تعلیمی بورڈ : فیل طلبہ کو پاس کرنے ‘ سابق صدر ایمپلائز یونین کی جعلی سند کی تحقیقات کا حکم

      تعلیمی بورڈ : فیل طلبہ کو پاس کرنے ‘ سابق صدر ایمپلائز یونین کی جعلی سند ...

  



ملتان ( سٹاف رپورٹر) تعلیمی بورڈ ملتان میں ریکارڈ میں ردوبدل کرکے فیل طلبہ کو پاس کرانے کے سکینڈل میں ملوث افراد کو ایف آئی آر سے بچا لیا گیا‘ مرکزی کردار کی تمام اپیلیں مسترد ‘ سابق یونین صدر کی بی اے کی سند بھی جعلی ہونے کا انکشاف ‘ چیئرپرسن تعلیمی بورڈ نے میرٹ پر تحقیقات کا حکم دے دیا‘ ۔ بتایا گیا ہے کہ 2011میں تعلیمی بورڈ ملتان کے مختلف افسروں واہلکاروں نے ریکارڈ (بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

میں ردوبدل کرکے مختلف فیل طلبہ کو پاس کیا‘ اس کا م کے لئے خوب مال سمیٹا گیا ‘ اس وقت تعلیمی بورڈ ایمپلائز ویلفیئرایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹریملک نثار احمد کو اس سنگین بے ضابطگی اور کرپشن کا علم ہوگیا تو وہ فوری طور پر معاملہ ایجوکیشن بورڈ کے حکام کے نوٹس میں لے آئے‘ اس پر اعلی ٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ‘ اس وقت کے چیئرمین تعلیمی بورڈ چوہدری رشید کی جانب سے سخت ایکشن کے احکامات جاری کئے گئے ‘ اس سکینڈ ل میں ملوث 10افسروں واہلکاروں کو ڈیپارٹمنٹل سزائیں دی گئیں ‘اس وقت کے سیکرٹری بورڈ ارشد اعوان اور کنٹرولر امتحانات نے انکوائری رپورٹ میں بھی تحریر کیا کہ اس سنگین بے ضابطگی کی نشاندہی یونین عہدیدار ملک نثار احمد نے کی ہے‘ مرکزی کردارکی پنچ آپریٹر(کے پی او) راشد اعوان کوریموول فرام سروس کی سزا دی گئی ‘د یگر ملوث افسروں وملازمین کو بھی ریمول فرام سروس سمیت دیگر سزائیں دی گئیں ‘ اب موجودہ صدر تعلیمی بورڈ ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن ملک نثار احمد کے علم میں آیا کہ سابق صدر ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن چوہدر ی زاہد محمو د کی بی اے کی سند نہ صرف جعلی ہے بلکہ اس نے قبضہ گروپ بھی بنا رکھا ہے اور اس کے خلاف تھانہ چہلیک میں ایف آئی آر بجرم 452/354-337h2/506B-380/148/149ت پ بھی درج ہو چکی ہے ‘اس پر انہوں نے چوہدری زاہد محمود کے خلاف بی اے کی جعلی سند رکھنے کے الزام میں بھی چیئرپرسن بورڈ کو درخواست دے دی‘ذرائع کے مطابق اس پر چوہدری زاہد محمود نے اپنے بچاﺅ کے لئے برطرف ملازم راشد اعوان کو استعمال کرتے ہوئے اسے کہا کہ اس سنگین بے ضابطگی کا کسی کو بھی کانوں کان پتہ نہ چلتا اگر ملک نثار احمد اس بارے میں بورڈ حکام کو نشاندہی نہ کرتا ‘ اس پر راشد اعوان نے کہا کہ اس وقوعہ کو 8سال ہو گئے ہیں ‘ اب الزام لگانے سے کیا کوئی فائدہ ہوگا تو چوہدری زاہد محمود نے کہا کہ” کوئی بات نہیں تم شرارت تو کرو ‘ ملک نثار کم از کم پریشان تو ضرور ہوگا“اس پر راشد اعوان نے” الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے مصداق ملک نثار احمد کے خلاف درخواست دے دی ‘ بتایا گیا ہے کہ اس کام میں راشد اعوان کے ساتھ چوہدری زاہد محمود کے علاوہ رانا تاسین اور محمد سرور کا بھی ہاتھ ہے ‘رانا تاسین کا بورڈ انتظامیہ نے کرپشن پر رجسٹریشن برانچ سے تبادلہ کیا اور اس کے خلاف انکوائری جاری ہے‘اس کے علاوہ اس نے اپنے بھائی تصور حسین کی تاریخ پیدائش ملی بھگت سے 8سال کم کرائی ہے ‘ اس کے علاوہ محمد سرور ایک آفیسر ہے جو یونین سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا مگر وہ بھی راشد اعوان کے ساتھ ملا ہوا ہے۔تعلیمی حلقوں نے اعلی ٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کرپٹ ٹولے کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر بھی درج کرانی چاہئیے تھی اور ملوث راشد اعوان کو بھی 8سال کے بعد یاد آیا ہے کہ ملک نثار کے خلاف درخواست دینی ہے ‘انہوں نے اربا ب اختیار سے سخت کارروائی اور سنگین بے ضابطگی میں ملوث افراد کو نشان عبرت بنانے کا مطالبہ کیاہے۔ تعلیمی بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کیس8سال پرانا ہے‘ اس کیس کے بارے میں جہاں تک معلومات ملی ہیںتو ان کے مطابق ملوث افسروں و اہلکاروں کو سزائیں بھی مل چکی ہیں۔ دوسری جانب اس بارے میں چیئرپرسن تعلیمی بورڈ ڈاکٹر شمیم اختر نے کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر ظفر اقبال طاہر کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے‘ رابط کرنے پر کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر ظفر اقبال طاہر نے بتایا کہ اس بارے میں ریکارڈ طلب کرلیا ہے‘ میرٹ پر اس معاملے کو دیکھا جائے گا ۔

تحقیقات کا حکم

مزید : ملتان صفحہ آخر