ترکی میں انقلاب کی مختصر کہانی

ترکی میں انقلاب کی مختصر کہانی
ترکی میں انقلاب کی مختصر کہانی

  



یہ وہ دور تھا،جب ترکی میں افراتفری،کشمکش، کھینچاتانی، دہشت گردی، بم دھماکے اور چوری،ڈاکے عام تھے۔سیاستدان اقتدار کے حصول کی خاطر جائز و ناجائز حربے استعمال کررہے تھے۔جمہوری ادارے ناکام سے ناکام تر اور کمزور ہورہے تھے اور فوج بجٹ کا زیادہ حصہ خرچ کرکے اپنے پسندیدہ لوگوں کو برسراقتدار لا کر اصل طاقت کا سرچشمہ بنی ہوئی تھی۔عوام کی حالت روز بروز مزید قابل رحم ہوتی جارہی تھی۔میڈیا اور عدلیہ پر بھی مخصوص لوگ براجمان تھے جو ذاتی مفاد اور کسی اور کے ایجنڈے پر مہر تصدیق ثبت کررہے تھے۔ اگرچہ محب وطن لوگ موجود تھے، لیکن ایک تو ان کی تعداد کم تھی ،دوسرا وہ ملکی حالات سے بہت زیادہ بددل ہو کر بہتری کی امید بھول چکے تھے۔معاشی اور اقتصادی حالت کا یہ عالم تھا کہ ایک ڈالر کئی ہزار لیرا کے برابر تھا۔پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد یورپ کا رخ کررہے تھے۔اخلاقی برائیاں اپنے عروج پر تھیں۔ ترکی میں 1980ءاور 1990ءکی دہائی تک یہی عمومی حالات دیکھنے میں آرہے تھے۔

ایسے میں ایک محب وطن اور ایسا جہاں بین و جہاندیدہ شخص بھی تھا جو نہ صرف اپنے ملک کے ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا،بلکہ ان مسائل کا حل بھی سوچ رہا تھا۔بظاہر اس شخص کا پس منظر مذہبی اور دینی تھا، لیکن وہ شکل و صورت سے بہت مہذب اور سنجیدہ شخص لگتا تھا۔وہ ان بُرے حالات سے ناخوش ضرور تھا،لیکن مایوس نہیں تھا اور اپنے حصے کی شمع جلانا چاہتا تھا، لہٰذا اس نے سب سے پہلے اپنے حلقہ ءاحباب کو اس بات پر قائل کرنا شروع کردیا کہ وہ بھی ملکی حالات میں بہتری لانے کے لئے کم از کم اپنے حصے کی شمع تو جلائیں۔ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنے انفرادی کردارکو تو ادا کریں، تاکہ مجموعی صورت حال میں بہتری آ سکے۔آہستہ آہستہ لوگ اس کی باتوں پر دھیان دینے لگے۔یوں ترکی میں تبدیلی کے سفر کا آغاز ہوا۔

ہوا کچھ یوں کہ یہ شخص جو اپنے ہم وطنوں کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا، اس کا نام محمد فتح اللہ گلن تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ایک امام مسجد اور بعد میں خطیب کے عہدے پرفائز تھا، لیکن یہ عام ملاﺅں، اماموں اور خطیب حضرات سے ذرا ہٹ کر سوچتا تھا۔اس نے اپنا ظاہری حلیہ بھی عام خطیبوں اور مولویوں جیسا نہیں بنایا تھا، یعنی داڑھی نہیں تھی،عمامہ یا سر پر ٹوپی یا جُبہ بھی ضرورت کے علاوہ نہیں پہنتا تھا، تاکہ معاشرے میں لوگ اسے یہ کہہ کر ردنہ کردیں کہ یہ بھی عام مولویوں اور اماموں،خطیبوں جیسا ہے۔وہ ایک قابل قبول شخص تھا۔سنجیدہ اور مذہب کے علاوہ سائنس اور جدید علوم پر بھی گہری نظر رکھتا تھا۔لوگ ان کے پاس آتے اور مسجدیں بنانے، قرآن کورس شروع کرنے اور دیگر مذہبی کاموں کے لئے اجازت مانگتے۔وہ ان کو اگرچہ منع نہیں کرتے تھے،خاموش رہتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے ذہین اور ضرورت مند بچوں کے لئے وظائف کا بندوبست کرنا چاہیے۔ان یونیورسٹی طالب علموں کے کردار و اخلاق اور ضروریات کے لئے کچھ کرنا چاہیے۔وہ ایسا اس لئے کرنا چاہتے تھے کہ ان کے دل و دماغ میں کوئی منصوبہ یا پلان تھا، جو وہ قوم کی تبدیلی کے لئے بروئے کار لانا چاہ رہے تھے۔

وہ خود بھی اپنی تمام تنخواہ اور حاصل شدہ آمدنی کو اسی مقصد کے لئے خرچ کررہے تھے۔پھر انہوں نے ترکی کے طول و عرض میں ہوسٹل کھولنا شروع کردیئے۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طالب علموں کو انہوں نے استاد بننے کا مشورہ دیا۔ان ہوسٹلوں میں رہنے والے اولین طلبہ نے ترجیحاً تعلیم کا شعبہ اپنایا۔محمد فتح اللہ گلن نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھا، کیونکہ یہ صرف ابتداءتھی۔ اب انہوں نے لوگوں کوقائل کرنا شروع کردیا کہ وہ مسجدوں کے ساتھ ساتھ سکول بھی بنائیں۔دیکھتے ہی دیکھتے ترکی کے طول و عرض میں سکول کھلنا شروع ہوگئے۔وہی یونیورسٹی ہوسٹلوں کے فارغ التحصیل طلبہ استاد بن گئے۔یہ سکول کوئی عام سرکاری یا پرائیویٹ تعلیمی ادارے نہیں تھے ، بلکہ قوم کی قسمت بدلنے اور معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے بنیادیں فراہم کرنے کے طور پر بنائے اور قائم کئے گئے تھے۔نصاب خاص طورپرسائنس، جدید علوم ،ریاضی، بیالوجی،کیمسٹری، کمپیوٹراور فزکس کے ساتھ ساتھ اخلاقیات اور کردار پر مبنی پروگرام بھی شامل تھا۔

آہستہ آہستہ یہ سکول تمام امتحانوں میں نمایاں پوزیشن لینے والے سکول شمار ہونے لگے۔یونیورسٹی داخلہ امتحانوں میں بھی زیادہ تر انہی سکولوں کے بچے کامیاب ہورہے تھے۔اس کے علاوہ ترکی اور پوری دنیا میں سائنس، ٹیکنالوجی، ماحولیات ،انجینئرنگ،بیالوجی، کیمسٹری، فزکس، کمپیوٹر اور ریاضی کے مقابلہ جات اور اولمپیاڈ پراجیکٹ مقابلوں میں سونے اور چاندی کے تمغے بھی انہی سکولوں کے طلبہ و طالبات نے لینے شروع کردیئے۔ ترک معاشرے کے امیر اور ایلیٹ کلاس کے بچے بھی انہی سکولوں میں داخل ہونے لگے اور معزز شہری بن کر نکلنے لگے۔پھر محمد فتح اللہ گلن نے یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے لوگوں کو ترغیب دی۔آج گلن یا ”خدمت تحریک“ کے تحت ترکی سمیت دنیا کے 150سے زائد ملکوں میں 3000سکول، دو درجن سے زائد یونیورسٹیاں قائم ہیں ،جن میں لاکھوں طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں اور مثبت علم کے ساتھ معاشرے کے فائدہ مند شہری ثابت ہورہے ہیں۔

محمد فتح اللہ گلن نے تعلیم ہی نہیں، دوسرے شعبوں میں بھی خدمات سرانجام دینے کے لئے لوگوں کو ترغیب دی۔یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کے تحت آج 8ٹی وی سٹیشن ،4اخبارات،4میگزین ،کئی ہسپتال، کئی فلاحی ادارے، مکالمے کے کئی مراکز ، ایسوسی ایشن اور ادارے کام کررہے ہیں ،جو ترکی کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ترکی میں ایک حالیہ سروے کے مطابق وہاں مثبت تبدیلی لانے میںگلن یا خدمت تحریک کا حصہ 25فیصد سے زائد ہے اوراس تبدیلی میں اس تحریک کے تعلیمی اداروں اور تعلیمی خدمات کا بنیادی کردار ہے۔محمد فتح اللہ گلن کا کہنا ہے کہ جو دنیا میں انقلاب لانا چاہتے ہیں یا تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں، سب سے پہلے وہ اپنے آپ میں تبدیلی لائیں۔اپنے خیالات، نظریات اور اعمال میں تبدیلی معاشرے میں تبدیلی کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔

جہاں تک وطن عزیز پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں بھی تبدیلی اور انقلاب کی خواہش ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید پروان چڑھتی جارہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انقلاب ،ارتقاءکے عمل سے گزر کر ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ترکی میں تبدیلی فوراً نہیں آئی،بلکہ بتدریج یہ عمل 20سے 30سال میں مکمل ہوا ہے۔ہمارے ترک دوستوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی ترکی جیسا انقلاب آ سکتا ہے ،بشرطیکہ اس کی بنیاد تعلیم اور صرف تعلیم پررکھی جائے،تب جا کر کچھ عرصے بعد ارتقائی مراحل سے گزر کر ہم یہاں حقیقی، مثبت انقلاب اور اس کے ثمرات دیکھ سکتے ہیں۔بقول فتح اللہ گلن ہم اس تبدیلی کا آغاز اپنے آپ اور اپنی ذات ،خیالات، افکارونظریات اور اعمال سے کرسکتے ہیں:

آئین نو سے ڈرنا ، طرزِ کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

نیز

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

مزید : کالم


loading...