یہ تجربے کی بات ہے……

یہ تجربے کی بات ہے……
یہ تجربے کی بات ہے……

  

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)  کی گاڑی رواں دواں ہے۔ فراٹے نہ بھر رہی ہو تو بھی نہیں کہا جا سکتا کہ رینگ رہی ہے۔اچھی خاصی رفتار سے چلتی چلی جا رہی ہے(اور چلتی ہی کا نام گاڑی ہے)،مولانا فضل الرحمن ڈرائیونگ سیٹ پر ہیں،جبکہ ہر سواری کنڈکٹر بنی ہوئی ہے، اپنی مرضی سے اسے بھگانا یا ٹھہرانا یا ”درمیانا“ چاہتی ہے، مولانا بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلے۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کہاں ایکسلیٹر پر پاؤں دبانا ہے، اور کہاں اسے اوپر اٹھا لینا ہے۔مزید یہ کہ کون سی انگلیوں سے کس طرح گھی نکالنا ہے۔یہ فن انہیں ورثے میں ملا ہے۔ انہیں اس طرح کی حرکت سے برکت نکالتے یا برکت ڈالتے کئی بار دیکھا جا چکا ہے۔ان کے والد گرامی حضرت مولانا مفتی محمود نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خلاف اپوزیشن تحریک کی قیادت کی تھی۔ پاکستان نیشنل الائنس المعروف بہ پاکستان قومی اتحاد کے نام سے نو جماعتیں اکٹھی ہوئیں تو اس کی صدارت کے لیے قرعہ فال ان کے نام نکل آیا۔ بھٹو مرحوم کو قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت کی حمایت حاصل تھی، سینیٹ میں بھی ان کا طوطی بولتا تھا۔شیخ مجیب الرحمن کی اکثریت سے نجات حاصل کر کے وہ ”اکثریت“ بن گئے تھے۔بڑوں کی موت نے مجھے بڑا بنا دیا۔1956ء کا جو دستور ایک منتخب دستور ساز اسمبلی نے منظور کیا تھا، اس کی چھت پیرٹی(Parity) اور  ون یونٹ کے ستونوں پر کھڑی تھی۔ 1962ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے ذاتی دستور بنواکر قوم کو عطا کیا تو انہوں نے بالغ رائے دہی اور پارلیمانی نظام پر تو ہاتھ صاف کر لیا لیکن ”ون یونٹ“ اور ”پیرٹی“ جوں کے توں رہے کہ پاکستان  مشرقی اور مغربی حصوں کے وفاق کا نام تھا۔جنرل یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضے کا شوق پورا کیا تو نیا دستور بنانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔بہت سمجھایا گیا کہ1956ء کا دستور بحال کر دیجیے! اسے ایوبی مارشل لا نے غیر قانونی طور پر منسوخ کر ڈالا تھا۔ان کے اس اقدام پر خط ِ تنسیخ پھیر کر سفر وہیں سے شروع کر دیجیے، جہاں سے یہ کھوٹا ہوا تھا۔مارشل لا کی پیدا کردہ تلخی اور بد اعتمادی، نیا اتفاق رائے پیدا کرنے میں رکاوٹ بن جائے گی،اور مرکز گریز قوتوں کی بن آئے گی، ’بے دماغ بد دماغوں‘ نے ایک نہ سنی اور نئی دستور ساز اسمبلی کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔بعدازاں اپنے ہی اس اعلان کا مذاق یوں اڑایا کہ پیرٹی(Parity) اور ون یونٹ توڑ ڈالے گئے،کوئی پوچھنے والا نہیں تھا کہ جب نئی دستوریہ بنائی جا رہی ہے تو مارشل لا بہادر سارا کام اس پر کیوں نہیں چھوڑ رہے، اپنے آپ کو دستور ساز سمجھ کر کیے دھرے پر پانی کیوں پھیر رہے ہیں؟ 300 کے ایوان میں ایک صوبے (مشرقی پاکستان) کو -165 ارکان الاٹ کر دیے گئے  تو باقی چار صوبوں کے حصے میں 135 نشستیں لکھی گئیں۔گویا مشرقی صوبے کو پنجاب، سندھ، سرحد(اب خیبرپختونخوا) اور بلوچستان کے مجموعے پر  فوقیت حاصل ہو گئی۔ نئے دستور کی منظوری کے لیے دو تہائی یا تمام صوبوں کی اکثریت کی تائید کی شرط تک عائد نہ کی گئی۔ انتخاب کا نتیجہ آیا تو مشرقی حصے سے عوامی لیگ163 نشستیں جیت گئی۔ صرف دو ارکان ایسے منتخب ہوئے جن کا تعلق اس سے نہیں تھا۔ عوامی لیگ کو تین سو کے ایوان میں ”تنِ تنہا“ اکثریت حاصل ہو گئی۔ یحییٰ خان کے عطا کردہ قانونی ڈھانچے(لیگل فریم ورک آرڈر) کے تحت اسے بلا شرکت غیرے دستور بنانے کا قانونی اختیار حاصل ہو گیا۔ باقی چاروں صوبے غیر متعلق(irrelavent) ہو کر رہ گئے۔ مارشل لا کے موٹے دماغ کو یہ نکتہ سمجھ ہی نہیں آیا تھا لیکن جب یہ حقیقت بن کر سامنے آیا تو دن میں تارے نظر آ گئے۔ عوامی لیگ اپنی مرضی کا آئین بنانے پر تل گئی، اور وہ گھمسان کا رن پڑا کہ ملک دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ …… اُدھر تم، اِدھر ہم……

یحییٰ خانی اقتدار نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں بھارتی فوج کے سامنے ”سرنڈر“ کیا، تو ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے بھی کورنش بجا لانا پڑی کہ بچے کھچے پاکستان کی حمیت ہتھیار ڈالنے والے اقتدار کو برداشت کرنے پر تیار نہ تھی۔ لوگ مرنے مارنے پر تل گئے تھے۔خواہی نخواہی بھٹو صاحب کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا کر ”نئے پاکستان“ کے تخت پر بٹھا دیا گیا۔بھٹو اقتدار کو اپنی کمزوری کا اچھی طرح علم تھا، کہ بڑے بھائی کے قتل نے یہ گد ّی اسے بخشی ہے۔اس لیے اول اول تو اپوزیشن سے حُسن ِ سلوک کا خوب مظاہرہ ہوا۔ اتفاق رائے سے دستور بھی بنا ڈالا گیا، لیکن جوں جوں وقت گذرا، پاؤں جمے،جوہر کھلتے گئے اور اپوزیشن کو تہہ تیغ کرنے کی کارروائیاں انتہا کو چھونے لگیں۔ بلوچستان اور صوبہ سرحد (آج کا خیرپختونخوا) کی نمائندہ سیاسی جماعت، نیشنل عوامی پارٹی کو نشانے پر رکھ لیا گیا۔  نیپ کو خلاف قانون قرار دے کر اس کے قائدین کو حوالہ ئ  زنداں کر دیا گیا۔ ایک خصوصی ٹربیونل ان پر غداری کے الزامات کی سماعت کے لئے مقرر ہو گیا۔ حیدرآباد جیل میں کارروائی جاری تھی، کوشش تھی کہ ملزمان کو تختہ ء دار پر لٹکایا جائے یا کم از کم عمر قید کی سزا دلوا کر جیلوں میں گلنے سڑنے کے لئے چھور دیا جائے۔ کئی اپوزیشن رہنما گولیوں کا نشانہ بنا ڈالے گئے۔ سمجھا یہ جا رہا تھا کہ چین کی بانسری بجے گی اور دستور میں مرضی کی ترمیمات کر کے ”صدارتی نظام“ قائم کیا جا سکے گا۔

بااثر شخصیات جوق در جوق پیپلزپارٹی کا رُخ کر رہی تھیں،اپوزیشن بٹی اور پسی ہوئی تھی۔ ایک طرف کئی جماعتوں کا مجموعہ متحدہ جمہوری محاذ تھا تو دوسری طرف ایر مارشل اصغر خان اور مولانا نورانی تھے،ان کا جھنڈا اپنا تھا۔ ایر مارشل اپوزیشن سیاست کی سب سے توانا آواز اور سب سے روشن چہرہ تھے، موقع غنیمت جان کر اور وقت ِ مقررہ سے ایک سال پہلے ہی عام انتخابات کرانے کا فیصلہ کر دیا۔ خیال تھا کہ حریفوں کو عبرتناک شکست ہو گی، اور بھٹو صاحب  ہنستے ٹہلتے  نیا مینڈیٹ حاصل کر کے مزید من مانیاں کر سکیں گے۔کرنا خدا کا کہ جونہی انتخابات کا اعلان ہوا، تمام مخالف جماعتیں یک جا ہو گئیں۔ ایجنسیاں گھبرا کر حرکت میں آئیں کہ ایر مارشل اصغر خان اتحاد کے سربراہ نہ بننے پائیں۔ان کا خیال تھا کہ مفتی محمود آگے آئیں گے تو ان کی ”مولویت“ اپوزیشن کے راستے کی دیوار بن جائے گی،اسے بین الاقوامی پذیرائی ملے گی،نہ قومی۔ لوگ ”مولوی“ کے مقابلے میں بھٹو چہرہ اپنے چہرے پر سجانے کو ترجیح دیں گے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے،  پی این اے الیکشن تو ہار گئی لیکن اس نے جو  مذہبی جوش و خروش پیدا کیا، وہ منہ زور اقتدار کی کشتی ڈبو گیا۔

بھٹو جیسا زیرک شخص جس کی تاریخ پر گہری نظر تھی، اپوزیشن کو حرف غلط سمجھ کر مٹانے کی کوشش میں خود مٹ گیا، اقتدار گیا اور جان سے بھی گیا۔ جب غلطی کا ازالہ کرنا چاہا تو معاملہ دور نکل چکا تھا۔آج بھی اپوزیشن نشانے پر ہے۔ اس کے خلاف مقدمات قائم ہو رہے ہیں۔ گرفتاریاں ہو رہی ہیں، ریفرنس پر ریفرنس داغے جا رہے ہیں۔ ای سی ایل پر نام ڈالنے کا شوق بھی کم ہونے میں نہیں آ رہا۔ اور تو اور، نوبت ایک قابل ضمانت ”جرم“ میں کیپٹن(ر)صفدر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے لئے آئی جی سندھ کو ”اغوا“ کر نے تک جا پہنچی ہے۔عوام کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے، مہنگائی، بے روزگاری، بد امنی بے یقینی کے ساتھ مل کر اودھم مچانے کی صلاحیتیں حاصل کرتی جا رہی ہے،لیکن طاقت والے طاقت برائے طاقت کو اپنی طاقت بنائے ہوئے ہیں۔تاریخ پر نظر رکھنے والوں کے دِل ہیں کہ  ڈوبتے جا رہے ہیں۔ یا الٰہی خیر      ؎

دیکھی ہیں بعد ”عشق“ کے اکثر تباہیاں 

یہ تجربے کی بات ہے ہوتی ہے کم غلط

(یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور  روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید :

رائے -کالم -