بھارت نے حملہ کیا تو ہندوستان کوقبرستان میں بدل دینگے: صدر وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر 

بھارت نے حملہ کیا تو ہندوستان کوقبرستان میں بدل دینگے: صدر وزیر اعظم آزاد ...

  



مظفرآباد (آئی این پی)آزاد جموں و کشمیر کا بہترواں یوم تاسیس قومی جوش و جذبے اور اس عزم کی تجدید کیساتھ منایا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کے مقبوضہ حصہ کی آزادی اور حق خود ارادیت کے حصل کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو بھارتی ظلم و استبداد سے نجات دلانے اور آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کیلئے سیاسی و سفارتی کوششوں کو تیز تر کیا جائے گا۔ یوم تاسیس کے حوالہ سے سب سے اہم تقریب پولیس لائن مظفرآباد میں منعقد ہوئی جس میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان مہمان خصوصی تھے جبکہ صدارت وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا غازی ملت سردارمحمد ابراہیم خان اور ریئس الا حر ا ر چوہدری غلام عباس کی قیادت میں آگ اور خون کے دریا سے گزر کر آزاد کرائے جانیوالے اس خطہ کو آج کئی خطرات درپیش ہیں۔ بھارت کی بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سوائم سیوک سنکھ کے جنو نی آزاد کشمیر پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں جنہیں ہم پیغام دینا چاہتے ہیں وہ آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیں اور اگر بھارت نے حملہ کرنے کی حماقت کی پورا ہندوستان بھارتی فوج کا قبرستان بنا دیا جائیگا۔ آزاد کشمیر کے تیرہ ہزار مربع کلومیٹر علاقہ اور گلگت بلتستان کا تہتر ہزار مربع کلو میٹر علاقہ ان خطوں کے بہادر، غیور اور مردان حرنے ڈوگرہ فوج سے لڑ کر آزاد کرایا تھا۔ یہ علاقے کبھی بھارت کا حصہ رہے اور نہ ہی کبھی رہیں گے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال یکسر بد ل گئی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ فوج تعینا ت کر کے اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کشمیریوں سے مستقل سکونت، تعلیم، روزگار اور زمین کی ملکیت جیسے حقوق چھین کر مقبوضہ علاقے کو عملاً اپنی نو آبادی تبدیل کر دیا ہے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ بھارت ہندووں کو مقبوضہ علاقے میں آباد کر کے وہاں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا منصوبہ بنا چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی پانچ اگست کے بعد کی ابتر صورتحال پر عالمی میڈیا مسلسل اپنی رپورٹس شائع، عالمی سول سو سائٹی مختلف ممالک کے پارلیمنٹرین کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں لیکن طاقتور اقوام اور اسکی سلامتی کونسل پر اسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی بے جان اور محتاط بیانات سے آگے کچھ کرنے کیلئے تیار نظرنہیں آتے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارتی غلامی سے نجات دلانے اور وطن عزیز کے دفاع و سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے جہاں سفارتی و سیاسی محاذ پر جدوجہد ضروری ہے وہیں ہمیں بھارت کا مقابلہ کرنے اور وطن کے دفاع کیلئے جنگ کی تیاری کرنا ہو گی، کیونکہ یہ جنگ صرف پاک فوج نہیں بلکہ پاکستان اور آزاد کشمیرکے عوام لڑیں گے، بھارت کی کوشش ہے آزاد کشمیر کے لوگ آپس میں لڑ پڑیں تاکہ دنیا کو بتایا جائے مسئلہ صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر میں بھی ہے۔24اکتوبر 1947والا جذبہ ایک بار پھر اپنے اندر پیدا کرنا ہو گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا تھا 24 اکتوبر 1947 کے دن غاز ی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں آزاد حکومت کا قیام اُن عظیم قربانیوں کی بدولت ممکن ہوا جو 1832 سے لیکر 1947 کے درمیان ایک سو پندرہ سالوں میں دی گئیں۔ 1947 میں ریاست جموں و کشمیر کے عوام نے ایک سنگ میل ضرور عبور کیا لیکن ہماری منزل ابھی نہیں آئی اور وہ منزل پوری ریاست جموں و کشمیر کی بھارتی ظلم استبداد سے آزادی اور کشمیریوں کو اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کے تعین کے بعد آئے گی،مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ ظالم اور انسانیت سے عاری بھارتی فوج کے نر غے میں پھنسے 80 لاکھ کشمیریوں کو غلامی و ظلم سے نجات دلانا ہماری اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ہمارے بھائی، بہنیں اور بیٹیاں تمام تر مظالم کے باوجود عزم و حوصلہ سے ظلم کا مقابلہ کر رہے ہیں جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ 

صدر،وزیراعظم آزاد کشمیر

مزید : صفحہ آخر