گجر نالہ تجاوزات کیس، سپریم کورٹ کے فوری طلب کرنے پر وزیر اعلیٰ سندھ عدالت پیش ہو گئے

گجر نالہ تجاوزات کیس، سپریم کورٹ کے فوری طلب کرنے پر وزیر اعلیٰ سندھ عدالت ...
گجر نالہ تجاوزات کیس، سپریم کورٹ کے فوری طلب کرنے پر وزیر اعلیٰ سندھ عدالت پیش ہو گئے

  

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں گجر نالہ  اور اورنگی نالہ کے متاثرین کے کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے سندھ حکومت کی رپور ٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ کو فوری طلب کرلیا، عدالت کے طلب کرنے پر وزیر اعلیٰ پیش ہو گئے ۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ کچھ مالی مسائل آڑے آرہے ہیں ، چیف جسٹس پاکستان نے  ریمارکس دیے کہ یہ کیا رپورٹ جمع کرائی ہے ،آپ لوگ عدالت کا مذاق اڑا رہے ہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کو بلائیں، ان سے کہیں فوری پہنچیں ، ہم وزیر اعلی سندھ سے ہی پوچھیں گے ۔عدالت کے طلب کرنے پر کچھ دیر بعد وزیر اعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ عدالت پہنچ گئے ۔

جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دیے کہ ہمارا کام سندھ کے معاملات دیکھنا نہیں ، آپ وزیر اعلیٰ ہیں ، یہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے ، جنہیں نالوں پر بٹھایا گیا انہیں مفت زمین نہیں دی ، کسی نہ کسی نے ان سے پیسے لئے ، لیز دی ، آپ سکون سے سو جائیں گے تو شہر بھی سکون سے سوئے ۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ہم تو آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعلیٰ صاحب ! دیکھ لیں سندھ کے عوام کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں ، آپ ہر بات میں وفاقی حکومت کی بات کر رہے ہیں ، اگر وفاق یہاں آکر بیٹھ گیا تو پھر آپ کیا کریں گے ۔  اٹارنی جنرل پاکستان کو چیف جسٹس کا افسر تعینات کرنے سے متعلق حکم پر چیف جسٹس نے کہا کہ مراد علی شاہ کہتے ہیں کہ آپ افسر تعینات نہیں کر رہے ، آپ اس مسئلے کو وفاقی حکومت کے سامنے رکھیں ۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ میں وفاقی حکومت سے بات کروں گا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر ادارہ مفلوج ہو گیا ہے ، عوام تک ریلیف پہنچتا ہی نہیں ، گراس روٹ لیول پر حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ، عوام کی شنوائی تو ہے ہی نہیں ، بھٹو اور اس وقت کے زمانے میں نیچے تک رسائی تھی ، تھک ہار کر شہری کے پاس عدالت رہ جاتی ہے ۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے سید مراد علی شاہ سے کہا کہ ، ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے ۔  یہ بتائیں ، یہ مسائل کب حل ہوں گے ، وزیر، مشیر ، افسر تک کوئی شہری پہنچ ہی نہیں سکتا، آپ لاڑکانہ ، سکھر دیکھ لیں ، ہر شہر میں برے طریقے سے تجاوزات قائم ہو رہی ہیں ، آپ کے ادارے کام کیوں نہیں کرتے ، سٹیٹ قانون سے چلنے کا نام ہے ، ہمارے ہاں سٹیٹ آف مین چل رہا ہے ، الٹا معاملہ ہے ۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ پبلک سروس کمیشن سے متعلق ایک درخواست سپریم کور ٹ میں ہے ، آپ سے استدعا ہے کہ وہ جلد سن لی جائے ۔ چیف جسٹس پاکستان نے آفس کو مذکورہ درخواست جلد لگانے کی ہدایت کر دی ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -