اسامہ زندہ ہے؟

اسامہ زندہ ہے؟
 اسامہ زندہ ہے؟

  



 اِس موسم میں جب ہر اُوٹ پٹانگ تھیوری کو پذیرائی مل جاتی ہے ،ہم کیوں کسی سے پیچھے رہیں۔ ہم بھی دعویٰ کرکے دیکھتے ہیں کہ اسامہ بن لادن ابھی تک زندہ ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ہم اِدھر اُدھر سے اُلٹے سیدھے دلائل جمع کرکے جب ثابت کریں گے کہ اسامہ زندہ ہے تو کم تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ اچھے خاصے ”معقول“ حمایتی بھی دستیاب ہوجائیں گے۔ہمیں خطرہ ہے کہ ایسی صورت میں ہمیں حیران کرنے کے لئے کچھ”چشم دید گواہ“ بھی میدان میں کود پڑیں گے جو بتائیں گے کہ اُنہوں نے بذات خود ایک غار میں اسامہ بن لادن کو اپنے نائبین کو ہدایات دیتے ہوئے دیکھا ہے۔جب اُن سے پوچھا جائے گا کہ وہ غار کہاں ہے تو وہ کہیں گے کہ سیکیورٹی کے پیش نظر اُس کا پتہ نہیں بتایا جاسکتا۔

اصل میں ہمیں یہ درفنطنی چھوڑنے کا خیال برادر محترم منو بھائی کی حیرانی دیکھ کر آیا ،جس کا اظہار اُنہوں نے ایک حالیہ کالم میں کیا ہے اور جو اُنہیں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر مجاہد کامران کا بیان پڑھ کر ہوئی ہے۔اِس بیان میں اُنہو ں نے یہ”سازشی تھیوری“پیش کی ہے کہ اسامہ بن لادن اصل میں2006ءمیں وفات پاگیا تھا۔حکومت پاکستان نے اِس کے ڈی این اے ٹیسٹ کرکے لاش امریکہ کے حوالے کردی تھی،چنانچہ یکم اور دو مئی کی درمیانی رات امریکی حملے کے دوران اُس کے مارے جانے کا قصہ سر اسر من گھڑت اور جھوٹ ہے جو صرف پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے گھڑا گیا ہے۔

”وی سی پنجاب یونیورسٹی سے کچھ سوالات“کے تحت اپنے اِس کالم میں ہمارے پیارے منو بھائی پوچھتے ہیں....” اِن خیالات کی روشنی میں یا تاریکی میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور فوج کے آئی ایس آئی جیسے ادارے اور پاکستان کی آزادی،سا لمیت اور خود مختاری کے بارے میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے تمام تر بیانات،احتجاجی مراسلے اور پریشانیاں بے بنیاد اور جھوٹی قرار پائیں،گمراہ کن ثابت ہوئیں اور یہ بھی مجاہد کامران یا کامران مجاہد ہی جانتے ہوں گے کہ 2006ءکے بعد اسامہ بن لادن کی بیویوں نے جن چار بچوں کو جنم دیا، وہ کیا معجزہ تھا؟ اسامہ بن لادن کی وہ بیویاں اور بچے کیا امریکی حملہ آور امریکہ سے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے، جن کے سامنے اسامہ بن لادن کے تڑپتے ہوئے جسد خاکی میں چھ گولیاں اُتاری گئی تھیں“؟....

منو بھائی یاد دلاتے ہیں کہ گوجرانوالہ کے وہ مولوی صاحب شاید حیات ہوں گے ،جنہوں نے چاند پر نیل آرم سٹرانگ کے اُترنے اور چہل قدمی کرنے کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا تھا اور بہت سے لوگ شاید آج بھی اُن کے دعوے کوصحیح سمجھتے ہوں گے۔

ویسے پوچھنے کو تو مَیں بھی پوچھ سکتا ہوں کہ کیا ایبٹ آباد کمپاﺅنڈ سے برآمد ہونے والی اسامہ کی ہزاروں صفحات کی انگریزی اور عربی زبان کی تمام دستاویزات جعلی ہیں جن پر2006ءسے2011ءتک کی تاریخیں درج ہیں۔سی آئی اے کو داد دینی چاہیے کہ اُس نے کس مشکل طریقے سے پہلے القاعدہ کے مشن ،آپس میں رابطوں اور اختلافات کی کہانیاں انگریزی زبان میں ایسی ڈرامائی تشکیل کی ہوںگی کہ وہ سچ نظر آئیں ۔ پھر کس طرح ماہر مترجم حضرات کی خدمات حاصل کرکے اُس کا بامحاورہ عربی ترجمہ کرایا ہوگا۔پھر اُن میں سے کچھ کی اِس طرح حالت خراب کی ہو کہ اُن پر سچ مچ خراب ہونے کا شبہ ہو۔ اتنا بڑا راز2006ءسے2011ءتک امریکی اور پاکستانی حکام اور افواج کے سینے میں کیسے دفن رہا؟دونوں طرف کے کھوج لگانے والے میڈیا اتنی بڑی ”بریکنگ نیوز“ سے پانچ سال تک کیسے بے خبر رہے؟دونوں ممالک کے سرکاری حکام کی صفوں میں سے کوئی”مجاہد“ اِس حقیقت کا نعرہ مستانہ لگاتا ہوا نہیں اُٹھا اور بالآخر یہ توفیق پاکستان کی عظیم دانش گاہ کے”مجاہد “کو ہوئی۔

لگتا ہے اُنہیں2006ءمیں اسامہ کے فوت ہونے کی خبر معلوم تھی ،لیکن اُنہوں نے مفاد عامہ میں اِس کی تشہیر نہیں کی۔ایبٹ آباد آپریشن کے فوراً بعد بھی اُنہوں نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِس خبر کو سینے سے برآمد ہونے سے روکے رکھا۔ پھر آخر کار وہ مبارک دن بھی آگیا جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو اُنہوں نے فیصلہ کرلیا کہ اب اِس راز سے پردہ اُٹھا دینا چاہیے۔ اُنہوں نے یہ”سازشی تھیوری“پیش کرکے اپنا ملی فریضہ ادا کردیا۔اِس تھیوری کو مضحکہ خیر قرار دینے والے2006ءسے2008ءتک جو واقعات رونما ہوئے اُن کے خلاف جھوٹی دلیلیں اور تاویلیں گھڑنے کے لئے بڑا وقت اور”ہوم ورک“ درکار تھا۔یہ درد سری اُن کی ذمہ داری نہیں تھی۔

مَیں نے اپنی رپورٹنگ کی ضرورت کے تحت خالد شیخ محمد کی گرفتاری سے لے کر گوانتا ناموبے کی جیل میں اِس کے خلاف تازہ ترین مقدمے کی کارروائی تک مسلسل مانیٹرنگ کی ہے۔اِسے آپ بلاشبہ دہشت گرد قرار دیں لیکن یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اِس جتنا اسامہ اور القاعدہ کے مشن سے کوئی کم ہی وفا دار ہوگا، لیکن انٹیلی جنس والوں نے تسلیم کیا کہ تشدد کے باوجود وہ اُن لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے کوئی غلط بیان نہیں دیا۔میرے ذاتی ریکارڈ میں خالد شیخ محمد کے اقبالی بیان کی مکمل ریکارڈنگ محفوظ ہے جو بالکل خفیہ نہیں ہے۔اُنہوں نے تسلیم کیا ہے کہ نائن الیون کے واقعے کی القاعدہ کی طرف سے منصوبہ بنانے والی ٹیم کے وہ سربراہ تھے۔اُنہوں نے منصوبے اور اِس پر عمل درآمد کی تفصیلات اِس طرح بیان کی ہیں ،جس طرح اُس کے حقائق امریکی حکام نے بیان کئے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اُنہوں نے اِس کارروائی کا جواز اپنے مشن کی تکمیل قرار دیا ہے۔

یار لوگوں نے ایک ”سازشی تھیوری“ یہ بھی گھڑی تھی کہ نائن الیون کا سانحہ دراصل اُس وقت کی امریکی حکومت نے خود برپا کیا تھا۔انٹیلی جنس نے طیارے خود اغوا کئے اور عمارتوں سے ٹکرا دئیے۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ پینٹاگون نے خود ہی اپنے کارندوں کے ذریعے اپنی عمارتیں تباہ کیں۔ صدر بش کے وائٹ ہاﺅس کوتباہ کرنے کے لئے طیارہ بھی صدر بش نے اپنی طرف بلایا تھا جو راستے میں فنی خرابی کے باعث پنسلویینا میں گر گیا اور صدر بش کا”شہید“ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

11ستمبر2001ءکو گزرے 11سال ہوگئے۔یہ”سازشی تھیوری“دم توڑ گئی۔شاید اِس لئے کہ اِس عرصے میں امریکی حکومتیں تبدیل ہوئیں۔انٹیلی جنس کے محکموں میں کئی نئے لوگ آئے اور پرانے گئے۔کئی قومی انتخابات ہوئے، جس میں ایک دوسرے کی کمزوریاں بے نقاب کی جاتی رہیں۔دونوں بڑ ی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل خو دمختار نائن الیون کمیشن بھی قائم ہوا۔سرکاری دستاویزات بھی ڈی کلاسفیائڈ ہوگئیں۔امریکہ میں ابھی تک ایسا سسٹم ہی دریافت نہیں ہوا جس کے ذریعے کسی دستاویز کو سسٹم سے باہر رکھ دیا جائے۔یہاں گیارہ سال میں سرکاری صفوں میں سے کوئی ایسا ”مجاہد“ دریافت نہیں ہوا جس نے اِس”سازشی تھیوری“ کو بے نقاب کیا ہو....

یہ ساری باتیں اپنی جگہ ٹھیک۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں یا اختلاف۔ مَیں اپنا بنیادی انسانی حق استعمال کرکے اسامہ کو زندہ قرار دینے کا دعویٰ کررہا ہوں۔مجھے معلوم ہے کہ آپ پاکستانی دانش گاہ کے مجاہد کامران کے نادر خیالات سُن کر قہقہے برسا رہے تھے،لیکن خبردار میرے دعوے کو مذاق میں نہ اُڑائیں۔

[اظہر زمان ممتاز سینئر صحافی اورادیب ہیں اور واشنگٹن میں روزنامہ”پاکستان“ کے بیوروچیف ہیں]

مزید : کالم


loading...