عمران خان نے بتا دیا ان کے پیچھے فوج،مولانا کے پیچھے کون؟

    عمران خان نے بتا دیا ان کے پیچھے فوج،مولانا کے پیچھے کون؟

  



لا ہور (تجزیہ :  یونس باٹھ)  رات گئے حکومت نے مارچ روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پراقدامات شروع کردیے ہیں۔ پنجاب سمیت اٹک پل اور ڈی چوک پر کنٹینر لگ گئے ہیں۔ جی ٹی روڈ کی بندش کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔۔ یہاں تک کہ پنجاب، بلوچستان اور آزاد کشمیر سے پولیس کی نفری بھی اسلام آباد بھجوائی جا رہی ہے جن کا صرف کھانے کا بل کروڑوں میں طلب کیا گیا ہے۔ گویا میدان سج گیا ہے۔ جب عمران خان نواز شریف کے خلاف نکلے تھے اور ان کے قدم بڑھتے ہی جارہے تھے تو لوگوں کی زبان پر یہ سوال تھا کہ اس کے پیچھے کوئی ہے۔ آج اس کا جواب عمران خان نے خود دے دیا کہ فوج حکومت کے پیچھے ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمن کے پیچھے کون ہے۔ تمام تر الزامات کے باوجود مولانا کے قدم بڑھتے جارہے ہیں۔ اب 27 اکتوبر بھی قریب ہے۔ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جو کچھ عمران خان کہہ رہے ہیں وہی سب میاں نواز شریف اور ان کے وزراء  کہتے تھے کہ عمران بیرونی ایجنڈا لے کر آئے ہیں۔ طاہر القادری بیرونی ایجنٹ ہے۔ عمران کی سابقہ بیوی یہودی باپ کی بیٹی ہے۔ چینی صدر کا دورہ عمران کے دھرنے کی وجہ سے ملتوی ہوا وغیرہ وغیرہ آج عمران خان کہہ رہے ہیں کہ مولانا کے مارچ پر بھارت میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ جہاں تک استعفے کا سوال ہے یا مولانا فضل الرحمن کا چارٹر آف ڈیمانڈ واضح نہیں ہے والی باتوں کا ایک ہی جواب ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈ بھی واضح ہے اور سوال تو ہے ہی استعفے کا ۔ انتہائی زمہ دار زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے دھرنا روکنے کے لیے اپنی تمام تر تیاری مکمل کر لی ہے اور اس حوالے سے کیے جانے والے انتظامات بارے حکومت بیوروکریسی سے لمحہ بہ لمحہ رپورٹ بھی حاصل کر رہی ہے۔

پیچھے کون ہے؟

مزید : صفحہ آخر