کرپشن کے خلا ف مہم

         کرپشن کے خلا ف مہم
         کرپشن کے خلا ف مہم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  نگران حکومت کا مینڈیٹ اگرچہ محدود ہے لیکن اس نے بعض اہم اور دیرینہ مسائل پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اس پر بعض حلقوں میں پریشانی ہے لیکن حکومت کا مؤقف ہے کہ جانے والی حکومت نے بعض مسائل پر فیصلے کر رکھے تھے اور ہم انہی کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اگر یہ کام اس حکومت کے دور میں ادھورا رہ گیا تو آنے والی حکومت اسے مکمل کر سکتی ہے یہی طریقہ صحیح ہے کہ ماضی میں شروع کئے گئے مثبت منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے بدقسمتی سے ہمارے ہاں رواج یہ چلا آ رہا ہے کہ آنے والی حکومت پچھلی حکومت کے منصوبوں کو ٹھپ کر دیتی ہے لہٰذا غور کریں تو صرف چند منصوبے ایسے ہیں جن پر آنے جانے والی حکومتوں کا اتفاق رائے نظر آتا ہے مثلاً چودھری پرویز الٰہی نے 1122 منصوبہ شروع کیا تھا جو اب بھی کامیابی سے چل رہا ہے دوسری مثال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ہے۔نگران حکومت نے بلوچستان میں پچھلے دس سالوں میں ترقیاتی فنڈز کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے کرپشن کے خلاف مہم کے سلسلے میں یہ ایک اچھا اقدام ہے۔کرپشن ہمارے ہاں ایک وے آف لائف بن گئی ہے۔ نائب قاصد بھی اِس کام میں ملوث ہے اور حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں پر بھی یہی الزام ہے۔ اب تو عالم یہ ہے کہ کسی نے غلام محمد قاصر کے مشہور شعر میں ایک تبدیلی کی ہے جو حسب ِ حال ہے۔

کروں گا کیا جو کرپشن بھی چھوڑ دی میں نے

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

ہر آدمی کو کہیں نہ کہیں کرپشن سے واسطہ پڑتا ہے اور بعض لوگ محکموں کی یہ ضرورت بخوشی پوری کرتے ہیں اور محکمہ بھی بڑی برق رفتاری سے اُن کا کام کر دیتا ہے مسئلہ تو اُن لوگوں کے لئے بنتا ہے جنہوں نے زندگی بھر عہدوں پر بیٹھ کر بھی کرپشن نہیں کی انہیں رشوت دینا بہت مشکل لگتا ہے لہٰذا وہ تکلیف اُٹھاتے ہیں۔ کرپشن صرف پاکستان میں نہیں دنیا کے بہت سارے ملکوں میں ایک مسئلہ ہے۔ ہمارے ہاں معاشرے نے کرپشن سے سمجھوتہ کر لیا ہے لہٰذا انہیں اس مسئلے سے کوئی پریشانی نہیں کرپشن کی کئی شکلیں ہیں ان میں سب سے زیادہ منظم اور قابل قبول شکل کمیشن ہے۔ تعمیراتی منصوبوں میں کمیشن لازمی ہے اور منظم طریقہ سے لیا جاتا ہے ہر عہدے کے افسر کا کمیشن طے ہے حیرت ہوتی ہے کہ کبھی کسی شخص نے اس کرپشن پر سوال تک نہیں اُٹھایا۔ محکموں میں ناجائز فائدے اُٹھانے کے لئے رشوت بھی عام ہے حتیٰ کہ فائل کے سفر کو تیز کرنے کے لئے بھی رشوت کی ضرورت ہے بقول ملک ریاض فائل کو پہیے لگانے پڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں کرپشن کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں۔ عام طور پر کرپشن صرف پیسے کے لین دین کو سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اقرباء پروری، اختیارات کا غلط استمال اور حتیٰ کہ میرٹ سے ہٹ کر کیا جانے والا ہر کام کرپشن کے ضمن میں آتا ہے، لیکن عام طور پر ہمارا ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتا۔ بانی ئ پاکستان قائداعظم ؒنے دستور ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقرباء پروری، اختیارات کا ناجائز استعمال اور رشوت ایسی لعنتیں ہیں، جنہیں ختم کرنا ہو گا، لیکن ہمارے ہاں کتنے لوگ ہیں جو اقرباء پروری سے پرہیز کرتے ہیں یا اِسے بُرا سمجھتے ہیں۔ میرٹ تو ہمارے معاشرے میں ایک اجنبی تصور بن گیا ہے یہ لفظ بھی حکمراوں کے منہ سے سننے کو کان ترس گئے ہیں ہمارے ہاں فوج اور سول سروس میں بھرتی اور ترقی وغیرہ کے معاملے میں میرٹ کو کافی حد تک ملحوظ رکھا جا رہا ہے جو غنیمت ہے۔ دراصل یہ ادارے ہمیں انگریزوں سے ورثے میں ملے ہیں۔ ہم کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے معاملے میں کافی بدنام ہیں۔بعض اداروں کا تو نام آتے ہی ذہن میں کرپشن آ جاتی ہے مثلاً محکمہ مال اور پی ڈبلیو ڈی وغیرہ۔افسوس کہ کسی حکومت نے کرپشن کے خلاف مہم چلانے کی ہمت نہ کی۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین نے اپنے دور میں کرپشن کے خلاف زبردست مہم چلائی، لیکن افسوس یہ مہم صرف شریف خاندان کے خلاف تھی یہاں تک کہا گیا کہ انہوں نے لوٹ کر جو دولت غیرملکوں میں رکھی ہے وہ واپس لائی جائے گی اور پاکستان کے سارے قرضے ادا کر دیئے جائیں گے، لیکن ہوا یہ کہ اس خاندان کی کرپشن تو خودبخود بند ہو گئی جب وہ اقتدار سے باہر ہو گئے، لیکن باہر سے ایک پیسہ بھی نہ آیا البتہ اس مہم کے انچارج پاکستان سے بھاگ گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ کرپشن ایک سنجیدہ مسئلہ ہے تاہم یہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں اور نہ یہ صرف پاکستان تک محدود ہے دنیا بھر میں یہ مسئلہ موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کرپشن کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے اور یہ معاملہ سیاسی مصلحتوں سے بلند ہونا چاہئے۔ ہم نے کرپشن کے خامتے کے لئے ادارے بھی بنائے ہوئے ہیں ان میں سب سے بڑا ادارہ نیب ہے جس کے بارے میں اب تقریباً اتفاق رائے ہے کہ یہ ادارہ کرپشن کے خاتمے کے لئے نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ کے لئے بنایا گیا تھا یعنی ہر معاملے میں ہماری  نیتوں میں فتور ہے۔ بعض ادارے کہیں کہیں لکھ دیتے ہیں کہ Say no to Corruption یہ ایک مذاق لگتا ہے اس معاملے میں پوری قوم کا اتفاق رائے اور سنجیدگی ضروری ہے۔ اِس معاملے میں شعور بیدار کرنے کے لئے قومی سطح پر اور اداروں میں سیمینار منعقد کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے دانشوروں اور علماء کی مدد حاصل کرنی چاہئے اور یہ کام مسلسل ہونا چاہئے سیاسی پارٹیوں خصوصاً جماعت اسلامی کو اس معاملے میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے، کیونکہ اِس معاملے میں اُن کا دامن صاف ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے۔ اداروں کے سربراہوں کو یہ ٹاسک دینا چاہئے کہ وہ اپنے ادارے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے لئے لائحہ عمل بنائیں۔ میڈیا اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -