دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ  (5)

دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ  (5)
دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ  (5)

  

حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو لباس کا شوق اور گھرداری کا سلیقہ دونوں نسوانی جبلت کا حصہ شمار ہوں گے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی عورت ہو جو اپنی ذات یا اپنے گھر کو صاف ستھرا نہ دیکھنا چاہے۔ تو پھر پھوپھو ممتاز کا کمال کیا ہوا؟ دیکھئے نا صبح اٹھ کر نہانا دھونا، بال بچوں کو ناشتہ کرانا، بستروں کی چادریں بدلنا، کمروں برآمدوں کی صفائی، کھانے کی پکوائی، کپڑوں کی دھلائی۔ ہمارے برصغیر میں متوسط طبقے کی بیشتر خواتین کا یومیہ اوقات نامہ یہی ہے۔ پھوپھو مرحومہ کا کمال تھا اِن کاموں کی انجام دہی میں ہمہ وقت خوشدلی کا پہلو۔ صرف خوشدلی کہہ دینا کافی نہیں، میری مراد ایک عجیب طرح کی فطری روانی سے ہے۔ جیسے سورج شعوری کوشش کے بغیر ہر روز تختِ مشرق پہ ہنستے مسکراتے آ بیٹھتا ہے، موسم آنے پہ خشک ٹہنیوں پر تازہ کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں اور پہاڑی جھرنوں سے بہنے والے دریا میدانوں، وادیوں، کھیتوں کھلیانوں کو سیراب کرتے ہوئے خود بخود سمندر کی آغوش کو اپنی منزل بنا لیتے ہیں۔

 آپ کہیں گے کہ یار، یہ پھوپھو مرحومہ کی سوانح ہے یا شاعری؟ عرض کروں گا کہ پُر پیچ راستوں پر یکساں ہمت اور ارادے سے چلتے رہنا، کہیں کہیں ٹھوکر کھا کر گِرنا اور پھر سنبھل کے چل پڑنا، اپنے سے زیادہ اپنے کارواں کا خیال رکھنا۔ ہے تو یہ بھی شاعری، پر ایسی شاعری جو نثری نظم نہیں کہ جب جی میں آئی موٹر وے چھوڑ کر پگڈنڈی پکڑ لی اور اوزان کا زادِ سفر راستے میں رہ گیا۔ اِس شاعری میں قافیہ ردیف کی نظر نہ آنے والی کئی پابندیاں ہیں۔ جیسے ہمارے دادا نوے سال پہلے جب سید عطا اللہ شاہ بخاری کی پکار پر ’کشمیر چلو‘ تحریک کے رضاکاروں میں شامل ہو کر اوھم پور جیل اور پھر ٹھیکری پہرے والے فیروز پور کیمپ میں قید ہوئے تو پھوپھو کی عمر دو سال ہو گی۔ انہیں سات سالہ بڑے بھائی کی طرح، جو میرے والد ہوئے، اُس وقت یہی ترانہ سکھایا گیا تھا کہ ’اٹھو اٹھو مومنو، رُخ کرو کشمیر دا‘۔ بھائی تو عمر بھر ’نان فِکشن‘ ہی لکھتے رہے لیکن پھوپھو نے گھر یلو چاردیواری کے اندر رہ کر اِس انقلابی شاعری کے تقاضے خوب نبھائے۔ ذرا سی جھلک آپ بھی دیکھ لیجئے۔

 اول اول سیالکوٹ اور پھر واہ کینٹ میں صبح سے شام تک گھر گھرہستی کی مسلسل مصروفیت، بے وقت مہمانوں کی ہنستے مسکراتے خاطر داری، بچوں کے یار بیلی، وِیک اینڈ پہ شوہر کے چہیتے دوستوں کے لیے ’تاش خوانی‘ کے لوازمات۔ اِن میں سب سے نمایاں کھانے کے بعد رات گئے تک چائے کی چینکوں کا وہ تسلسل ہے کہ بس ایک تانتا سا بندھ جائے۔ بیچ میں پانچ وقت کی نماز کے لئے یوں آہستہ سے وقت نکال لینا ’جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے‘۔ پھر یہ کہ سونے سے پہلے اگلے روز کے ناشتے کے لئے ڈائننگ ٹیبل پہ برتن لگانا کبھی نہ بھولیں۔ میرے بچپن میں رمضان شریف کے دوران خاندان کی مردانہ آبادی کے لئے گھر کے تنور پہ تازہ روٹی پکانے والی روزہ دار عورت کے معمولات اب سے تین برس پہلے اٹھاسی سال کی عمر تک برقرار رہے۔ آخری تین سال کا ناغہ یوں کہ ڈاکٹروں کے اندازے کے مطابق، اب اُن کے گُردے صرف چھ فیصد کام کر رہے تھے۔ خدا جانتا ہے کہ گھڑی دو گھڑی کے لئے طبیعت بہتر ہوتے ہی اُن کی ٹریڈ مارک مسکراہٹ چہرے پہ پھر ناچنے لگتی۔

