آزاد کشمیر میں سیاحت کا فروغ اور اس کے فوائد 

آزاد کشمیر میں سیاحت کا فروغ اور اس کے فوائد 
آزاد کشمیر میں سیاحت کا فروغ اور اس کے فوائد 

  

تحریر: اویس چغتائی

آمدنی اور روزگار کے کلیدی ذریعہ کے طور پر دنیا میں بہت سارے مقامات سیاحت پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ سیاحت تفریحی, فرحت بخشانہ،صحت افزائی، اطمینان بخشی یا قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے مقاصد کے لئے سفر کو کہتے ہیں۔ سیاحت سے مختلف ثقافتوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور مختلف اچھی چیزیں ایک معاشرے سے دوسرے میں رائج ہوجاتی ہیں۔سیاحت کے مختلف اقسام ہیں جیسے قدرتی نظاروں کو دیکھنے والا سیاحت، مذہبی سیاحت جس میں لوگ مختلف مذہبی جگہوں کو دیکھنے جاتے ہیں،تاریخی سیاحت جس میں لوگ آثار قدیمہ وغیرہ دیکھتے ہیں

آزاد کشمیر ایک قدرتی  نظاروں کا سیاحتی خطہ ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے_ جس کو قدرت نے ہر قسم کے زمین و آب اور ہوا سے نوازا ہے، اس میں ہریالی ہے،. پہاڑ اور جنگلات،دریا، جھیلیں اور صاف پانی کے چشمے قدرت کا بہترین نظارہ پیش کرتے ہیں، جو سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،

آزاد کشمیر کے مختلف سیاحتی علاقے، جن میں  نیل ویلی، جہلم ویلی، گنگا چوٹی، نرگولا واٹر فال، _ریڈ فارٹ، شاؤنٹر لیک، بنجوسہ لیک، طولی پیر، راولاکوٹ، _پیر چانسی، ارنگ کیل، لیپا ویلی،. چیٹا کٹھا لیک، رامکوٹ فارٹ، منگلا ڈیم، _دھانی واٹر فال،  لسڈھنہ، اور بے شمار ایسے مقامات ہیں جو قدرت کا بہترین تحفہ ہیں، جو کہ  کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں.

آزاد کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جو سیاحت سے بہت زیادہ معاشی اور اقتصادی فائدہ حاصل کر سکتا ہے، سیاحت کے بہت سے فوائد ہیں، یہ شاید سیاحت کا بنیادی فائدہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی اتنی تشہیر کی گئی ہے ، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں۔ حاصل کی گئی آمدنی نجی ، مقامی اور قومی دونوں طرح کی آمدنی کا ایک نمایاں تناسب تشکیل دے سکتی ہے۔ ہوٹل ، بار ، ٹرانسپورٹ ، سرگرمیاں ، دکانیں ، اور ریستوراں سب کو عملے کی ضرورت ہے۔ سیاحت لوگوں کو بے حد ضروری روزگار فراہم کرسکتی ہے۔ اس سے سڑکیں ، ریل نیٹ ورکس اور مقامی طبی و تعلیم کی سہولیات جیسے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لئے ایک وسیلہ اور ترغیب دی جاتی ہے۔آزاد کشمیر میں اگر سیاحت کو فروغ دیا جائے تو ان سب فوائد کو حاصل کرنا نہایت آسان ہو گالیکن کشمیر میں سیاحت کی رکاوٹ کی سب سے بڑی وجہ  آمدورفت کا ناقص نظام اور سیاحتی مقامات پر سہولیات کا فقدان ہے، 

آزاد کشمیر حکومت اگر بجٹ میں سیاحت کی فروغ دینے کے لیے رقم مختص کرے،. اور آمدورفت کے نظام کو بہتر کیا جائے، سڑکیں اور پل تعمیر کیے جائیں ، اور سیاحتی مقامات پر سہولیات کا بندوبست کرے، جو کہ سیاحوں کی آسانی کا سبب بنے، تو سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد کشمیر کا رخ کر سکتی ہے، جو کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پہنچ سکتا ہے، سیاحتی مقامات پراگر ایئرپورٹس، اور ہیلی پیڈز بنائے جائیں، تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ  بھی حاصل ہو سکے، اور انکی آسانی سبب بنے.جیسے کی گنگا چوٹی، بنجوسہ جھیل، پیر چناسی، نیلم جھلم ویلی، جو کہ قدرت کا بہترین شہکار ہیں، ان جگہوں پر ہیلی کاپٹر کی لینڈ گ پلیسز بنائی جائیں، تو یہ دنیا کے بہترین سیاحی مقامات میں شامل ہو جائیں گے،.. .. اس سے بین الاقوامی سیاحت کو بھی فروغ ملے گا... مزید یہ کہ معیاری  ہوٹلز، ریسٹورنٹس، گیسٹ ہاؤسسز تعمیر کے جائیں، اس سے کشمیر میں سیاحت کو بڑے پیمانے پر ترقی ملے گی.

 اس کے علاوہ اگر کشمیری کھانوں کے ریسٹورنٹس، اور ثقافتی اشیاء، کپڑے، شالز، ہاتھ سے بنی گھریلو اشیاء کی دکانیں اور اساٹلز بھی لگائے جائیں، جو کہ سیاحوں کی دلچسپی بڑھائے گا اس کے علاوہ آمدنی اور روزگار کے کلیدی ذریعہ ثابت ہو گا،__ اوراس کا  سب سے اہم مقصد  اپنی ثقافت کو فروغ دینا بھی ہو گا.سیاحتی مقامات پر سہولیات کے ساتھ ساتھ، اگر مناسب فریم ورک بنایا جائے، جس میں سیاحوں کو ہمارے کلچر کے مطابق رہنے سہنے کا طریقہ بھی فراہم کیا جائے تا کہ ہمارا کلچر کو فروغ ملے.. نا کہ ہمارے اندر باہر کا کلچر شامل ہو جائے.سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ابھی وسیع پیمانے پر کام کی ضرورت ہے لیکن اگر ان سب کاموں کو تھوڑی سی بھی توجہ دی جائے تو اکک بہت بڑی کامیابی حاصل کو سکتی ہے، ان سب مو زیر عمل لایا کر سیاحت کو فروغ دیا جائے تو کشمیر کا خطہ جلد ہی ترقی پذیر علاقوں سے ترقی یافتہ علاقوں میں شامل ہو جائے گا۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -