100ٹرک امدادی سامان، سری نگر جانے دیجیے

100ٹرک امدادی سامان، سری نگر جانے دیجیے
100ٹرک امدادی سامان، سری نگر جانے دیجیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


یہ برادرم نواز کھرل کی مہربانی ہے کہ وہ جب بھی کسی کارِ خیر کا بیڑہ اٹھاتے ہیں تو کسی نہ کسی طرح اپنے دوستوں کو بھی اس میں شریک کرنے کی سچی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے انہیں آج تک کبھی کسی کے سامنے اپنے کسی ذاتی کام کے سلسلے میں گڑگڑاتے نہیں دیکھا۔ جب بھی دیکھا وہ کسی اجتماعی کارِ خیر میں مشغول و منہمک دکھائی دیے۔ ان کے سارے دوست بھی انھی جیسے ہیں۔ دلِ پُر درد رکھنے والے، خدمت کے جذبے سے سرشار، مردِ میدان، اہلِ ایمان۔ جیب خالی ہے تو کیا ہوا، جیب کے نیچے دھڑکتے دل میں درد تو ہے۔ یہی درد کی دولت آدمی کو امیر بناتی ہے:


خالی ہے اگر جیب زر و سیم و گہر سے
اس درد کی دولت سے بھی بے گانہ کیا جائے
یہ شاعر کی سوچ ہو سکتی ہے لیکن نواز کھرل اور ان کے دوستوں کی سوچ ہرگز نہیں ہو سکتی۔ عبدالرزاق ساجد بھی نواز کھرل کے ان دوستوں میں شامل ہیں جو بیرون ملک ہونے کے باوجود اپنے ہم وطن اور ہم مذہب بہن بھائیوں کے دکھوں کو خوشیوں میں اور مسائل کو وسائل میں بدلنے کی آرزو دل میں لئے پھرتے ہیں۔ نہ صرف آرزو دل میں رکھتے ہیں بلکہ اس آرزو کی تعبیر و تشکیل کے لیے دوڑدھوپ بھی کرتے ہیں۔عبدالرزاق ساجد، نواز کھرل کے زمانہ ء طالب علمی کے ساتھی ہیں۔ دونوں کسی زمانے میں انجمن طلبائے اسلام سے وابستہ تھے۔ عبدالرزاق ساجد پچھلے کئی برسوں سے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ وطن سے دور جاکر، ان کے دلِ پُر درد میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ یوں پیدا ہُوا کہ اب ان کے پاؤں کسی مقام پر رکتے ہی نہیں۔ وہ ہر لمحہ سرگرم نظر آتے ہیں۔


مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتِ حال نے جہاں ہم سب کو دکھی اور پریشان کر رکھا ہے۔ وہاں عبدالرزاق ساجد کے بھی آنسو تھمنے میں نہیں آ رہے۔ انھوں نے المصطفےٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنا رکھا ہے۔ جسے خدمتِ خلق کا جذبہ رکھنے والے بہت سے دوستوں کی شراکت اور محبت نے انتہائی فعال بنا دیا ہے۔26اکتوبر کو وہ 100ٹرکوں پر مشتمل سامانِ خورونوش اور ادویات مظفرآباد سے چکوٹھی کے راستے سری نگر بھیجنے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حالات میں یہ ایک مشکل اور ناممکن کام دکھائی دیتا ہے اور بھارت جیسے بدخصلت اور بدنیت دشمن کے ہوتے ہوئے یہ کام خطرناک بھی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ پچھلے آٹھ عشروں سے اپنے گھروں میں محبوس کشمیریوں تک یہ سامان پہنچا کر ہی دم لیں گے۔ نیت سچی ہو تو ارادے ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتےّ ذرا آپ سوچیے کہ اگر آپ کو ایک ہفتے کے لیے آپ کے اپنے ہی گھر میں محبوس کر دیا جائے تو آپ کا کیا حال ہو گا؟

