شانگلہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال بدستور جاری

  شانگلہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال بدستور جاری

  



الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح شانگلہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا ہڑتال بدستور جاری۔ عوام نجی ہسپتالوں میں علاج سے قاصر ہیں۔ ڈاکٹرزاپنے نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی چیک اپ کرتے ہیں غریبوں کوپرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کرنا۔عوامی حلقوں کو شدید رد عمل۔حکومت سے کارروائی کا مطالبہ۔ہسپتالوں کی ڈی ایچ اے وآر ایچ اے کسی بھی صورت قبول نہیں۔ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔عوام دشمن اقدام ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔ڈاکٹرز و کی وضاحت۔شانگلہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہسپتال الپوری سمیت ضلع بھر کے سرکاری ہسپتال پورن،بشام،چکیسر،کروڑہ ودیگر ہسپتال کی بندش چوتھے ہفتے میں داخل۔ہسپتالوں کے او پی ڈی، اپریشن تھٹرز سمیت لیبارٹریز بند ہیں۔ مریض رل گئے۔ڈاکٹروں کی عدم موجودگی مریض بے چھین ہوگئی، رشتہ دار پریشان۔سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال سے نجی ہسپتالوں و کلینکس اور لیبارٹریز کی چاندی مریضوں کی نجی ہسپتالوں پر انحصار،غریب مریضوں کو یہی ڈاکٹر زاورعملہ دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگا۔نجی ہسپتالوں نے ٹیسٹ،ایکسرے اور فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔عوام اور مریضوں کا شدید ردعمل،حکومت کی ہیلتھ میں اصلاحات کے دعوے جھوٹ ثابت ہوئے عوامی حلقے۔شانگلہ میں ڈاکٹروں کی ہڑتال چوتھے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے ڈاکٹروں نے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنا چھوڑدیا ہے اور بعض ڈاکٹرزاپنے نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی چیک اپ کرتے ہیں غریبوں کوپرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کرنا انتہائی مہنگا مشکل ہے مہنگائی اور بے روزگاری سے نڈھال عوام نجی ہسپتالوں میں علاج سے قاصر ہیں، ٹیسٹ کرے یا ادویات لے یا ان ڈاکٹروں کو باہرفیسیں دے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ڈاکٹروں کا اپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے سارا نزلہ غریب عوام پر اتاررہے ہیں دوائیوں میں ہوشرباء اضافے نے عوام کے ناک میں دم کردیا ہے حکومت ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرکے ان ہڑتالی ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دنوں کی تنخواہیں کاٹی جائیں یا گھٹنے ٹیک کرکے ان کے مطالبات تسلیم کریں۔پرائیوٹ ہسپتالوں کا فیس،ایکسرے،ٹیسٹ اور ادویات وغیرہ کا خرچ برداشت سے باہر ہیں مریض بیماری کے ساتھ ذہنی کفت میں مبتلا ہیں اور اس وقت اس صورت حال میں انتہائی مالی مشکلات میں ہیں۔غریب فریادکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جائے تو کہاں جائیں۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر