سپین نےکورونا ایمرجنسی میں کئے  تمام جرمانوں کی رقوم عوام کو واپس کرنے کا فیصلہ کر لیا

سپین نےکورونا ایمرجنسی میں کئے  تمام جرمانوں کی رقوم عوام کو واپس کرنے کا ...
 سپین نےکورونا ایمرجنسی میں کئے  تمام جرمانوں کی رقوم عوام کو واپس کرنے کا فیصلہ کر لیا

  

بارسلونا (ارشد نذیرساحل )سپین کی مرکزی حکومت کے فیصلے کے بعدسیاحتی صوبے کاتالونیا حکومت کی وزارت داخلہ نے بھی گزشتہ سال پہلی ایمرجنسی میں کیے جانے والے تمام جرمانوں  کی رقوم عوام کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پہلی ایمرجنسی (یعنی مارچ 2020 سے جون 2020 تک) کے خلاف اپوزیشن کی جماعت بوکس نے اعلی ٰعدالت میں آئینی درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت کا فیصلہ آیا کہ اُس ایمرجنسی میں بعض حکومتی اقدامات غیر ضروری اور غیر آئینی تھے، اگرچہ عدالت نے اپنے فیصلے میں جرمانوں کی واپسی کا حکم نہیں دیا تھا مگر ہسپانوی حکومت نے اپنے طور پر ہی تمام جرمانے واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپین کے باقی صوبوں کے برعکس کاتالونیا اور پائیس باسکو میں ایسے فیصلے مرکزی حکومت کی بجائے صوبائی حکومت کا اختیار ہیں، اس لیے کاتالونیا کے شہری کاتالان حکومت کے فیصلے کےمنتظر تھے۔ 

اس حوالے سے کاتالونیا میں مجموعی طور پر اندازاً چالیس لاکھ یورو عوام کو واپس ملیں گے۔  یاد رہے کہ پہلی ایمرجنسی میں کیے جانے والے جرمانوں میں سے 23 ہزار جرمانوں کی ادائیگیاں ہوچکی ہیں۔ کاتالان حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کو جرمانوں کی رقوم کی واپسی کے لیے آسان ترین طریقہ اپنا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ جن لوگوں نے ابھی تک اپنے جرمانوں کی ادائیگی نہیں کی اُن کے جرمانوں کی فائلیں بھی خود بخود منسوخ ہو جائیں گی۔ دوسری ایمرجنسی کے متعلق بھی آئینی عدالت میں بحث جاری ہے، ابھی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

مزید :

بین الاقوامی -