آپ اشیائے ضرورت خرید سکتے ہوں نہ بیماروں کے لیے ادویات تو کیا حالت ہو گی آپ کی؟ ہمارے کشمیری بہن بھائی تو پچھلے 80دنوں سے اپنے گھروں میں مقید ہیں۔ آپ خود ہی سوچیے کہ کیا ان کے گھروں میں کھانے پینے کی چیزیں ہو گی؟ وردیوں میں ملبوس بھارتی درندے انھیں گھروں سے باہر ہی نہیں نکلنے دے رہے۔ اتنا بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن نام نہاد مہذب دنیا چپ ہے۔ وہ لوگ جو مرغیوں، کتوں اور گائے بھینسوں کی زندگیاں بچا کر انسانیت کے تمغے اپنے سینوں پر سجاتے ہیں، لاکھوں کشمیریوں کے زخم دیکھ کر بھی چپ ہیں۔ اگر خدانخواستہ اب بھی نام نہاد مہذب دنیا چپ رہی تو ایسا الم ناک انسانی سانحہ رونما ہو گا کہ زمانہ روئے گا۔ جناب عبدالرزاق ساجد نے اس ساری صورتِ حال کو دیکھ کر خدمات کا رخ کشمیر کی طرف کردیا ہے۔


دنیا کے 22 ممالک میں انسانیت کی بے لوث خدمت کے لیے سرگرم عمل عالمی فلاحی تنظیم ”المصطفی ویلفیئر ٹرسٹ“ نے 22ملکوں میں قائم اپنے انٹرنیشنل نیٹ ورک کے ذریعے پچھلے ایک ماہ سے ”سیو آور چلڈرنز ان کشمیر“ مہم شروع کر رکھی ہے۔ المصطفیٰ سیاست اور پاک بھارت تنازعات سے بالاتر ہو کر خالصتا انسانی بنیادوں پر کشمیری بچوں کی قیمتی جانیں بچانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں ”ریلیف مشن فار چلڈرن“ شروع کرنے کے لئے مسلسل آواز اٹھا رہی ہے، لیکن بھارتی حکومت کی طرف سے ابھی تک حوصلہ افزاء جواب نہیں ملا۔ المصطفیٰ کی طرف سے دنیا بھر کے سربراہان مملکت کو خطوط لکھ کر مدد کی اپیل بھی کی گئی ہے اور اسلام آباد و لندن میں مقیم سفیروں کو بھی خصوصی مکتوب پہنچایا گیا ہے۔ ان کے تاریخی کاروان میں برطانیہ، پاکستان کے ممبران پارلیمنٹ، برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے ممبران، دانشور، کالم نگار، شاعر، ادیب، وکلاء، علماء، مشائخ، ریٹائرڈ ججز، سابق فوجی افسران، سول سوسائٹی کے اہم افراد،اخبارات کے ایڈیٹرز، ٹی وی اینکرز، کھلاڑی، انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندے، کاروباری شخصیات شریک ہوں گی۔ ان کی کوشش ہے کہ عالمی اداروں کے ذریعے بھارتی حکومت کو کشمیری بچوں کے لیے 100ٹرکوں کا سامان چکوٹھی بارڈر پر وصول کرکے سری نگر پہنچانے پر آمادہ کیا جائے۔


میرا خیال ہے کہ اگر عبدالرزاق ساجد کا المصطفےٰ ویلفیئر ٹرسٹ اس کوشش میں کامیاب ہو گیا تو کشمیری بہن بھائیوں کی مشکلات میں کسی حد تک کمی آ جائے گی، کیونکہ یہ خالصتاً انسانی خدمت کا کام ہے اس میں سیاسی دکانداری چمکانے کا شائبہ تک نہیں۔اقوام متحدہ کے کتنے ہی ادارے اور کتنے ہی مہذب ملک آفت زدہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات پہنچانے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 دنوں سے اپنے ہی گھروں میں چند کشمیریوں کو بھی آفت زدہ کیوں نہیں سمجھ لیا جاتا؟

مزید :

رائے -کالم -