پلوامہ حملے کے بعد پاکستان میں کتنے سیکیورٹی اٹیک کیے گئے؟ ایسا انکشاف کہ کسی کو یقین نہ آئے

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان میں کتنے سیکیورٹی اٹیک کیے گئے؟ ایسا انکشاف کہ ...
پلوامہ حملے کے بعد پاکستان میں کتنے سیکیورٹی اٹیک کیے گئے؟ ایسا انکشاف کہ کسی کو یقین نہ آئے

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینیٹ قائمہ کمیٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کو بتایا گیا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد آئی ٹی سیکورٹی پر 5کروڑ حملے کئے گئے جن کو این ٹی سی نے ناکام بنایا، نجی شعبہ کے زیر انتظام سرکاری اداروں کی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا،ہیک کیا جارہا ہے،پی ٹی اے کی طرف سے نجی کمپنیوں کو سرکاری اداروں کو انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنیکی اجازت دی ہے جو سائبر کے بڑے خطرات میں سے ایک ہے، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے مقابلے میں کم چارجز کی وجہ سے نجی شعبے کے زیر انتظام سرکاری اداروں کی ویب سائٹوں کو نشانہ بنایا اور ہیک کیا جارہا ہے،جمعرات کو این ٹی سی ہیڈکوارٹر میں چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کی زیرصدارت کمیٹی اجلاس میں ایم ڈی این ٹی سی بریگیڈئر (ر)وقار رشید خان نے بتایا کہ ان سرکاری اداروں کی ویب سائٹس کو ہیک کیا جارہا ہے جن کے ڈیٹا کی میزبانی نجی کمپنیاں کر رہی ہیں ہے، پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے وقت سب میرین کیبل این ٹی سی کے حوالے کردی جانی چاہئے تھی، این ٹی سی نے ساحلی شاہراہ پر سی پیک میں سمندری کیبل بچھانے کا منصوبہ بنایا ہے، این ٹی سی کو گورنمنٹ اداروں بشمول دفاع میں ٹیلی کام سروسز فراہم کرنے کا اختیار دیا گیاہے ، کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے شہروں میں سروس کی فراہمی کیلئے بہت زیادہ خرچ آتا ہے ، سمری تیار کی جارہی ہے ، این ٹی سی اسلئے بھی قائم کیا گیا تھا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد حکومتی اداروں کو محفوظ سروسز فراہم کی جائیں،چیئرپرسن نے کہا ہمارا ڈیٹا اتنا محفوظ نہیں ہے جتنا ہونا چاہیے،کمیٹی کو بتایا گیا کہ وہ سرکاری ادارے جو جی میل ، ہاٹ میل اور یاہو استعمال کرتے ہیں ،ان کا ڈیٹا اتنا محفوظ نہیں ،2016 میں نیشنل ڈیٹا سنٹر قائم کیا گیا جس پر 450 ملین روپے خرچ آئے جس سے اب تک 419 ملین روپے کی آمدن ہو چکی ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد