متحدہ میلاد کونسل تحفظ میلاد کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ‘ زاہد بلال

  متحدہ میلاد کونسل تحفظ میلاد کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ‘ زاہد بلال

  



ملتان (سپیشل رپورٹر ) متحدہ میلاد کونسل کے صدر زاہد بلال قریشی، چیرمین ڈاکٹر عمران مصطفی کھوکھر، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اشرف علی قریشی ایڈ ووکیٹ، سینئر نائب صدر پیر علامہ عزیز الرحمن خان قادری، نائب صدور حاجی اقبال عادل،قاری غلام شبیر سواگی ، پیر میاں غلام جیلانی، پیر محمد مدنی رضوی، علامہ حامد الرحمن سلطانی،حاجی اقبال یوسف نقشبندی، قاری اعجاز احمد عطاری،ملک محمد زاہد، محمد تسلیم (بقیہ نمبر29صفحہ12پر )

عطاری،حافظ غلام دستگیر نورانی،محمد نوید جراہ،ڈاکٹر طیب ملک، سید فاروق شاہ، مولانا محمد فیض الرحمن،خواجہ ندیم مدنی صدیقی،پیر عبدالقیوم چشتی، صاحبزادہ ملک اشرف، سید منور شاہ ،قاری محمد امین،مطیع اللہ بٹ،محمد عامر قادری نے گزشتہ روز ملتان پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین برس قبل28ستمبر 2016ءکو جب ہم نے جلوس ہائے میلاد کے فروغ و تحفظ کے لیے اس اتحاد" متحدہ میلاد کونسل"کے قیام کا اعلان بذریعہ پریس کانفرنس اسی ہال میں کیا تھا تو بہت سے سوالات ہماری جانب اٹھائے گئے تھے مگر آج تین سال مکمل ہونے کہ بعد جلوس ہائے میلاد کے مسائل حل کروانے کہ حوالے سے ہماری کارکردگی ہی تمام سوالوں کا جواب بن چکی ہے، جس پر ہم بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجا لاتے ہیں ۔ بلا مبالغہ متحدہ میلاد کونسل کے پلیٹ فارم سے جلوس ہائے میلاد کے حل کے لیے تین سال کے قلیل عرصہ میں جو کام اس اتحاد نے سر انجام دیے ہیں اس سے قبل مدینة الاولیاءملتان میں اس کی مثال نہیں ملتی، اس کا سب سے بڑا ثبوت آج کی یہ پریس کانفرنس ہے جس میں ہماری کارکردگی کو دیکھ کر ہمارے ساتھ شامل ہونے والی 21 تنظیمات کے نمائندے موجود ہیں ، جو ملتان شہر میں 21 جلوسوں کے آرگنائزرز بھی ہیں ،جبکہ تین سال قبل جب ی اتحاد قائم ہو اتھا تو اس میں تنظیمات کی تعداد 11 تھی،اس اتحاد میں شامل تمام تنظیمات ایک ٹیم کے طور پر میلاد النبی کے کام کو سعادت سمجھ کر سرانجام دے رہی ہیں اس کا نتیجہ ہے کہ گذشتہ برس ماہ ربیع الاول کے جلوسوں کے انتظامات کے لیے 18 محکمہ جات کو متحرک دیکھا گیا جو متحدہ میلاد کونسل کی جانب سے دی گئی فائلوں کے مطابق جلوس آرگنائزرز سے رابطے میں تھے،یہ اس اتحاد کی برکت تھی کہ گذشتہ سال جلوس کے راستوں پر صفائی ستھرائی معمول سے زیادہ نظر آئی،سیکیورٹی کے بہتر انتظامات کیے گئے، جلوسوں کے روٹوں پر پیچ ورک کا کام کیا گیا،شہر میں چراغاں اور لوڈ شیڈنگ کے حوالہ سے خصوصی انتظامات کیے گئے۔ ملتان میڈیا کے تمام احباب اور ہماری ممبر تنظیمات ان تمام امور کی گواہ ہیں ماہ ربیع الاول کی آمد آمد ہے اور اس ماہ مبارک کے شروع ہوتے ہی مسلمانوں کے دل محبت رسول کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں تبدیل ہو جاتے ہیں، گھروں اور بازاروں اور عمارتوں کو دلہن کی طرح سجا دیا جاتا ہے،ہر سو محافل میلاد اور جلوس ہائے میلاد کا اہتمام ہو رہا ہوتا ہے،میلاد مصطفی کے جلوس دنیا بھر میں بلعموم اور برصغیر پاک و ہند میںبالخصوص قدیم رویات کا تسلسل بھی ہیں اور محبت رسول کے اظہار کا مستند ذریعہ بھی ہیںاور یہ محبت رسول کی وہ قدیم روایت ہے جسے امت محمدیہ تا قیام قیامت جاری رکھے گی، دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا حامل مدینة الاولیاءملتان شریف بھی جلوس ہائے میلاد کے حوالے سے اپنی منفرد تاریخ رکھتا ہے مگر میلاد النبی کے جلوسوں کا اہتمام کرنے والی تنظیمات کو بہت سے انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں مسائل کے حل اور جلوس ہائے میلاد کے تحفظ کے لیے " متحدہ میلاد کونسل" بھر پور جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ہم آج کی پریس کانفرنس میں اس امر کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں کہ متحدہ میلاد کونسل میں گذشتہ برسوں کی نسبت شہر بھر کی 21 بڑی تنظیمات نے ممبر شپ اختیار کر لی ہے اور وہ متحدہ میلاد کونسل کا باقاعدہ حصہ بن چکی ہیں اور ان کے زیرانتظام نکالے جانے والے 21 جلوس بھی متحدہ میلاد کونسل کا حصہ ہیں، انھوں نے کہا کہ اس سال بھی ہم جلوس ہائے میلاد کے مسائل کو لے کر ضلعی انتظامیہ کے پاس گئے اور مختلف محکموں کے افسران سے ان مسائل کے حل کے لیے ملاقاتیں کیں، جن میں ڈپٹی کمشنر ملتان، سی پی او ملتان، اے ڈی سی جی ملتان،ایس ایس پی آپریشن ملتان،ایس ایس پی اسپیشل برانچ ملتان، چیف ٹریفک آفیسر ملتان، ایس ای میپکو، مینیجنگ ڈائریکٹر ایم ڈبلیو ایم سی ملتان،ایم ڈی واسا ملتان،اسیسٹنٹ ڈائریکٹر سول ڈیفنس ملتان،چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن ملتان، ڈی ای او ریسکیو1122 و دیگر محکموں کے افسران شامل ہیں،ان تما م افسران کو ہم نے جلوس ہائے میلاد کے حوالہ سے درپیش مسائل کی فہرست پیش کی ہے اور تمام افسران کی جانب سے ماہ ربیع الاول شریف میں عید میلاد النبی کے جلوسوں کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

زاہد بلال

مزید : ملتان صفحہ آخر