بھارتی وزیر خارجہ کا دورہ ہندی اخبارات کی نظر میں

بھارتی وزیر خارجہ کا دورہ ہندی اخبارات کی نظر میں
بھارتی وزیر خارجہ کا دورہ ہندی اخبارات کی نظر میں

  



امن پسند حلقوں کی اکثریت نے پاک بھارت تعلقات میں آئی بہتری پر تبصرہ کرتے کہا ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا نے 8تا9ستمبر2012ءپاکستان کا دورہ کیا۔اس دوران اعلیٰ ترین حکومتی اور اپوزیشن شخصیات سے ان کی ملاقات ہوئی، اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ملک میں جانے کے خواہش مند شہریوں، تاجروں اور صحافیوں کے لئے ویزا شرائط میں نرمی کے معاہدے سمیت کئی باہمی معاہدوں پر دستخط کئے۔مجموعی طور پر دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ نے پاک بھارت تعلقات کے ضمن میں ہندوستانی وزیرخارجہ کے دورے کو نمایاں پیش رفت قرار دیا۔اس کے باوجود بھارت کے ذرائع ابلاغ نے اس نمایاں پیش رفت پر حسب روایت خاصے محتاط، بلکہ کسی حد تک منفی ردعمل کا اظہار کیا اور ماضی کے حوالے سے پاکستان کی حکومت اور عوام کے مستقبل کے رویوں کی بابت خاصے تحفظات کا اظہار کیا....مثلاً ”امراجالا“ نامی کثیر الاشاعت ہندی روزنامے نے ”آسنتوش چترویدی“ کا مضمون بعنوان ” کیسے بھروسہ کریں پاکستان پر“؟ میں کافی منفی خیالات کا اظہار کیا۔البتہ اسی اخبار نے اپنے اداریئے بعنوان”بات چیت ہی سے سلجھیں گے مسئلے“ میں پاک بھارت مذاکرات کو ایک مثبت عمل قرار دیا اور خوش آئند توقعات کا اظہار کیا اور دونوں جانب کو صلاح دی کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر روشن مستقبل کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں۔

کثیرالاشاعت ہندی روزنامے ”دینک بھاسکر“ (جس کی روزانہ اشاعت 30لاکھ کے قریب ہے) نے پختگی کی جانب سفر میں پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی بات کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے لکھا ہے کہ تاریخ کا یرغمال بنے بغیر ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔اسی وجہ سے بھارتی وزیرخارجہ جب اسلام آباد گئے تو انہیں سارا ماحول اور فضا اپنے گزشتہ دورئہ پاکستان کی نسبت بدلی نظر آئی....”ایشین ایج“ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ”آسان ویزا معاہدہ.... ایک اچھا اشارہ ، مگر بہت کچھ کرنے کی ضرورت“ کے عنوان کے تحت لکھا کہ وزیرخارجہ کرشنا کا دو روزہ دورہ ، جو ہفتے کے روز ختم ہوا، اس میں کچھ اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ دونوں جانب کے تاجر زیادہ آزادانہ طریقے سے ایک دوسرے کے ہاں جا سکیں گے۔”نو بھارت ٹائمز“ نے ”آنا جانا آسان“ کی سرخی کے تحت لکھا ہے کہ امن کی آشا کو نئے مقام تک لے جاتے ہوئے پاکستان اورہندوستان نے کئی فیصلے کئے ہیں۔ نئے ویزا معاہدے سے سرحد پار کرنے میں مشکلات کم ہوں گی اور لوگ زیادہ وقت تک وہاں رہ سکیں گے۔

”جن ستا“ نے پاک و ہند ویزا معاہدے کی خبر بعنوان” پاک وہند آمدورفت ہوگی آسان“ بڑی سرخی کے طور پر شائع کی ہے اور ذیلی سرخی میں ”ویزا معاہدے پر دستخط، دہشت گردی پر تشویش برقرار“ کے تحت خاصے تحفظات اور امید کا ملا جلا اظہار کیا ہے۔ہندی روزنامے ”ہندوستان“ نے ”یہ امیدیں رہ گئیں“ کے عنوان کے تحت گویا آدھا خالی گلاس دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ سب کے لئے پولیس رپورٹنگ ختم کرنا، آمدورفت کا مقام ایک جگہ ہونے کی شرط ختم کرنا اور بزرگ شہریوں کی عمر کی حد 60سال کرنے کی امیدیں حالیہ معاہدے میں پوری نہیں ہو سکیں،حالانکہ اگر ایسا ہوجاتا تو دونوں جانب کے عوام کے لئے کہیں بہتر ہوتا، لہٰذا اس معاہدے کو بہت مثالی پیش رفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

”ہندوستان ٹائمز“ نے البتہ یہ لکھا ہے کہ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں مسلسل مذاکرات کررہے ہیں۔ جب دونوں مذاکرات میں شامل ہوں تو دونوں ممالک کو ان ایشوز اور معاملات کی حساسیت کی بابت انتہائی محتاط رہنا ہوگا،جو بحالیءامن کی عوامی حمایت کو متاثر کرسکتے ہیں....”جاگرن“ نے ”خوش فہمی بمقابلہ زمینی حقائق“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ اس بنیادی حقیقت پر کوئی تنازعہ نہیں ہو سکتا کہ دونوں جانب کے سرکاری عہدیداروں کے دوروں سے دونوں ممالک باہمی رابطہ بنائے رکھ سکتے ہیں، لیکن اس حوالے سے شفافیت ہونی چاہیے کہ ہم کیا کہنے کی امید کرتے ہیں اور کیا جو ہم کہنا چاہتے ہیں، اسے فریق ثانی کی جانب سے وہ اہمیت دی جاتی ہے ،جو دی جانی چاہیے....اخبار”سہارہ“ اس ضمن میں لکھتا ہے کہ اسلام آباد نے اکثر کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کا استعمال بھارت کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے نہیںہونے دے گا، لیکن عملاً پاکستان نے اس یقین دہانی کے برعکس کیاہے۔

کئی دیگر اخباروں مثلاً سچ کہوں، نوجیوتی اور پر بھات خبر وغیرہ نے اس ضمن میں کارگل اور ممبئی میں 26نومبر2008ءکو ہونے والے واقعات کو بنیاد بنا کر پاکستان کے ارادوں پر شک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ”راشٹریہ سہارا“ کے مطابق دورئہ پاکستان کے دوران ایک پریس بریفنگ کے دوران بھارتی وزیرخارجہ کی کلائی پر بندھے دھاگے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک اخبار نویس نے کرشنا جی سے پوچھا کہ یہ دھاگہ راکھی کا تو نہیں اور راکھی کا دھاگہ باندھ کر پاکستانی وزیر خارجہ نے انہیں اپنا بھائی تو نہیں بنا لیا؟ بھارتی وزیرخارجہ اپنی سنجیدہ طبیعت کے باعث اس لطیف مذاق پر خاصے سنجیدہ اور خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا....بہرحال غیر جانبدار حلقوں کی رائے ہے کہ اس خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کنجی درحقیقت بھارت کے پاس ہے ، اگر وہ صدق دل سے اس خطے میں بنیادی تنازعے ،یعنی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں ٹھوس پیش رفت کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ برصغیر جنوبی ایشامیں امن و سلامتی کے حقیقی قیام کا خواب پورا نہ ہو سکے۔امید کی جانی چاہیے کہ دہلی کے حکمران طبقات اس زمینی حقیقت کا جلد ادراک کرلیں گے اور عالمی رائے عامہ بھی اس بابت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔   ٭

مزید : کالم


loading...