آزادی مارچ ضرور، غیر آئینی اقدام ناقابل برداشت ہوگا، فیصل جاوید

آزادی مارچ ضرور، غیر آئینی اقدام ناقابل برداشت ہوگا، فیصل جاوید

  



اسلام آباد (آ ئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے آزادی مارچ میں کسی بھی غیر آئینی اقدام جس سے قومی مفادات اور مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچ سکتا ہے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ ملک کو پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگومیں انہوں نے جے یو آئی(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو منتخب جمہوری حکومت کیخلاف سازش قراردیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا، احتجاج پرامن ہونا چاہئے، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا ٹھیک نہیں ہوگا۔ مولانا کے آزادی مارچ کے اعلان سے مسئلہ کشمیر پس منظر میں چلا گیا ہے جو کشمیری عوام کیساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہا وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ پانچ دہائیوں سے جاری مسئلہ کشمیر کوعالمی سطح پر اجاگر کر کے دنیا کی توجہ اس پر مبذول کرائی، مولانا فضل الرحمان دھرنوں اور محاذ آرائی کی سیاست کے ذریعہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں اورملک میں مظا ہروں، مارچوں کا ڈرامہ پیش کرکے مسئلہ کشمیر سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، مولانا کے ایجنڈے کا مقصد تباہی و چور دروازوں سے نشستیں حاصل کرنا ہے جبکہ عمران خان کا ایجنڈا پاکستان کو مضبوط و خوشحال بنانا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مذموم منصوبوں کو ناکام بنانا ہے، شرکا آزادی مارچ کے پرامن نہ رہنے کی صورت میں اسلام آباد میں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔مولانا فضل الرحمن کشمیر کاز کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادی مارچ کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔فیصل جاویدکا مزید کہنا تھا مولانا فضل الرحمن ماضی میں ہر حکومت کی بس میں بیٹھے، صرف اس بار بے بس ہیں، اگر مولانا کو کوئی عہدہ مل جاتا ہے تو وہ مارچ کیلئے اپنی کال واپس لے لیں گے۔انہوں نے سوال کیا کہ مولانا کس ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور آزادی مارچ کے شرکا کس طرح کے دھرنے دیں گے، ان کے مطالبات بھی واضح نہیں ہیں۔

سینیٹرفیصل جاوہد

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر