2018ءکے الیکشن میں پاناما لیکس کا بوجھ اٹھا کر حصہ نہیں لیں گے:خواجہ سعد رفیق

2018ءکے الیکشن میں پاناما لیکس کا بوجھ اٹھا کر حصہ نہیں لیں گے:خواجہ سعد رفیق
2018ءکے الیکشن میں پاناما لیکس کا بوجھ اٹھا کر حصہ نہیں لیں گے:خواجہ سعد رفیق

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر درخواست پر اعتراض نہیں اٹھائیں گے،2018ء کے الیکشن میں پاناما لیکس کا بوجھ اٹھا کر حصہ نہیں لیں گے،پانامہ لیکس پر ہم نے سپریم کورٹ کے کسی بھی باعزت ریٹائرڈ جج کا کمیشن بنانے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن کے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے کوئی بھی معزز جج اس کے لیے راضی نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں:پاک فوج کا کوئی ثانی نہیں ، سرحدوں سے پار ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ سی پیک پر عمل درآمد نہ ہو ، میرے لیڈرکوکوئی کچھ کہے گاتوحساب برابرکروں گا:خواجہ محمد آصف

نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز ‘‘کے پروگرام’’آج شاہزیب خانزداہ میں ‘‘گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاناما پیپرز پراپنی ذمہ داری پوری طرح سے ادا کی ہے، حکومت تو شروع دن سے ہی اس معاملے پر کلیئر ہے اور اس کا شفاف حل چاہتی ہے ، ہم نے اسی پاکستانی قانون کے تحت سپریم کورٹ کو خط لکھا جس کے تحت پاکستانی عدالت عظمیٰ کئی کمیشن بنا کے نتائج سامنے لاتی رہی ہے، بہر حال اس بار سپریم کورٹ نے مناسب نہیں سمجھا اور اس کا جواب واپس بھیج دیا، اس کے بعد ٹی او آرز کے لیے اپوزیشن سے طویل بات چیت کی جس سے بھی اپوزیشن کی غیر سنجیدگی عیاں تھی، اپوزیشن نے ایک آدمی کو ہدف بنائے رکھا ہے،عمران خان اور بعض دوسرے لوگ چھچھورے پن کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، اپوزیشن میں قابل عزت لوگ بھی ہیں جن کی بات میں وزن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے قانونی ماہرین کے مطابق عدالت عظمیٰ کے نوٹسز جاری کرنے کی رفتار تیز ہے لیکن پھر بھی ہم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس کا خیر مقدم کیاکیونکہ ہمارا دامن صاف ہے، ہم نے تویہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اس درخواست پر کوئی اعتراض بھی نہیں اٹھائیں گے تاکہ عدالت عظمیٰ اس کیس کا فیصلہ کر سکے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمارے و کلا کے مطابق پاناما لیکس کیس میں بھی ٹیکنیکل خامیاں ہیں اور پٹیشن کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا ، پاناما معاملے کی تحقیققات کے لیے سپریم کورٹ سے بہتر فورم کوئی بھی نہیں اور اب سپریم کورٹ جو فیصلہ کرے گی ہمیں قبول ہوگا، اس لیے عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی عدالت لگانے کی بجائے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا انتظار کرے،جب ہمارے مخالفین سپریم کورٹ میں چلے بھی گئے ہیں اور ہم نے بھی اس عمل کوخوش آمدید کہا ہے تو پھر یہ سارا گھیراو جلاؤیا لاک ڈاؤن کس لیے ہے؟ اس کا کوئی جواز نہیں بنتا، ایسا کرنے سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا جو ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ بھارت میں جمہوریت کی عمر پاکستان سے زیادہ ہے اس لیے وہ ہم سے آگے ہیں، ہم نے پانامہ پیپرز کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے،اپوزیشن اس معاملے میں سنجیدہ نہیں تھی اور نہ ہے،ٹی او آر کمیٹی کے اجلاسوں کو اعتراز احسن اور تحریک انصاف نے ذاتی سوالات کا فورم بنالیا تھا،جس پر بھی الزام لگے گا انصاف عدالت کرے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم کبھی بھی اسلام آباد کو بند کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔

مزید : قومی