سب سے پہلے پاکستان

سب سے پہلے پاکستان
 سب سے پہلے پاکستان

  



دنیا بھر میں طرزحکمرانی پرصدیوں سےجاری بحث و تمیص کےبعد آج جمہوریت کو مقبول ترین قابل فہم اور بہترین نظام حکومت قرار دیا جاتا ہے کیونکہ جمہوریت انتقال اقتدار کاشفاف زریعہ ہی نہیں بلکہ زندگی کا ایک مکمل فلسفہ ہے تعریف کے اعتبار سےدیکھاجائے تو عوامی رائے کی حاکمیت کانام جمہوریت ہے جو قطعی طور پر آمریت اور شہنشاہیت کی ضدہے وطن عزیز کی بات کی جائے  تو یہاں 72 برس سے جمہوریت اور آمریت کی آنکھ مچولی جاری ہے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ پاکستان میں لگنے والے ہر مارشل لانے ملک کو نیا سیاسی لیڈر دیا لیکن افسوس یہ لیڈر بھی ملک کو جمہوری استحکام دے سکے نہ عوام کے بنیادی مسائل حل ہوئے پھر ان مسائل کی زمہ داری کوئی سول حکمران لینے کو تیار ہے نہ فوجی ۔ مارشل لائوں نےمنتخب حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن تو جمہوری حکومتوں نے مارشل لائوں کو مسائل کازمہ دار ٹھہرایا جسکے باعث ملک آگے بڑھ سکا نہ عام آدمی کے مسائل حل ہوئے لیکن یہ ایک چشم کشا حقیقت ہے کہ کمزور سے کمزور جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے تاہم اس مقولے کی بنیاد پر اصلاح احوال کی ضرورت کو پس پشت ڈالنا کسی طور بھی دانشمندی نہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خامیوں کو چھپانے کی بجائے انکے ازالہ کی سعی کی جائے اپنی کوتاہیوں کے باعث جمہوری نظام میں پیدا ہونے والے نقائص کی بنا پر جمہوریت کو ردکرنے کی بجائے مستحکم جمہوریت کے سفر کو آگے بڑھایا جائے کسی بھی مہذب ملک کے جمہوری ادارے اور جمہوری پارٹیاں قومی اثاثہ ہوتی ہیں کیونکہ یہ پارٹیاں دہائیوں کی محنت اور جدوجہد کے بعد عوام میں اپنے پیروکار پیدا کرتی ہیں اور اس نظریے کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ آج پاکستان میں موجود تمام سیاسی پارٹیاں اور انکی قیادت اپنے سیاسی مخالفین کی نظر میں خواہ کتنی ہی کرپٹ بدکردار یا نااہل کیوں نہ ہو بہرحال ایک قومی اثاثہ ہیں جنکے مقلدین کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے یہاں یہ زکر کرنا بھی ضروری ہے کہ طویل سیاسی و سماجی عمل سے گزرنے کے بعد پیدا ہونے والی یہ سیاسی وابستگی ایک دن میں پیدا ہوتی ہے نہ ہی اسے کسی سرکاری حکم نامے پر مارشل آرڈینس کے زریعے چشم زدن میں ختم کیا جاسکتا ہے ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے آج اگر پاکستان کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جاےء تو ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ملک میں موجود تمام سیاسی قوتیں جمہوریت کی علامت ،انتخابات یعنی اقتدار کی منتقلی کے زریعے پر تو متفق ہیں لیکن وہ اپنے رویے سے جمہوریت کاثبوت دینے سے قاصر ہیں وہ جمہوریت کی روح یعنی مشاورت کے اصول کے تحت قومی و ملکی مسائل پر مل بیھٹنے کوتیار ہی نہیں اور اس غیر جمہوری رویے کو پروان چڑھانے کی سب سے زیادہ زمہ داری بھی یہی سیاسی پارٹیاں ہیں جو اپنے نظریات منشور اور جمہوریت روایات کے بجائے شخصیات کی محافظ بن بیھٹی ہیں افسوس ! آج ملک کی تقریبآ تمام بڑی پارٹیوں میں قیادت اور قائد کے خاندان کی خواہش و مرضی کو پارٹی کا نظریہ قراردےدیاگیا ہے تمام سیاسی پارٹیوں میں خاندانی آمریت مسلط ہے پارٹی قیادت کاحق صرف اس خاندان کو ہے جو پارٹی پر قابض ہے عام آدمی یاسیاسی کارکن کو کوئی ایسا راستہ ہی نہیں دیا جاتا کہ جمہوری روایات کے مطابق وہ بھی پارٹی کی قیادت کا سہرا سر پرسجا سکے غریب والدین کا بیٹا اور ایک سیاہ فام استاد امریکا کا صدر بن سکتا ہے ایک بس ڈرائیور کابیٹا لندن کا میئر بن سکتا ہے لیکن پاکستان میں ایک غریب کے بچے کی سوچ پارٹی اجلاسوں میں نعرے لگاکر ایک معمولی نوکری کے اصول سے آگے نہیں بڑھ پارہی ،کیوں ؟ کیا انکا پاکستان نہیں ؟ کیونکہ مالی وسائل سے مالامال افراد نے غریب اور متوسط طبقے کےلیے سیاست کو نو گوایرایا بنا دیا ہے یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ سیاسی پارٹیوں نے جمہوری ادارے بننے کی بجاےء خود کو پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنیاں بنالیا ہے جبکہ پاکستان اولین ترجیع ہوناچاہیےتھا الیکشن کمیشن کی قانونی ضرورت کو پورا کرنے کےلیے پارٹی انتخابات کے نام پر ایک دھوکہ دیا جاتاہے جس سے ہرکوئی باخبر ہے لیکن بلی کی طرح آنکھیں بند کئے بیھٹا رہتا ہے عام آدمی جمہوریت کو بہترین نظام سمھجنے کے باوجود حقیقی جمہوریت کو دیکھنے اور محسوس کرنے سے قاصر ہے جسکی بنیادی وجہ بھی انہی سیاسی پارٹیوں کاغیر جمہوری رویہ ہے تاہم جب کسی خاندانی آمریت کو خطرہ محسوس ہوتا ہے تو فورآ اسے جمہوریت کاخطرہ قرار دےدیاجاتا ہے پھر انہی خاندانی آمریتوں کی کوکھ سے جنم لینے والی پارلیمنٹ آئین اور آئینی اداروں کے تحفظ کے بجاے شخصی خاندانی اور گروہی مفادات کی محافظ بن جاتی ہے ایوانِ سینٹ اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر کسی بھی پارٹی کی طرف سے نامزدگی کے معاملات شفافیت کوترس رہے ہیں جو پارٹی منشور اور مشاورت کے بجاےء فردواحد کی صوابدید پر ہوتے ہیں اور یہی وہ وجوہات ہیں جنکے باعث آئین کا محافظ اور عوام کا منخب کردہ سب سے بالادست ادارہ پارلیمنٹ آج بےمقصد بحث و تمیص کا ایک کلب بن کررہگیا ہے جسکے باعث ہرگزرتے دن کے ساتھ عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد ہوتا جارہا ہے کیونکہ یہ آئین کی محافظ بننے کے بجاےء اکثریتی پارٹی کے قائد کے زاتی خودساختہ نظریے کی محافظ بن چکی ہے جبکہ "سب سے پہلے پاکستان "ہمارا اوڑھنا بچھونا ہونا چاہیے ۔ کیونکہ ہماری اصل شناخت ہمارا پاکستان ہے ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