کوئٹہ میں پی ڈی ایم کا جلسہ

کوئٹہ میں پی ڈی ایم کا جلسہ
کوئٹہ میں پی ڈی ایم کا جلسہ

  

گوجرانوالہ اور کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسوں سے قبل حکومت کرونا سے ڈرارہی تھی اور اب کوئٹہ کے جلسے سے قبل نیکٹا سے ڈرارہی ہے لیکن پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن کی جماعتیں غالب کے بقول سینہ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا کی مثال بنی ہوئی ہیں اور ممولے کو شہباز سے لڑانے کو تلی ہوئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب حکومت پی ڈی ایم کے جلسوں کو ملک کے لئے سیکورٹی رسک قرار دیتی ہے۔ 

اگرچہ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جب سے وفاقی وزیر اسد عمر کی جانب سے کورونا الرٹس کا آغاز ہوا ہے اس کے بعد سے ملک میں اموات کا سلسلہ بڑھتا نظر آرہا ہے جس کا مطلب ہے کہ فی الواقعی ملک میں کورونا کی دوسری لہر در آئی ہے۔ اس مرحلے پر حکومت کو کم از کم شادیوں کے اجتماعات کو محدود کرنے کی پابندی ضرور لگانی چاہئے، اپوزیشن کے جلسوں پر خودبخود لگ جائے گی۔ اگر شادیوں کے اجتماعات ہوتے رہے تو جلسے کیسے نہیں ہوں گے؟

کورونا کی حد تک حکومتی موقف درست لگتا ہے لیکن جہاں تک نیکٹا سے ڈرانے کا تعلق ہے تو حکومت کو معلوم ہونا چاہئے کہ نیکٹا کا کام دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام ہے ناکہ اس کا اہتمام ہے۔ حکومت بلوچستان جس قدر دہشت گردی سے پی ڈ ی ایم کو ڈرارہی ہے اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ اس کی روک تھام پر زور لگائے اور نیک نامی کمائے۔ ویسے بھی کوئٹہ والے تو کب سے ازخود تنگ آمد بجنگ آمد کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں، انہیں ایسے تھریٹ الرٹس سے کیا ڈرایا جا سکتا ہے، انہیں تو جب موقع ملتا ہے اپنے غم و غصے کے اظہار سے نہیں چوکتے ہیں، بلکہ اپنی نفرت کے اظہار سے نہیں چوکتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پی ڈی ایم کی جانب سے جلسہ ملتوی کرنے سے دہشت گرد، دہشت گردی ملتوی کردیں گے؟

آج کے پی ڈی ایم کے جلسے میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی، نون لیگ اور قومی وطن پارٹی میں سے اکثر سیاسی جماعتیں کوئٹہ میں کسی بھی وقت کم از کم 20,000افراد کا اجتماع اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اسی لئے جب پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر علی مدد جتک کہتے ہیں کہ کوئٹہ جلسے میں باہر سے کوئی نہیں آئے گا اور یہ کوئٹہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا تو یہ کوئی افسانوی بات نہیں لگتی۔گوجرانوالہ کی طرح کوئٹہ کی آبادی بھی ساڑھے گیارہ سے بارہ لاکھ کے درمیان ہے اور دونوں جگہوں پر عوام بلا کا سیاسی ادراک رکھتے ہیں، خاص طور پر کوئٹہ میں تو لوگ بنیادی حقوق کی بات کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ 

کوئٹہ کے جلسے کی میزبانی جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپنے ذمے لی ہوئی ہے۔ اس سے قبل ہاکی چوک سے مولانا نے اپنے آزادی مارچ کا اعلان کیا تھا اور اس وقت وہاں سروں کی فصل کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بالاصرار پی ڈی ایم جلسوں کا آغاز کوئٹہ سے کرنے کی بات کی تھی، یوں ایک اعتبار سے پی ڈی ایم اپنی گاڑی کو آج دوسرے گیئر میں ڈال دے گی۔

بلوچستان حکومت نے کوئٹہ جلسے کے لئے جگہ بدل کر ہاکی چوک کی بجائے ایوب سٹیڈیم کردی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے جلسے کے موضوعات بھی بدل جائیں گے؟ اس کا امکان بہت کم لگتا ہے کیونکہ کوئٹہ والے تو خود کہتے ہیں کہ ہم تو عرصہ دراز سے وہی باتیں کرتے آرہے ہیں جو پنجاب کے لیڈر نواز شریف نے آج کرنا شروع کی ہیں۔ اس لئے کوئٹہ میں نواز شریف کی تقریر سونے پر سہاگہ ثابت ہوسکتی ہے۔ مریم نواز کے لئے بھی کوئٹہ کے لوگ نئے نہیں ہیں، وہ بھی گزشتہ برس وہاں ایک بھرپور خطاب کر چکی ہیں۔ اس لئے بلوچستان حکومت کو پتہ ہونا چاہئے کہ اپوزیشن نے جلسے کی جگہ بدلنے پر رضامندی دی ہے، جلسے کا موضوع بدلنے کی حامی نہیں بھری۔ ویسے ایوب سٹیڈیم بنیادی طور پر فٹ بال گراؤنڈ ہے اور اس سے متصل بگٹی کرکٹ گراؤنڈ بھی ہے، کیا ہی خوب ہوتا اگر بلوچستان پی ڈی ایم کے جلسے کو وہاں منتقل کردیتی تاکہ پی ٹی آئی کے حواریوں کو جلسے کی زبان زیادہ آسانی سے سمجھ آسکتی۔ 

دیکھنا یہ ہے کہ کوئٹہ والے جلسے کے بعد کون سا تنازع جنم لیتا ہے جس کا مقصد جلسے کے تاثر کو زائل کرنا ہو، جس طرح کراچی میں جلسے کے بعد کیپٹن صفدر کی گرفتاری کو خبر بنا کر کراچی جلسے کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ تو شکر ہے کہ نواز شریف نے کراچی جلسے میں تقریر نہیں کی تھی وگرنہ کیپٹن صفدر ابھی تک جیلوں کی ہوا کھا رہے ہوتے۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف کوئٹہ میں اپنی تقریر کو مستقبل کے خاکوں اور نقشوں تک محدود رکھیں گے اور بتائیں گے کہ کس طرح ملکی نظام کو صحیح ڈگر پر ڈالا جا سکتا ہے اور اس ضمن میں ریاستی اداروں سمیت دیگر سٹیک ہولڈروں کے کردار کا تعین کرتے نظر آئیں گے کیونکہ بلوچستان میں وہ اس قدر تلخ گفتگو کرکے چنگاری کو آگ میں بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ بلوچستان سمیت ملک کے چھوٹے صوبوں میں پہلے ہی بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں اور وہاں کے لوگ احساس محرومی سے بھرے ہوئے ہیں۔ وہاں نواز شریف ایسا رسک نہیں لیں گے۔ 

مزید :

رائے -کالم -