بلی تھیلے سے باہر آگئی

بلی تھیلے سے باہر آگئی
بلی تھیلے سے باہر آگئی

  



سان فرانسسکو اور نیویارک میں ”جہاد“ کے خلاف چلائی جانے والی نام نہاد مہم کے بعد کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ اس کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ نیو یارک میں عدالت نے ان اشتہارات کی اجازت دے دی ہے جو سب وے (زیر زمیں ریل) اور بسوں میں لگائے جائیں گے اور سان فرانسسکو میں یہ اشتہار بسوں میں لگائے جا رہے ہیں.... ”مہذب لوگوں اور وحشیوں کے درمیان کوئی بھی جنگ ہو، آپ مہذب لوگوں کی حمایت کریں“.... اشتہارات کا اختتام اس طرح ہوتا ہے.... Support Israel - defeat Jihad اسرائیل کی حمایت کریں اور ”جہاد“ کو شکست دیں۔ غالباً اشتہار بنانے والے کے من میں چور تھا کہ اگر آخری لائن میں وضاحت نہ کی کہ کس کی حمایت کریں تو ”سادہ لوح امریکی“ ظالم اسرائیلیوں کے مقابلے میں مظلوم مسلمانوں کی حمایت کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ گورے امریکیوں، متشدد عیسائیوں اور انتہائی دائیں بازو کے ری پبلیکن کے علاوہ جتنی اقلیتیں ہیں، وہ فلسطینیوں کی حمایت کرتی ہیں۔

امریکی میڈیا طریقے طریقے سے اس نفرت کو ہوا دے رہا ہے۔ نفرت کے لئے بدنام ان اشتہارات کو چلانے والی پام گیلر کا سی بی ایس کے پروگرام سکسٹی منٹ میں بھرپور انٹرویو نشر کیا گیا اور میڈیا مسلسل یہ کہے جا رہا ہے کہ مسلمان شدت پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایک صحافی سٹیفن لینڈ مین نے ”امریکی میڈیا کی اسلام کے خلاف جنگ“ کے عنوان سے ایک طویل آرٹیکل لکھا ہے، جس میں مثالیں دے کر مسلمانوں کے خلاف برتے جانے والے تعصب کا ذکر کیا گیا ہے اور اس میں میڈیا کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مضمون نگار نے اس سلسلے میں میڈیا کے ساتھ ”ہالی وڈ“ کو بھی شریک قرار دیا ہے۔ اس میں میڈیا کے اس روئیے کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے، جس کے تحت کسی مسلمان پر کسی الزام کی خبروں کی سرخیاں اس طرح جمائی جاتی ہیں کہ ثبوت سے پہلے ہی اسے مجرم بنا دیا جاتا ہے۔

مَیں نے گزشتہ کالم میں ڈی اینڈرسن کے کالم کا ذکر کیا تھا، جس کا خیال ہے کہ اسرائیل اور موساد نے یہ ساری کارروائی خاص مقاصد کے لئے شروع کی ہے، جس کا مقصد امریکہ اور عالم اسلام میں پائی جاے والی نفرت کو گہرا کرنا اور امریکی عوام کو اس نفرت میں ملوث کرنا ہے، تاکہ امریکہ کو بلیک میل کرکے ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا جا سکے اور صدر باراک اوباما کو ایران کے خلاف جنگ جوئی کی حمایت نہ کرنے کی سزا دے کر انہیں انتخابات میں مشکل سے دوچار کیا جا سکے۔ صدر اوباما کو چار سال قبل انتخابات میں دوسری اقلیتوں کے علاوہ مسلمان ووٹروں کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔ اب بھی مَیں ایک گزشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں کہ اگرچہ سیاہ فاموں، دوسری اقلیتوں اور مسلمانوں کی توقعات صدر باراک اوباما سے پوری نہیں ہوئیں، لیکن وہ متعصب اور متشدد ری پبلیکن پر صدر باراک اوباما کو ہی ترجیح دیں گے۔ ڈیمو کریٹک نیشنل کنونشن سے قبل ایک سروے کے مطابق 1980ءسے اب تک کسی برسراقتدار صدر کو اتنی کم حمایت حاصل نہیں رہی، جتنی کم حمایت صدر باراک اوباما کی تھی۔ کنونشن کے بعد پے در پے کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے اب صدر باراک اوباما کو مٹ رومنی پر برتری حاصل ہو گئی ہے، لیکن فرق اتنا کم ہے کہ اگر صدر باراک اوباما کو کوئی جھٹکا دے دیا جائے تو یہ فرق ختم ہو سکتا ہے۔

مٹ رومنی اسرائیل کے پسندیدہ امیدوار ہیں۔ وہ بطور خاص اسرائیل گئے تھے۔ وہاں ان کے لئے بند کمرے میں فنڈ ریزنگ ہوئی، جس کے بارے میں کسی کو نہیں معلوم کہ انہیں کتنی رقم دی گئی اور کس نے یہ رقم دی؟ مٹ رومنی کے حامیوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی منشور میں سے یہ بات نکال کر اچھالی کہ اس میں اسرائیل کا دارالحکومت یروشلم کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس سے ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کو ذرا دھچکا لگا، لیکن وہ سنبھل گئے، کیونکہ عین اس موقعے پر مٹ رومنی کی ایک ویڈیو سامنے آگئی ، جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ ”مجھے معلوم ہے 47 فیصد لوگ تو باراک اوباما کو ووٹ دیں گے، خواہ کچھ بھی ہو جائے“ اور اپنی جیت کو معیشت سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس مسئلے کو زیادہ اچھالیں گے۔ مٹ رومنی نے مشرق وسطیٰ کے قضیئے کے لئے امریکی مو¿قف ”دو ریاستوں“ کے قیام کی نفی کرتے ہوئے کہا: ”فلسطینی امن نہیں چاہتے اور مَیں کہتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے“، یعنی دو ریاستوں کے قیام کا خیال امن کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اس کے لئے فلسطینیوں کو امن کے لئے دبانا ضروری ہے۔

امیگریشن کے سلسلے میں مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا: ”اگر آپ کو کوئی تجربہ نہیں ہے، خوش آمدید آپ تشریف لائیں، بارڈر کراس کریں اور عمر بھر امریکہ میں رہیں“۔ یہ ڈیموکریٹس کی امیگریشن پالیسی اور صدر اوباما کے لاطینی امریکی نوجوانوں کو قیام کی اجازت دینے پر طنز تھی۔ جمی کارٹر کے عہد میں ایران میں امریکی یرغمالیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا: ”اگر اس قسم کی کوئی چیز پیدا ہوتی ہے تو مَیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی پوری پوری کوشش کروں گا“۔ اس کے علاوہ بھی چند امور پر بات چیت کی، لیکن متذکرہ باتیں اس کی انتخابی مہم کے لئے شدید دھچکا ثابت ہوئیں۔ اس ویڈیو میں مٹ رومنی کی طرف سے اسرائیل کی خصوصی طرف داری کا اظہار ہوتا ہے۔ ویڈیو سے پیدا ہونے والی مشکل سے نکالنے کے لئے اسرائیل اور موساد فوراً برسرکار آئے، انہوں نے ایک ایسی صورت حال پیدا کر دی، جس سے نہ صرف عالم اسلام اور امریکہ میں پہلے سے موجود فاصلے مزید بڑھ گئے، بلکہ اس سے امریکی مسلمانوں کو بھی باراک اوباما کی حمایت سے دست بردار کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت باراک اوباما اور مٹ رومنی کی مقبولیت میں جو معمولی فرق ہے، اگر اس سے مسلمان ووٹ خارج ہو جائیں تو صدر باراک اوباما کی شکست ضروری ہو جاتی ہے۔

 سی این این کے ایک تجزیہ کار رچرڈ ایلن کرین کا کہنا ہے کہ مسلمان ووٹروں کی تعداد امریکہ میں صرف ایک فیصد ہے، لیکن ایک تجزیاتی مطالعے کے مطابق آئندہ انتخابات میں وہ جس طرف ہو جائیں گے، وہی امیدوار جیت جائے گا۔ ان مسلمان ووٹروں کی اکثریت ان ریاستوں میں ہے، جنہیں Swing states کہا جاتا ہے، یعنی وہ مستقل طور پر کسی ایک پارٹی کے ساتھ نہیں ہیں اور ان ریاستوں کے فیصلے میں ردو بدل واقع ہوتا رہتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں رجسٹرڈ مسلمان ووٹروں کی تعداد بارہ لاکھ ہے اور کچھ مسلم حلقے اس کوشش میں ہیں کہ کوئی ووٹ کاسٹ ہونے سے نہ رہ جائے۔ ڈیموکریٹس اس بات کو اب سمجھ گئے ہیں اور صدر باراک اوباما نے لیبیا میں سفارت کار کے مرنے پر جو بڑھکیں ماری تھیں، انتقام لینے کی یا فوجیں بھیجنے کی، اب ایسی باتوں سے احتراز کیا جا رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ مسلمان ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے آئندہ چند روز میں کوئی خوش کن اعلان، کوئی معافی وغیرہ بھی سامنے آجائے۔

 بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ایک حد تک اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے، اس نے امریکہ اور عالم اسلام میں خلیج وسیع کر دی ہے، جس کا فائدہ لازمی طور پر اسرائیل کو پہنچے گا اور اگر صدر باراک اوباما نے دانش مندی سے کام نہ لیا اور اپنے مسلمان ووٹروں کو ناراض کر بیٹھے تو اس طرح اسرائیل اور موساد کی منصوبہ بندی کامیاب ہو جائے گی۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ مٹ رومنی کی ویڈیو سامنے آجانے کے بعد کوئی بھی مسلمان، وہ خواہ صدر باراک اوباما سے کتنا بھی دل برداشتہ کیوں نہ ہو، مٹ رومنی کو ووٹ نہیں دے گا۔ مسلمانوں کے لئے اب ضروری ہے کہ وہ اس اسرائیلی جال کو اسرائیل پر اُلٹ دیں اور پاکستانی وزیراعظم کے مو¿قف کو اپنا مو¿قف بنا لیں کہ اگر ہولو کاسٹ کے انکار کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے اور اس طرح اظہار رائے کی آزادی متاثر نہیں ہوتی تو اسلام اور اس کے شعائر کے خلاف دریدہ دہنی یا تحریری دل آزادی کو بھی جرم قرار دیا جانا چاہیے، اس کے لئے عالم اسلام متفقہ طور پر لائحہ عمل طے کرے تو کامیابی کا امکان ہے۔ نیم دلانہ کوششیں کامیابی کی ضامن نہیں بن سکتیں۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید : کالم


loading...