ہم نے سی پیک جیسے منصوبے دیئے ، انہوں نے انڈے اورمرغیاں دیں:مولانافضل الرحمان کا کوئٹہ میں خطاب

ہم نے سی پیک جیسے منصوبے دیئے ، انہوں نے انڈے اورمرغیاں دیں:مولانافضل ...
ہم نے سی پیک جیسے منصوبے دیئے ، انہوں نے انڈے اورمرغیاں دیں:مولانافضل الرحمان کا کوئٹہ میں خطاب

  

کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے (ف) اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے ملک کوسی پیک اور بڑے بڑے منصوبے دیئے آپ نے قوم کو انڈے اور مرغیاں دیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے کے بعد وزیراعظم اور صدر کو مستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔یہ کشمیر فروش ہیں، انہوں نے کشمیر کا سودا کیا۔ 

مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں جلسہ سے خطاب سے پہلے ایک قرارداد پیش کی جس میں فرانس میں گستاخانہ خاکے دیواروں پر لگانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ا نہوںنے کہا کہ پوری امت مسلمہ ایسے حکمرانوں کے منہ پر تھوکتی ہے جو ہمارے نبی حضرت محمدﷺکی توہین کی مرتکب ہوتی ہے۔ انہوںنے واضح کیا کہ ایسے ناپاک اقدامات فوری طور پر روک دیئے جائیں،اگر ایسا نہ ہو اتو پھر ہماری طرف سے شدید ردعمل بھی آئے گا ۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کراچی میں کیپٹن صفدر کے ساتھ ہونے والے واقعہ کی مذمت کرتا ہو ں اوراسے اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیتا ہوں ۔ اگر ان میں تھوری سی بھی شرم ہے توچلو بھر پانی میں ڈوب مرناچاہیے ۔ان کا کہنا تھاکہ صفدر کومزار قائد پر نعرے لگانے پر گرفتار کیاجاتا ہے لیکن جب لاہور میں وزیرخان مسجد میں فلم کی چھوٹنگ ہوتی ہے، مسجد کی بے حرمتی کی جاتی ہے تو پھر قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا۔ 

انہوں نے کہا کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف نام نہاد کابینہ نے دو ریفرنس منظور کر کے جعلی صدر کے پاس بھیجے پھر عدالت عظمی میں پیش کیا لیکن عدالت نے ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے ۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ان کے پاس حکومت کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رہتا ، وزیراعظم اور صدر اب کس بنیاد پر اپنے عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمی کے فیصلے نے واضح کر دیا کہ پی ڈی ایم کا موقف درست ہے اور یہ حکمران جعلی ہیں۔

مولانافضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ہم کسی کو بھی چھوٹے صوبوں کے حقوق نہیں چھیننے دیں گے، ہم کسی کو اٹھارویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا آخری بجٹ ساڑھے پانچ فیصد تھا جو کہ اگلے سال ان نالائقوں نے تخمینہ کو ایک اعشاریہ آٹھ پر لے آئے ۔ پچھلے سال کا ان کا بجٹ صفر سے بھی نیچے آگیا ۔ انہوںنے کہا کہ ایک وقت تھا ہماری معیشت مضبوط تھی اور واجپائی چل کر لاہور آیا اور کہا کہ ہمارے ساتھ تعلقات بڑھاﺅ اور تجارت کرو لیکن ان کی بدترین خارجہ پالیسیو ں کی وجہ سے آج انڈیا تو درکنارافغانستان ، ایران بھی تجارت نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ چین کے ساتھ ہماری دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں، سعودی عرب ہمارے ساتھ مثالی تعلقات تھے انہوںنے ہر مشکل وقت میں ہماراساتھ دیا لیکن ان نااہلوں نے چین کے ساتھ بھی تعلقات خراب کیے اور سعودی عرب کو بھی ناراض کر دیا۔ انہوںنے کہا کہ انصاف کے نام پر عمران خان نے نوجوانوں کو دھوکا دیا ہے، ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دے کر عوام کو پاگل بنایاگیا، ایک کروڑ نوکریاں تو جب سے پاکستان بنا تب سے نہیں نکلیں یہ پانچ سال میں کیسے دے سکتاہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکمران کشمیر فروش ہیں، انہوں نے کشمیر کا سود ا کیا ہے۔ کشمیر اور گلگت کے ساتھ جو رہا ہے وہ عمران خان کا خود پیش کیا ہوا فارمولا ہے ۔ انہوں نے خود مودی کے جیتنے کی دعائیں کیں اور کشمیر کو تین حصوں میں بانٹنے کا مشورہ دے دیا تھا۔ جب مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کیا تو انہوں نے گھر بیٹھے اس کو تسلیم کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ درج کرنے سے ہندوستان کو خوش کیا گیا، انہوں نے کشمیریوں کے خون کو بیچا، ان کے خون پر سیاست کی۔ 

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہم اداروں کے دشمن نہیں، ادارے ملک کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں، اداروں اور ان کے سربراہان کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر وہ پاکستان پر مارشل لا ءمسلط کرتے ہیں یا ایک جعلی حکومت کی پشت بانی کرتے ہیں تو ان سے گلہ، شکایت ،احتجاج کرنا ہمارا حق بنتا ہے۔ آج بھی ہماری اسٹیبلشمنٹ جعلی حکومت سے دستبردار ہوجائے ، قوم سے معافی مانگ لے اور تسلیم کر لے اور کہے کہ 2018الیکشن میں ہم سے غلطی ہوئی تو ہم آج بھی ان کو اپنی آنکھوں پر بٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ این آراو ہماری نہیں اب آپ کی ضرورت ہوگی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -