عراق میں پھر مظاہرے شروع،جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک،متعدد زخمی

عراق میں پھر مظاہرے شروع،جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک،متعدد زخمی
عراق میں پھر مظاہرے شروع،جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک،متعدد زخمی

  



بغداد (این این آئی)عراق کے دارالحکومت بغداد میں حکومت کیخلاف مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بغداد میں حکومت مخالف مظاہروں کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے جس میں مظاہرین کی جانب سے کرپشن، بیروزگاری کے خاتمے اور سیاسی نظام کو مکمل طور پر درست کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔سماجی کارکنان نے عراقی عوام سے وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کے اقتدار کو ایک سال مکمل ہونے پر سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم احتجاجی ریلیوں کی شروعات اس سے قبل ہی ہو گئی اور گزشتہ شام کو ہی سینکڑوں افراد معروف تحریر اسکوائر پر جمع ہو گئے تھے۔جمعہ کے روز متعدد افراد پل عبور کر کے گرین زون کے قریب پہنچے جہاں کئی سرکاری دفاتر اور غیر ملکی سفارت خانے موجود ہیں،تاہم سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو پیچھے دھکیلنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔عراقی انسانی حقوق کے کمیشن کے رکن علی بَیاتی نے کہا ہے کہ جھڑپوں کے دوران 2 مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا سیکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں تقریبا 100 افراد زخمی بھی ہوئے تاہم مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے براہ راست کوئی فائرنگ نہیں کی گئی۔عراق کے جنوبی شہروں میں بھی ہزاروں افراد جمع ہوئے اورحکومت کے گھرجانے تک سڑکوں پر رہنے کا عزم ظاہر کیا۔پولیس ذرائع کے مطابق جنوبی صوبے ذی قار میں مظاہرین نےسرکاری ہیڈ کوارٹرز کو نذر آتش کردیا،دیگر شہروں میں بھی کئی سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو بھی آگ لگائی گئی۔واضح رہے کہ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق عراق میں ہر پانچ میں سے ایک شہری غربت کا شکار ہے اور نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 25 فیصد تک جاپہنچی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں عراق کو دنیا کا 12واں سب سے بدعنوان ملک قرار دیا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی