جلتا ہوا شہر بچایا جا سکتا تھا

جلتا ہوا شہر بچایا جا سکتا تھا
جلتا ہوا شہر بچایا جا سکتا تھا

  



ہم غریب ملکوں کا حال بھی عجیب ہوتا ہے۔ حکمران اور عوام دونوں بے وقارآزادی کے مزے لُوٹنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ دونوں یہ سمجھنے،بلکہ یہ ظاہر کرنے کے چکر میں رہتے ہیں کہ ہم مکمل طور پر آزاد ہیں، لیکن زمینی حقائق اس سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ غریب ملکوں کے حکمرانوں کو اپنے آقاؤں کے سامنے ہمیشہ نظر یں نیچے رکھنا پڑتی ہیں ۔صرف کبھی کبھی مجبور اور بے بس عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ایک آدھ بڑھک مارنا پڑتی ہے ،پھر اس کے بعد لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور۔ ڈرون حملوں کے خلاف حکمرانوں اور پارلیمنٹ کے بیانات اور قرار دادیں اکٹھی کر لیں یا پھر سلالہ چیک پوسٹ کے بعد نیٹو سپلائی کی بندش کا اقدام اور اس پر مسلسل بیان باز ی.... حالیہ تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو بہت آسانی سے سمجھ آجائے گی کہ سبھی بیانات محض بڑھکیں تھیں جو بہت سوچ سمجھ کر لگائی گئی تھیں تا کہ معصوم اور سادہ عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکی جا سکے اور ہماری حکومت ماشاءاللہ وسیع و عریض میڈیا کی بنیاد پر اس میں بہت کامیاب بھی رہی۔ آخر 4سے 6ارب روپے تک کا سےکرٹ فنڈ کسی کام تو آنا تھا ۔ عوام یہ سمجھتے رہے کہ ہم بھی آزاد ہیں، اس لئے بڑے خلوص اور جذبے سے مظاہرے کرتے تھے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات کی طرح۔

یہ تلخ تمید صرف اس لئے باندھنا پڑی کہ حکومت اور عوام دونوں نے کچھ اسی قسم کا مظاہرہ یومِ عشقِ رسولﷺکے موقع پر کیا۔ حکومت نے اس مقدس ترین جذبے کو سرکاری چھُٹی دے کر یہ سمجھا کہ روزِ محشر ہماری شفاعت کے لئے یہ نےک کارنامہ کافی ہے۔ وہ حکومتی ایوانوں میں سرکاری سطح پر کانفر نس منعقد کر کے اور اس سے خطاب کر کے تاریخ میں اپنا نام غازی علم دین شہید ؒ کی طرح لکھوانا چاہتے تھے۔ ان کو کےا خبر تھی کہ عوام اندر سے کتنے بپھرے ہوئے ہیں اور اب ان کا سونامی کسی لیڈر کا انتظار نہیں کر سکتا ۔ اتنی تباہ کاری اور بربادی کے بعد اندازہ ہو ا کہ عوام بہانہ ڈھونڈ رہے تھے او ر اس سے زیادہ نادر موقع شاید انہوں نے کوئی اور نیں سمجھا ۔ظاہرہے جس مملکتِ خداداد میں ان کو جان، مال اور عزت کا کبھی تحفظ نظر نہ آتا ہو، جہاں کوئی قانون نہ ہو اور جس کی لاٹھی اُس کی بھےنس جیسا جنگل کا قانون رائج ہو چکا ہو، جہاں چور اور ڈاکو دندناتے پھرتے ہوں ، جہاں ریڑھی والے سے لے کر اکثر کرسیوں پر بیٹھے افراد کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے ہوں، جہاں ہر بالادست طاقت اور اختیارات کے گھمنڈمیں ہر کمزور کے مُنہ سے نوالہ چھےن لینے میں کامیاب ہو جاتا ہو اور اس کی زندگی عذاب بنا دینے میں مگن ہو، جہاں کسی بھی محروم کو حق اور انصاف نہ ملتا ہو اور غریب دو وقت کی روٹی کو ترسے، جہاں ہر خوش حال غریبوں کے لئے محض خوبصورت ؓباتوں کے سوا کچھ نہ رکھتا ہو۔ غرض کون سا ظلم اور ناانصافی ہے جو ہمارے معاشرے میں نظر نہیں آتی، پھرایسے استحصالی معاشرے میں رہنے والے عوام سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پُر امن احتجاج کریں گے تو یہ احمقوں کی جنت میں رہنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

ہر پڑھنے، سننے اور دیکھنے والے کی آنکھ حیران و پریشان ہو گئی ہے کہ لاوا اتنا پک چُکا تھا کہ اس نے کراچی اور پشاور میں تفریح گاہیں تو کُجا،بچوں کے پارکوں تک کو نہیں بخشا۔ وہاں بھی خوب لوٹ مار کی اور وہاں موجود کولڈ ڈرنکس مال مفت سمجھ کر خوب پیتے رہے۔ عوام میں غصہ اور انتقام اتنا بھرا ہُوا تھا کہ انہوں نے بہت بھاری بھرکم کنٹینرزتک اُلٹ دیئے اور یہ سونامی آگے بڑھتا رہا۔ان نازک لمحوں میں وہ افراد اور تنظمیں قابلِ تحسین ، جنہوں نے پُر امن احتجاج کیا۔

ان افسوس ناک واقعات سے زیادہ افسوس ناک وہ بیانات ،مضامین ،تجزیے اور تبصرے تھے کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ہوا ہے اور یہ کیا دھرا صرف چند انتہا پسند اور کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کا تھا ۔ اسلام آباد کے جلوس مےں پنجا ب پولیس کے اہلکار بھی شامل تھے ،یعنی کیا کیا طو مار نہیں باندھے گئے۔حکومتوں کی اس روائتی الزام تراشی سے عام لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ کالعد م انتہا پسند تنظیموں کے کارکن ہزاروں کی تعداد میں ہو چکے ہیں اور حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ حکومت کے انتظامی معاملات پر نظر ررکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ ریاستی مشینری سے کوئی بھی بالا تر نہیں ہوتا اور اس سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ دوسرے نمبر پر کئی لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پہلے کی طرح حکومت اب بھی اپنے غیر ملکی آقاﺅں کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ہم تو جناب آپ کے اسی طرح خادم ہیں۔ یہ تو ہمارے بے وقوف اور جذباتی عوام ہیں جو آپ کے ممالک میں آئے روز رونما ہونے والے توہین اور گُستاخی والے واقعات پر سیخ پا ہو جاتے ہیں، لہٰذاآپ بھی اپنے آزادیءاظہار کے نام پر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے عقائد اور جذبات کی توہین کرنے والوں کو لگام دیں۔

لگتا ہے اس ڈپلومیٹک کوشش مےں حکمران بہت حد تک کامیاب رہے ہیں، لیکن اس سارے کھیل کے بعد جب آنکھ کھلی، دیکھا تو اپنا ہی گریبان تھا ۔ اربوں روپے کا نقصان تو ہم نے اپنے ہی ملک کا کیا۔ جو لقمہءاجل بن گئے، وہ بھی اسی وطن کے خاک نشیں تھے۔اپنے ہی کلمہ گو مسلمان تھے جو اندھی گولیوں کا نشانہ بن گئے ۔آخر ایک نجی چینل کی گاڑی کا ڈرائیور تو صرف گاڑی چلا رہا تھا ، اس کا کیا قصور تھا ۔ اب ان بیسیوں محروم گھرانوں کا پرسانِ حال کون ہو گا۔ وہ حکمران جن کا تو خود اپنا پیٹ نہیں بھرتا اور وہ نت نئے بیانات گھڑ گھڑکر اپنے پانچ سال پورے کرنے کے چکر میں ہیں۔ ٹی وی چینلوں نے ہاکی اورکرکٹ میچ کی طرح اس ساری تباہی و بربادی پر رواں تبصرہ کیا ،لیکن کسی نے جلتے شہروں کو نہ بچایا ۔ شاید ایسے ہی کسی موقع کے لئے ہی عباس تابش نے لکھا تھا ....باادنیٰ تصرف:

آنکھ میں پانی بھر کر لاےا جا سکتا ”تھا“

جلتا ہوا شہر بچایا جا سکتا ”تھا“

پانی آنکھ میں بھر کر لانے سے مُراد ہے کہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور انصاف مہیا کیا جائے،تا کہ پاکستان بھی ایک فلاحی ریاست بن سکے۔    

مزید : کالم


loading...