پاکستان میں ذہنی صحت کے متعلق آگاہی کی ضرورت ہے،رضوان ملک

  پاکستان میں ذہنی صحت کے متعلق آگاہی کی ضرورت ہے،رضوان ملک

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)معروف پاکستانی نژاد امریکن ماہر سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر رضوان ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت کے متعلق لوگوں کو آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار کلینیکل سائیکالوجی کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرر ہے تھے۔اس موقع پر اسسٹنٹ پروفیسر ز ڈاکٹر عائشہ سطوت، حمیرا ناز،لیکچرار رابعہ دستی اور طلباؤ طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے کسی فردبالخصوص لڑکیوں کو اضطرا ب (anxiety)ہو تو اسے سائیکاٹرسٹ کو چیک کرانے کی بجائے چھپایا جانا ایک المیہ ہے جبکہ دیگر بیماریوں کی طرح یہ بھی ایک قابل علاج مرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں ایسے مسائل عام ہیں۔ ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ بچوں کواچھا مستقبل دینے کیلئے گھر میں نفسیاتی اعتبار سے بہترین ماحول دینے کی ضروررت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر ایسے بچے معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں جنہیں موٹا، کالا، بھدا، نالائق جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ دنیا بھر میں سائیکاٹرسٹ کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ زندگی کے ہر پہلو میں نفسیاتی عنصر موجود ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹزم میں رہنے والے بچے اپنی ہی دنیا میں مگن رہتے ہیں جس سے بچانے کیلئے تھراپی اور سپورٹ مہیا کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو آخرت میں انعام کا لالچ دے کراور برین واشنگ کرکے خود کش بمبار بنایا جاتا ہے۔ڈاکٹر رضوان نے طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آٹزم اور دیگر نفسیاتی بیماریوں سمیت افراد کے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں بہتری کے لئے آگاہی فراہم کرنے میں بھرپور کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر رضوان کے مطابق 2023میں ڈپریشن دنیا کی بڑی بیماریوں میں سر فہرست ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سکول، کالج، یونیورسٹی سمیت ہر سطح پر منشیات کے استعمال کوروکنے کیلئے صوبائی و وفاقی حکومتوں کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ اور کمیونٹی سنٹرز کے قیام سے ڈیپریشن زدہ ماحول سے نجات پائی جا سکتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4