”می ٹو“ کے غلط استعمال‘ جھوٹے الزامات لگانے پرفنکاروں کااظہارتشویش

  ”می ٹو“ کے غلط استعمال‘ جھوٹے الزامات لگانے پرفنکاروں کااظہارتشویش

  



لاہور(فلم رپورٹر) دنیا بھر میں چلائی جانے والی تحریک ”می ٹو“ کے غلط استعمال اورمی ٹو مہم کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں پر جھوٹے الزامات لگانے پر پاکستانی فنکاروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ چند روز قبل لاہورکے ایم اے او کالج میں انگریزی پڑھانے والے لیکچرار افضل محمود نے ایک خاتون طابعلم کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام اور تحقیقات کے بعد یہ الزامات غلط ثابت ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے تصدیقی خط جاری نہ ہونے پر خودکشی کرلی تھی۔پاکستان کے نامورگلوکار علی ظفرپرگلوکارہ میشا شفیع ”می ٹو“ مہم کے تحت جنسی ہراسانی کا الزام لگا چکی ہیں، تاہم علی ظفر نے اپنے اوپرلگنے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرارد یا ہے۔علی ظفرنے لیکچرارافضل محمود کی خود کشی کے بعد ”می ٹو“ مہم کے غلط استعمال پراپنی آوازبلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم اے او گورنمنٹ کالج لاہورکے لیکچرار افضل محمود نے جنسی ہراسانی کے جھوٹے الزامات لگنے کے بعد خود کشی کرلی اورموت کی آغوش میں جانے سے قبل ایک نوٹ میں تحریرکیا کہ ان کی ساکھ داغدار ہونے کے بعد ان کی بیوی انہیں چھوڑ کر چلی گئی۔ اداکارہ ماہرہ خان نے بھی افضل محمود کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یہ سن کر سخت غصہ آگیا کہ ایک معصوم انسان نے غلط الزامات لگنے کے بعد اپنی جان لے لی۔ اور یہ دیکھ کر میرا خون کھول اٹھتا ہے کہ کوئی شخص کسی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد آزادانہ گھومتا ہے۔ چاہے آپ ”می ٹو“ تحریک کا غلط استعما کریں یا احتساب کرنے میں دیر کریں نتیجہ ایک ہی ہے،”موت“۔یاد رہے کہ خودکشی سے قبل افضل محمود نے ’سوسائیڈ نوٹ‘ میں لکھا تھا کہ وہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کررہے ہیں۔ خود کشی سے ایک روزقبل افضل محمود نے اپنی ایک سینئرساتھی اورہراساں کرنے کی انکوائری کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹرعالیہ رحمان کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ ان الزامات کی وجہ سے میرا خاندان پریشانی کا شکارہے اورمیری بیوی بھی مجھے چھوڑکرجا چکی ہے، میرے پاس زندگی میں کچھ نہیں بچا، میں کالج اورگھرمیں ایک بدکردار آدمی کے طور پر مشہور ہوگیا ہوں اس وجہ سے میرے دل و دماغ میں ہر وقت تکلیف ہوتی ہے۔ بعد ازاں لیکچرار افضل محمود نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔

شاہد حمید،شان،معمر رانا،مسعود بٹ،پرویز کلیم،میگھا،ماہ نور،شاہدہ منی،محمد قوی خان،لائبہ علی،سہراب افگن،سٹار میکر جرار رضوی،یار محمد شمسی صابری،گلفام،ہانی بلوچ،اچھی خان،ذویا قاضی،مایا سونو خان،ڈیشی راج،آغا قیصر عباس،سدرہ نور،ندا چوہدری،آفرین خان،آفرین پری،آشا چوہدری،عامر راجہ،بی جی،سفیان احمد،انوسنٹ اشفاق،محرمہ علی،عباس باجوہ،آغا حیدر،شین فریال،نادیہ علی،سوھنی بلوچ،اشرف خان،عذرا آفتاب،حیدر سلطان،بابرہ علی،تابندہ علی،ڈاکٹر اجمل ملک،مختار احمد چوہان،فیصل بخاری،چوہدری اعجاز کامران،قیصر ثناء اللہ خان،حاجی عبد الرزاق،پریسہ،حنا ملک،شہزاد چندا،ہنی البیلا،حسن مراد،امان اللہ،نجم زیدی،ثمینہ بٹ،سرفراز وکی،بینا سحر،عائشہ جاوید،ابرار ہاشمی،وقاص کیدو،زری لعل،شہہ پارہ،ستارہ بیگ،لکی ڈیئر،طاہر نوشاد،مختار چن،اسد مکھڑا،شجر عباس،نواز انجم،احمد نواز،محسن گیلانی،دلاور ملک،عباس اشرف،افشین اشرف،بینا چوہدری اور دیگر کا کہنا ہے کہ افضل محمود کی موت کے بعد اب کتنے لوگ ان کے لئے آواز اٹھائیں گے؟ اور کتنے لوگ ”می ٹو“تحریک کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھائیں گے؟ افضل محمود کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔

مزید : کلچر