو نقصان ہوا ہے۔ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل اعجازالحق نے کہا کہ کانفرنس کا انعقاد سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لئے کیا گیا ہے، اپوزیشن رہنماو¿ں کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم مصروفیات کے باعث شرکت نہ کر سکے۔ اے این پی این کے رہنما افراسیاب خٹک نے پڑوسیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے اور سی پیک کے مغربی روٹ کو نظرانداز کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ جمہوری حکومتوں کی کارکردگی مثالی نہیں لیکن سی پی این ای غیر جمہوری طریقے سے حکومت کی تبدیلی کی مزاحمت کرے گی۔ تقریب سے سی پی این ای کے صدر ضیا شاہد، نائب صدر مہتاب خان، جمیل اظہر قاضی، امتیاز عالم، ڈاکٹر جبار خٹک، سابق ڈپٹی سیکریٹری بلوچستان اسمبلی وزیر جوگیزئی اور اکرام سہگل نے بھی خطاب۔ اس موقع پر ملک بھر سے آئے سینئر ایڈیٹروں، صحافیوں اور کالم نویسوں سمیتبڑی تعداد میں سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی.

مزید : اسلام آباد