یوم عشق رسول پر مظاہروں کے الزام میں گرفتار نوعمر لڑکوں کی گرفتاری کیخلاف تیسرے روز بھی احتجاج

یوم عشق رسول پر مظاہروں کے الزام میں گرفتار نوعمر لڑکوں کی گرفتاری کیخلاف ...

  



لاہور (خبر نگار) یوم عشق رسول کے موقع پر مظاہرہ کرنے یا مظاہرے دیکھنے کے الزام میں گرفتار نوعمر لڑکوں اور راہگیروں کی گرفتاری کے خلاف گزشتہ روز تیسرے دن بھی شہری سراپا احتجاج بنے رہے ہیں اور لاہور کے تھانون کے باہر متاثرہ شہریوں نے جہاں احتجاجی مظاہرے اور پولیس کے خلاف زبردست احتجاج کیا ہے وہاں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے 14 سالہ حافظ عزیز اور عبدالواحد سمیت 12 افراد کو 50 50, ہزار کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کردیا ہے۔ فاضل عدالت کے جج عرفان احمد سعید نے پولیس کی جانب سے 4افراد مقصود احمد وغیرہ کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنانے پر میڈیکل رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ عدالت نے جوڈیشنل ہونے والے 30 افراد مقصود اور جہانزیب عالم وغیرہ کی درخواست ضمانتوں پر آج صبح تک کیلئے نوٹس جاری کردیے ہیں اور پولیس سے ریکارڈ طلب کرلیے ہیں۔ دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے سامنے گرفتار افراد کے لواحقین کا زبردست رش رہا۔ پولیس کے خلاف سراپا احتجاج بنے رہے ہیں گزشتہ روز عدالت کے مین گیٹ اور اردگرد پولیس کی سیکورٹی سخت رہی ہے اور پولیس نے متاثرہ گھرانوں کے افراد جو سڑک بلاک کرکے مظاہرہ کرنے سے روک دیا اور مظاہرہ کرنے پر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرنے پردھمکی دی۔ جس پر متاثرہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد جن میں نوعمرلڑکوں کی مائیں بھی موجود تھیں، عدالت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...