دہشت گرد عمیر، منیبہ اور حدیبہ کے نام

دہشت گرد عمیر، منیبہ اور حدیبہ کے نام
 دہشت گرد عمیر، منیبہ اور حدیبہ کے نام

  



مسٹر عمیر

مس منیبہ

مس حدیبہ

آپ دہشت گرد ہیں اور ہاں آپ کے سانحہ ساہیوال میں مارے جانے والے والدین اور آپ کی معصوم بہن بھی دہشت گرد تھے اور وہ جو آپکے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتی تھی،ٹافیوں گڑیوں اور کھلونوں پر لڑتی تھی،وہی آپکی بہن جو بات بات پہ روٹھتی اور من جاتی تھی،اس دہشت گرد کا مارا جانابھی بچوں کا کھیل تھا،جب آپ بڑے ہونگے تو سب کو بتانا کہ آپکی آنکھوں کے سامنے آپ کے دہشت گرد والدین کو مارا گیا،ویسے ہو بڑے خوش قسمت آپ دہشت گردوں کے گھر کون کون نہیں آیا۔کہاں کہاں بلا کے تعزیت نہیں کی گئی۔تم سمجھے تمہیں انصاف ملے گا۔

مل تو گیا انصاف بلکہ وہ تو آپکے بنک اکا?نٹس میں منتقل بھی ہوچکا۔آپکی دادی کو کہاں کہاں نہ بلا کے گھنٹوں انتظار کراکے تعزیت نہ کی گئی۔سنا ہے وہ کہتی ہیں جو چلے گئے چلے گئے میں باقیوں کو کھونا نہیں چاہتی۔یہ تم سب لواحقین ایک سی زبان کیوں بولتے ہو؟ایسی ہی بات سندھی وڈیرے شاہ رخ جتوئی کے ہاتھوں مارے جانے والے شاہ زیب کے والدین بھی کہتے تھے۔یہ اپنا پاگل صلاح الدین کا باپ بھی ایسی ہی بکواس کرتا ہے۔کانجو کے بیٹے کے ہاتھوں بھرے بازار میں مارے جانے والے جوان کی ماں بھی کہتی تھی۔ماڈل ٹا?ن میں مارے جانے والوں کے ورثا تو ویسے ہی گونگے ہوگئے ہیں۔چلو یار ان سب نے جی کر کیا کرلینا تھا۔اچھا ہے تم سب نے ان کے کچھ نہ کچھ پیسے وٹ لیے۔

ایسا نہیں کہ قانون اندھا ہے وہ سب کو شک کا فائدہ دیتا ہے۔جیسے سانحہ ساہیوال میں مل گیا۔بس سمجھ لو سب شک کے فائدے انکے لیے اور یقین کے نقصان ہمارے۔اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوگا کہ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ انصاف سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔او ننھے دہشت گردو عدا لتوں کے کٹہروں میں سب مکر جاتے ہیں یہ ایسا طلسم ہے کہ قانون تو ہوتا ہی اندھا ہے گواہ بھی اندھے ہوجاتے ہیں وہ کسی کو بھی پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں،شکر کرو تم زندہ ہو ابھی تک شک کا فائدہ حاصل کرنے والوں کی تم پر نظر نہیں پڑی۔

یاد رکھواگر فیصلے سے مطمئن نہ ہوئے تو تمہیں مطمئن کردیا جائے گا،انہیں مطمئن کرنا آتا ہے،،

اب میں اور کیا کہوں میرے الفاظ بھی تمہاری طرح بے بس ہیں۔ سچی بات ہے کہ یہ میرے لفظ بھی بس سسکیاں ہیں وہی سسکیاں جو تم اکثر راتوں کے اندھیرے میں بھرتے ہو،کیا کریں ہمارے آنسو بھی کسی کام کے نہیں۔نہ آنسو نہ آہیں نہ سسکیاں، سب رائیگاں۔ہمارے خون کی طرح رائیگاں،کوئی سسکی کوئی آہ کوئی چیخ عرش تک پہنچتی ہی نہیں۔طاقتور مارے جارہا ہے اور ہم مرے جارہے ہیں۔پلیٹ لیس چھوڑو تمہارے خون کا آخری قطرہ بھی رزق خاک ہوجائے گا،،، لیکن کہیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گانہ تم بلاول نہ مریم نہ بختاور کوئی تمہارا درد کیوں محسوس کرے۔سمندر میں لہریں شور کرتی ہیں۔وہی سب کو نظر آتا ہے،، تہہ سمندر کی خاموشی کو کون جانے۔

جو بھی ہے میری بے بس تعزیت وصول کرو،میں یہ ہی کرسکتا تھا،میں معافی مانگتا ہوں میرا سر شرمندگی میں جھکا ہے،،میں ایسے معاشرے کا حصہ ہوں جہاں ظلم کو انصاف کا نام دیا جاتا ہے۔یہ آئین یہ نظام یہ قانون تمہیں اور تم جیسوں کو انصاف نہ دے سکا۔یہ صرف شک کے فائدے دینے کے لیے بناہے۔پرانا پاکستان ہو یا نیا پاکستان سب تم جیسوں کو بے وقوف بنانے کے دھندے ہیں۔انہوں نے مارتے رہنا ہے اور ہم نے مرتے رہنا ہے۔

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقین تھا ہمارا قصور نکلے گا

مزید : رائے /کالم