بینک اسلامی کو9ماہ میں 973 ملین روپے کا بعد از ٹیکس منافع

بینک اسلامی کو9ماہ میں 973 ملین روپے کا بعد از ٹیکس منافع

  



کراچی (پ ر)بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ نے 23 اکتوبر 2019ء کوبورڈ آف ڈائریکٹرز کے کراچی میں منعقدہ اجلاس میں 30 ستمبر 2019ء کو ختم ہونے والے 9 ماہ کے لئے بینک کے غیر آڈٹ شدہ مالیاتی نتائج میں اپنے آپریٹنگ منافع 2,784 ملین روپے کی منظوری دے دی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے دوران 144 ملین روپے آمدن کے مقابلہ میں 18.3 گنا زائد ہے۔ بینک کے آمدنی کے حامل اثاثوں اور ایس بی پی کی شرح سود میں اضافہ سے ہونے والی خالص آمدن میں 76.5 فیصد ترقی نے نچلی سطح پر بہتری میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس عرصہ کے دوران لاگت سے آمدنی کے تناسب میں 97.2 فیصد سے 66.2 فیصد کی بہتری آئی۔ محتاط طریقے سے بینک نے کسی بھی ممکنہ نقصانات کے خلاف اضافی پرویژننگ ریکارڈ کی اور 30 ستمبر 2019ء کو ختم ہونے والی نو ماہ کے لئے 973 ملین روپے کا بعد از ٹیکس منافع ظاہر کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے دوران ریکارڈ کئے گئے 99 ملین روپے کے بعد از ٹیکس منافع سے تقریباً 8.8 گنا زائد ہے۔ اپنے موثراور منظم برانچ نیٹ ورک کے ذریعے بینک کے ڈیپازٹ بیس میں دسمبر 2018ء کے مقابلے میں 15.4 فیصد تک اضافہ ہوا اور ڈیپازٹ 213 بلین روپے رہا۔ دسمبر 2018ء کے اختتام پر موجود اثاثوں کے مقابلہ میں بینک کے اثاثوں کے بیس میں 21.9 فیصد تک اضافہ ہوا۔ ریکوری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے بھرپور اقدامات کے نتیجہ میں بینک کی این پی ایل شرح میں دسمبر 2018ء میں 11.9 فیصد این پی ایل شرح کے مقابلہ میں ستمبر 2019ء میں 10.6 فیصد کمی ہوئی۔ جیسے کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ بینک نے اپنے متاثرہ پورٹ فولیو کے خلاف تیز رفتارپرویژننگ کو یقینی بنایا جس کی وجہ سے کوریج ریشو (بشمول جنرل پرویژنز) میں دسمبر 2018ء کے اختتام پر 72.5 فیصد کی کوریج ریشو کے مقابلہ میں ستمبر 2019ء تک 82.4 فیصد تک بہتری آئی۔ اپنے کیپیٹل بیس کو فروغ دینے کے لئے بینک اسلامی سال 2019ء کے دوران 2 ارب روپے کے لسٹڈ ایڈیشنل ٹائر۔1 کیپیٹل (سکوک) (500 ملین روپے کے گرین شو آپشن سمیت) کے اجراء کے عمل میں ہے۔ علاوہ ازیں بینک نے ایک ارب روپے مالیت کے رائٹ شیئرز کے اجراء کا بھی اعلان کیا ہے جو اس کی مجموعی مالیت اور کیپیٹل ایڈوکیسی کو مزید تقویت بخشے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر