غزہ کے یتیم طلبہ اساتذہ سےمحروم ‘او آئی سی رپورٹ

غزہ کے یتیم طلبہ اساتذہ سےمحروم ‘او آئی سی رپورٹ

  



غزہ ( اے این این )اسلامی تعاون کونسل نے غزہ کی حالت زار پر اپنی حالیہ ماہانہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ تمام ضروریات زندگی کی قلت کی شکار غزہ کی پٹی کے بے سہارا اور یتیم کے بچوں کو اسکولوں میں پڑھانے کے لیے اساتذہ بھی کم پڑھ گئے ہیں۔چھ سال سے اسرائیلی محاصرے میں گھری غزہ کی پٹی کی حالت زار اپنی رپورٹ میں او آئی سی نے نادار اور ضرورت مند طلبہ میں یونیفارم اور بستے تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ انتہائی ابتر اقتصادی صورتحال میں ان بچوں کو تعلیم سے محروم نہ کیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق غزہ میں غربت کی شرح 38.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس میں انتہائی ناداری کی شرح31.1 فیصد ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق او آئی سی نے یہ اندوہناک انکشاف بھی کیا کہ اسرائیلی بمباریوں اور حملوں میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی شہادت کی وجہ سے غزہ میں یتیم بچوں کی تعداد 16000 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ ان بچوں کے خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داری گھر کی عورتوں پر آچکی ہے۔رپورٹ میں غزہ کی پٹی میں بسنے والے غریب خاندانوں کی تعداد میں اضافے اور اس کے معیشت پر پڑنے والے انتہائی برے اثرات پر روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ امسال تعلیمی سال کے آغاز سے ہی غزہ کے نادار بچے تعلیم عمل سے دور ہوتے جا رہے ہیںاسرائیل کی جانب سے آئے روز غزہ پر حملوں کے باعث فلسطینی شہید ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی ایک فرد کے شہید ہونے سے اس کا پورا خاندان جیتے جی مر جاتا ہے اور گھر کے سربراہ کی موت کے بعد سب سے پہلے بچوں کی تعلیم چھوٹتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ صہیونی حملوں میں غزہ کے آٹھ افراد شہید جبکہ اتنی ہی تعداد لوگ زخمی ہوگئے۔ صہیونی فوج کی دراندازیوں میں سیکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں روندی گئی جس سے فلسطینی کسانوں کو بھاری مالی نقصان ہوا۔ غزہ کی دن بدن ابتر صورتحال کے متعلق رپورٹ نے اہل غزہ کے لیے امداد لے کر آنے والے قافلوں کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں سامان لیکر آنے والی ٹرکوں میں سے انتہائی کم کو اجازت دیتا ہے جس کی وجہ سے غزہ میں ضروریات زندگی کی بنیادی اشیا بھی ناپید ہیں۔ ضرورت کے مطابق ایندھن موجود نہ ہونے سے غزہ کا بجلی گھر اپنی پوری استعداد پر کام نہیں کر رہا اور ساری پٹی میں بدترین لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...