استغاثہ کیس ثابر کرنے میں ناکام ، انسداد شہتگردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ساہیوال کے تمام ملز بری کردیئے 

    استغاثہ کیس ثابر کرنے میں ناکام ، انسداد شہتگردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ ...

  



لاہور(نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک)انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے سانحہ ساہیوال کیس کا فیصلہ سنا تے ہوئے مقدمہ کے تمام ملزموں کو شک کی بنا پر بری کر دیا۔اس کیس میں کاﺅنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی ) کے6اہلکاروں صفدر ،رمضان ،احسن ،سیف اللہ ،حسنین اور ناصرکا بطور ملزم ٹرائل ہوا۔ 38صفحات پر مشتمل ملزموں کی بریت سے متعلق عدالتی فیصلے میں کہا گیاہے استغاثہ ملزموں کےخلاف کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا،عدالت نے فیصلہ وقوعہ کو نوعیت پر نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر کرنا ہوتا ہے، چاہے آسمان گر جائے ،عدالت نے انصاف کےساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے، پراسکیوشن نے سانحہ ساہیوال کا ٹرائل عینی شاہدین، میڈیکل، ڈیجیٹل، شناخت پریڈ کی بنیاد پر کروایا ، سانحہ ساہیوال میں استعمال ہونےوالے اسلحہ اور دیگر واقعاتی ثبوتوں کو بھی کیس کا حصہ بنایا گیا تھا، سانحہ ساہیوال کے گواہوں نے جائے وقوعہ پر گولیاں چلتی ہوئی نہیں دیکھیں، پراسکیوشن کے کچھ گواہوں نے واقعہ رونما ہونے کے بعد جائے وقعہ پر پہنچنے کے بیانات دیئے، وقوعہ کے گوا ہوں نے ملزموں کے بری ہو جانے پر کوئی اعتراض نہ ہونے کا بھی بیان دیا، مدعی مقدمہ محمد جلیل نے جرح میں وقوعہ کی ایف آئی آر اس کی د ر خواست کے مطابق درج نہ ہونے کو تسلیم کیا، مقتول خلیل کے بیٹے عمیر نے بھی ملزموں کو پہچاننے سے انکار کیا اور ان کے بری ہونے پر اعتر ا ض نہ ہونے کا بیان دیا، گواہوں کے بیانات کے بعد عدالت وقوعہ کے عینی شاہدین نہ ہونے کے نتیجہ پر پہنچی،پراسکیوشن عینی شاہدین کے بیانا ت کی روشنی میں اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی، عینی شاہدین کی عدم دستیابی کے باعث میڈیکل شواہد کیس ثابت کرنے میں مدد گار ثابت نہیں ہوئے، ملزموں کی فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ میں بھی ملزموں کی شناخت نہیں ہوئی، جائے وقوعہ سے ملنے والی گولیوں کے خول بھی تاخیر سے فرانزک کیلئے بھیجے گئے، پولیس کو اسلحہ فراہم کرنےوالے انچارج نے سانحہ ساہیوال کا سارا اسلحہ واپس کرنے کا بیان دیا،ناکافی گواہوں اور ثبوتوں کی بناءپر ملزموں کوبری کیا جاتاہے ،اس کیس میں 49 گواہوں نے بیانات قلمبندکروائے تاہم تمام گواہان نے عدا لت کے روبرو ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کیا۔مقتول خلیل کے بچوں عمیر، منیبہ اور بھائی جلیل نے بیانات ریکارڈ کروائے تھے،مقتول ذیشان کے بھائی نے بھی بطور گواہ بیان قلمبندکرایاتھا،عدالت میں گواہوں نے ملزموں کی شناخت سے انکار کر دیا تھا،وقوعہ کامقدمہ ساہیوا ل میں درج کرکے ٹرائل پہلے ساہیوال کی انسداددہشتگردی کی عدالت میں شروع کیا گیاپھر مقتولین کے ورثاءکی درخواست پرکیس کو ساہیوا ل سے لاہور منتقل کیا گیا تھا،سی ٹی ڈی کے ملزم اہلکاروں پرمقتول خلیل کی گاڑی پر فائرنگ کرنے کا الزام تھا، اس سانحہ میں مقتول خلیل کی بیٹی اورخاتون سمیت چار افراد فائرنگ کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔مقدمہ کی 9ماہ تک سماعت جاری رہی ۔بعد ازاں سانحہ ساہیوال کے مدعی اور مقتول خلیل کے بھائی محمد جلیل نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنے اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'جو بھی عدالت نے فیصلہ کیا ہے اسے ہم نے دل سے تسلیم کرتے ہیں، اسے کوئی سیاسی رنگ نہ دیا جائے'۔

سانحہ ساہیوال

مزید : صفحہ اول