 جیون کا یہی قرینہ ہے جس کی زمرہ بندی لامحالہ شاعری کے طور پہ ہوگی، لیکن دو ایک موقعوں پر یہ غزل گوئی مزاحیہ شاعری میں بدل گئی۔ پھوپھو کے ہاں، جو میرے بھائی زاہد کی ساس بھی بنیں، مہمانوں کی خاطر داری میں رنگ و نسل، مذہب و ملت یا سماجی طبقہ کی قید تو تھی نہیں۔ چنانچہ ایک روز یہ غلغلہ بلند ہوا کہ چھوٹے بیٹے گڈُو کا بیٹ مین آیا ہے جو اُن کی نئی پوسٹنگ کے پیشِ نظر کچھ فالتو سامان چھوڑ کر چلا جائے گا۔ صبح کا وقت تھا اور خوشی سے پھوپھو کے پاؤں زمین پہ نہیں ٹکتے تھے، یوں جیسے بیٹ مین نہیں، نو بیاہتا بہو گھر میں آ اتری ہو۔ ”بیٹا، ناشتہ کیے بغیر کیسے جاؤ گے؟ چلو، ڈائننگ ٹیبل پہ چل کے بیٹھو“۔ اب جو ناشتہ آیا ہے تو میرے مولا، انڈے پراٹھے، ساتھ ڈبل روٹی، مکھن کی ٹکیہ اور جام کی بھری ہوئی بوتل، اِس کے علاوہ کارن فلیکس، پیڑوں والی لسی، جُوس اور چائے۔ بیس منٹ گزرنے پر جا کے پوچھا کہ محمد رفیق، کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں۔ محمد رفیق نے جام کی خالی بوتل کی طرف اشار ہ کیا اور کہا ”نہیں آپا جی، یہ ایک شیشی بڑی مشکلوں سے ختم کی ہے“۔

 یہ مت سمجھیں کہ گھر میں اچانک آ جانے والے سارے مہمان محمد رفیق جیسے سادہ طبع ہوا کرتے۔ ایک شام جب واہ میں استادِ شعر ڈاکٹر توصیف تبسم کے بیٹے کی شادی تھی، کھانے سے فارغ ہوتے ہی پروفیسر آفتاب اقبال شمیم نے کہا کہ اگر کہیں سے چائے کی پیالی مل جائے تو کیا ہی بات ہے۔ عرض کیا کہ سر، یہاں کوئی ریستوران تو قریب نہیں، آپ کو پڑوس میں پھوپھو کے گھر لئے چلتا ہوں۔ کیا خوش بخت گھڑی تھی کہ آفتاب صاحب کے ہمراہ منفرد مزاح گو انور مسعود اور لاہور سے آئے ہوئے شہزاد احمد ہی نہیں، ’گھبرائے گی زینب‘ والے سید ناصر جہاں، ایک ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے اور دس منٹ کے نوٹس پر آ گئی میری کزن لیلی کا بقول چیزوں والی چائے۔ مَیں نے اندر جا کر سید ناصر جہاں کا ذکر کیا تو پھوپھو نے التجائیہ انداز میں کہا ”صدقے جاؤں، اِن سے کہو تھوڑا  سا سنا دیں“۔ خوشی کی تقریب سے اُٹھ کر آئے تھے، اِس لیے مَیں یہ مطالبہ آگے نہ بڑھا سکا۔ پھوپھو کی فرمائش بیچ میں رہ گئی۔

 اب سوچتا ہوں کہ اگر اُس روز اُن کی یہ خواہش پوری کر دیتا تو ’پاک وطن، شاداب چمن‘ کی طرح سید ناصر جہاں کی دل نشیں آواز بھی آج میرے لیے دو انتہاؤں کو ملانے والا ایک لچکیلا پُل بن جاتی۔ ایک ایسا پُل جس کے راستے پھوپھو کے دنیا سے چلے جانے پر بھی مَیں اُن کی طرف آسانی سے چلا جاتا اور جب دل چاہے واپس آ جاتا۔ اِس وقت تو اپنا زادِ سفر بس مینٹل پیس پہ رکھی دو تصویریں ہی ہیں۔ ایک میں پھوپھو اور چچا یعقوب (ہم نے انہیں ہمیشہ چاچا جی ہی کہا) بہت خوشگوار مُوڈ میں مطمئن اور مسرور دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری میں بھائی زاہد اور مَیں تین اور چار سال کی عمر میں ایک جیسے ڈیزائن دار سویٹر پہنے مسکرا رہے ہیں۔ ہمارے کئی اور سویٹروں کی طرح یہ ڈیزائن کِس نے بنائے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ وجہ یہ کہ اُون کی موٹائی کے حساب سے دس اور بارہ نمبر کی سلائیوں سے آستین والا سویٹر ایک دن میں بُن کر دکھا دینا ایک ہی ہستی کا کام تھا۔ یہ ہستی سردیاں آنے سے پہلے ہمارا ساتھ چھوڑ گئی ہے۔ (ختم شُد)

مزید :

رائے -کالم -