اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسداد الیکٹرانک کرائم کورٹ کو فرد جر م عائد کرنے سے روکدیا 

  اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسداد الیکٹرانک کرائم کورٹ کو فرد جر م عائد کرنے ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسداد الیکٹرانک کرائم کورٹ کو فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا۔جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسداد الیکٹرانک کرائم کورٹ کو فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ انسداد الیکٹرانک کرائم کورٹ کیس کا فیصلہ ہونے تک مزید کارروائی آگے نہ بڑھائے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس عامرفاروق کی جانب سے کیس پر حکم امتناع جاری کیا گیا۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر کے 30اکتوبر تک جواب طلب کر لیا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے بتایا کہ ایف آئی اے نے جج ارشد ملک کی درخواست پر مقدمہ دائر کیا، پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی دفعات کا کیس اے ٹی سی سن سکتی ہے۔جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ چالان جمع ہو جائے تو کیا انسداد کرائم عدالت اس کو دیکھ سکتی ہے؟جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے بتایا کہ صرف انسداد دہشتگردی عدالت ہی کیس کے چا لان کو دیکھ سکتی ہے۔اڈیالہ جیل میں قید مرکزی ملزم میاں طارق محمود کو نوٹس جاری کیا گیاجبکہ کیس میں بری ہونیوالے مہر غلام جیلانی،خرم شہزاد یوسف، ناصر جنجوعہ کو نوٹس جاری کئے گئے۔میاں سلیم رضا، ناصر بٹ،فیصل شاہین،حمزہ عارف بٹ کو بھی نوٹس جاری کئے گئے۔

 ویڈیوسکینڈل کیس

مزید : صفحہ اول