ہمیں جائز کاروباری افراد اور جعلسازوں میں فرق کرنا پڑے گا: چیئر مین نیب 

  ہمیں جائز کاروباری افراد اور جعلسازوں میں فرق کرنا پڑے گا: چیئر مین نیب 

  



کراچی (آئی این پی) چیئرمین نیب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہمیں جائز کاروباری افراد اور تاجروں کے بھیس میں جعلسازوں میں فرق کرنا پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز چیئرمین نیب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے ایف پی سی سی آئی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز نے بیواؤں اور پینشنرز کی جمع پونجی بھی لوٹ لی ہے اور لوگوں کو سہانے سپنے دکھا کر اپنی چھت کے نام پر لوٹنا ڈکیتی کے مترادف ہے،انہوں نے کہا کہ نیب کے مختلف عدالتوں کے پاس1235ریفرنسز زیر التوا ہیں جبکہ1235 ریفرنسز میں کاروباری افراد سے متعلق135ریفرنس بھی نہیں۔جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کے ذریعے برسوں سے ڈوبی ہوئی رقوم متاثرین کوواپس مل سکی ہیں جبکہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی نے سپریم کورٹ میں 500 ارب سے زائدجمع کرانے کی حامی بھری ہے اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کے متاثرین میں 40 فیصد افراد کی رقوم واپس ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب کا مقصد کسی کی تضحیک کرنا نہیں ہے بلکہ حقداروں کو حق دلانا ہے،ہماری معیشت کو کرپشن کے باعث بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے،چیئرمین نیب نے کہا کہ ملک میں ایسی سوسائٹیز نے بھی کام کیا جنہوں نے50کروڑ اکٹھے کئے اور بیرون ملک چلے گئے۔ انہوں نے کہا نیب کے علاوہ کوئی اور ادارہ نہیں جو متاثرین کے درد کا مداوا کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک جا کر بیٹھنے والے ہاؤسنگ سوسائٹی والے آکر بات کریں ہم گرفتار نہیں کریں گے اور ملک سے بھاگنے والے ہاؤسنگ سوسائٹی والے وقت مانگیں تو ایک دو سال دے دیں گے، ایسے بھی کیسز ہیں کہ30لاکھ روپے کی ادائیگی ہوگئی اور جب قبضہ لینے گئے تو کہا 10 لاکھ روپے اور دے دیں۔

چیئرمین نیب

مزید : صفحہ اول