سندھ حکومت نے پام آئل پیدا کرنے کا ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا

سندھ حکومت نے پام آئل پیدا کرنے کا ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا

  



ٹھٹھہ:(این این آئی)سندھ حکومت نے مقامی سطح پر پام آئل پیدا کرنے کا ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا جس کے نتیجے میں ہماری پام آئل کی ضروریات مکمل طور پر درآمد کی بجائے ملکی پیداوار سے بھی پوری ہونے لگیں گی اور کثیر مقدار میں زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔اس بات کا انکشاف مشیر قانون،ماحولیات،موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی مرتضی وہاب نے کاٹھوڑ ضلع ٹھٹھہ میں کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پام ٹری پائلیٹ پروجیکٹ کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔سیکریٹری محکمہ ماحولیات،موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی خان محمد مہر بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر مشیر ماحولیات مرتضی وہاب نے پام کا پودا بھی لگایا۔مشیر ماحولیات نے کہا کہ کاٹھوڑ ضلع ٹھٹھہ میں کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پائیلیٹ پروجیکٹ میں ملیشیا سے درآمد شدہ گیارہ سو پام کے پودے لگائے گئے تھے جو اب تناور درخت بن چکے ہیں جن سے 12سو من پام آئل سالانہ پیدا کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل حکومت سندھ نے تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرکے کثیر مقدار میں زرمبادلہ بچانے کا راستہ نکالا بالکل اسی طرح اب کی بار حکومت سندھ نے عملی طور پر ثابت کیا کہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں پام آئل پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس پائلٹ پروجیکٹ کا ملیشیا اور چین کی کمپنیاں معائنہ کر چکی ہیں جنہوں نے یہاں اگنے والے پام ٹری کے پھل کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے نجی سرمایہ کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں آئیں اور پام آئل نکالنے کے کارخانے لگائیں جس سے ایک طرف ملکی زر مبادلہ بچے گا اور دوسری طرف علاقے کے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 2.2 بلین ڈالر کا پام آئل درآمد کیا جاتا ہے تاہم ملکی سطح پر پام آئل پیدا کئے جانے سے اس کا ایک خطیر حصہ بچایا جاسکے گا۔مرتضی وہاب نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس علاقے کو ترقی دینے کے خواب کو سندھ حکومت تیزی سے پورا کررہی ہے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر