اینگرو فرٹیلائزر کے PAVEپراجیکٹ نے گلوبل ایوارڈ جیت لیا

      اینگرو فرٹیلائزر کے PAVEپراجیکٹ نے گلوبل ایوارڈ جیت لیا

  



کراچی (پ ر) اینگرو فرٹیلائزر کے PAVEپراجیکٹ نے اس سال کا دوسرا گلوبل ایوارڈ جیت لیاہے۔ آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں 2019ایشیا پیسفک شیئرڈ ویلیو ایوارڈ ز میں اینگرو فرٹیلائزر کے PAVEپراجیکٹ کوکراس سیکٹرشراکت کے ذریعے بیسٹ شیئرڈ ویلیو پراجیکٹ میں ایوارڈ دیا گیا ہے۔ ایشیا پیسیفک شیئرڈ ویلیو ایوارڈز کا انعقاد پی ڈبیلو سی آسٹریلیا نے کیا تھا اور اس میں خطے کے 150سے زائد کاروباری عہدیداروں نے شرکت کی۔ اینگرو کارپوریشن کی ذیلی کمپنی اینگرو فرٹیلائزر کا ویژن پاکستان بھر کے کسانوں بشمول ہزاروں چھوٹے کسانوں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور ان کو خوشحال بنانا ہے۔ بیجوں کے کاروبارکو دوسرے زرعی منصوبوں کی طرح جامع ترقی کیلئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اہم چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ایک پراجیکٹ کو جدید اور پائیدار حل کے ساتھ تیار کیا گیا تھا جس میں خاص طورپر خواتین کسانوں کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی تھی۔ اس پراجیکٹ کو پارٹنر شپس اینڈ ویلیوایکسپنشن فار انکلوسیو سیڈ سسٹمز ان پاکستان(PAVE) کا نام دیا گیا تھا۔ PAVEپراجیکٹ کیلئے اینگرو فرٹیلائزر بزنس پارٹنر شپ پلیٹ فارم (BPP) اور آسٹریلیا کے خارجہ اور تجارت ڈپارٹمنٹ کے ساتھ شریک بانی اور پارٹنر تھی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کیلئے اینگرو فاؤنڈیشن اور شفاف نگرانی اور جامع جانچ کیلئے کنیڈا کے ادار میڈا(MEDA)کے ساتھ اشتراک کیا تھا۔ اینگرو فرٹیلائزر کے ایوارڈ حاصل کرنے پر اینگرو فرٹیلائزر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر سالار قریشی نے کہاکہ تمام ایشیا پیسفک کے غیر معمولی شیئرڈ ویلیوپراجیکٹس کے مقابلے میں ایوارڈ جیتنا ہمارے لئے اعزاز ہے۔ یہ ایوارڈ ہماری قوم کے انتہائی اہم مسائل کو حل کرنے کیلئے اینگرو کے عزم کی عکاسی ہے۔ یہ ہمارے لوگوں کی شاندار لگن کا ثبوت ہے اور خاص طورپر پراجیکٹ ڈائریکٹر عابد الیاس اور اینگرو فاؤنڈیشن کے ہمارے ساتھیوں کی کاوشوں کا اظہار ہے۔ یہ ایوارڈ ہمارے گلوبل پارٹنرز بی پی پی، ڈی ایف ٹی اے اور ایم ای ڈی اے کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے اور مقصدسے چلنے والی تنظیم ہونے کی ہماری اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ PAVEپراجیکٹ کا آغاز ایک جامع بیس لائن سروے کے ساتھ کیا گیا تھا۔ شیخوپورہ اور گوجرانوالہ اضلاع کے 200سے زائد دیہاتوں میں 200سے زائدشرکاء کے ساتھ فارم ٹریننگ، گروپ ڈسکشن، ڈیمونسٹریشن، اور نمائشوں سے اس پروگرام کاآغاز کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں مزید 150بڑے کاشتکاروں کو بطور مبصرکے بھی شامل کیاگیا تھا جنہوں نے تربیتی پروگراموں کیلئے رضاکارانہ طورپر اپنے کھیت پیش کیے

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر