اگر سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان کیا کرے گا؟ وزیر اعظم نے واضح پیغام دے دیا

اگر سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان کیا کرے گا؟ وزیر اعظم نے واضح ...
اگر سعودی عرب کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان کیا کرے گا؟ وزیر اعظم نے واضح پیغام دے دیا

  

جدہ (محمد اکرم اسد) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر شعبے میں سرمایہ کاروں کے لئے منافع بخش منصوبے منتظر ہیں،  انہیں اپنا اصل زر، منافع اور ڈیوڈنڈ ملک سے باہر لے جانے کی مکمل آزادی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک ایسی سٹریٹیجک لوکیشن پر واقع ہے جو وسطی ایشیا اور چین کی بڑی مارکیٹس کا معاشی دروازہ ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے انڈیا کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے اتوار کو ہونے والے پاکستان اور انڈیا کے کرکٹ میچ کا حوالہ بھی دیا، جس پر شرکا نے تالیاں بجائیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو مہذب پڑوسیوں کی طرح رہنا چاہیے۔ بھارت کشمیریوں کو ان کے حقوق دے جس کی ضمانت سلامتی کونسل نے دی تھی۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے کی صورت میں پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا۔

 سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پاک سعودی سرمایہ کاری فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہر حال میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پُرعزم ہے،  سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنے ملک میں مزید مثبت تبدیلیاں لانے کا جذبہ ہے۔"اگر کبھی سعودی عرب کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا، مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت دنیا کیا کرے گی، مگر میں یقین دلا سکتا ہوں کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔"

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ 30 سال سے سعودی عرب آ رہے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ملک میں تبدیلیوں کا جذبہ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب مضبوط تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں  جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ مقدس مقامات ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ’اگر کبھی سعودی عرب کی سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوا، مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت دنیا کیا کرے گی، مگر میں یقین دلا سکتا ہوں کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔‘

اس موقع پر سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد بن عبدالعزیز الفالح نے اپنے خطاب میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ اور پائیدار تعلقات پر زور دیا اور دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین اور وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔  تقریب میں ہاؤسنگ اور پن بجلی کے شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر الگ الگ پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں پاکستان کی جغرافیائی سیاست سے جیو اکنامکس کی جانب منتقلی سے متعلق گفتگو کی۔ شوکت ترین نے پاکستان کی معاشی بحالی پر روشنی ڈالی اور وزیر توانائی حماد اظہر نے توانائی ، زراعت ، لائیو سٹاک اور دیگر اہم شعبوں میں مواقع کا خاکہ پیش کیا۔

تقریب میں سعودی سرمایہ کاروں اور تاجروں، پاکستان کے اہم کاروباری افراد، مملکت میں مقیم پاکستان کے نجی شعبے کے سٹیک ہولڈرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

معروف سعودی فرموں بشمول ایس اے بی آئی سی ،اے سی ڈبلیو اے پاور ، مدین، ایس اے ایل آئی سی ،الزمیل گروپ، البوانی گروپ اور راعد بینک نے فورم میں شرکت کی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -