چودھری ظہور الٰہی شہید:ایک نابغہ روزگار سیاستدان

چودھری ظہور الٰہی شہید:ایک نابغہ روزگار سیاستدان
 چودھری ظہور الٰہی شہید:ایک نابغہ روزگار سیاستدان

  



25ستمبر1981ءبروز جمعتہ المبارک پاکستان کی سیاست کی ایک متحرک شخصیت اور مایہ ناز مسلم لیگی رہنما چودھری ظہور الٰہی کو دن دہاڑے لاہور میں شہید کردیا گیا۔اِس سانحہ نے پاکستان کے ہر شہری کو ہلا کر رکھ دیا کیونکہ چودھری ظہور الٰہی اسلام،پاکستان اور جمہوریت کے بے باک ترجمان تھے ،جنہوں نے شہادت تو قبول کرلی، مگر اپنے اُصولوں پر کمپرو مائز نہیں کیا۔اُنہوں نے حقیقی معنوں میں ہر طرح کی مصلحتوں سے پاک کلمہ حق بلند کیا۔مَیں ذاتی طور پر چودھری ظہور الٰہی شہید کی ملکی مسائل پر گہری نظر اور سیاسی معاملہ کا قائل ہوں،وہ دلائل اور اپنے پُراعتماد لب ولہجے کے ذریعے مخالفین کو قائل کرلیتے تھے۔یوں تو اُن کی زندگی سیاسی مہمات سے بھری ہوئی ہے ،لیکن اُنہوں نے بلوچستان کے ایشو پر جو اپنا قومی وپارلیمانی کردار ادا کیا،اُس نے مجھے بے حد متاثر کیا،مَیں یہ لکھتے ہوئے دُکھی بھی ہوں کہ آج بھی بلوچستان جل رہا ہے اور آج بھی ملکی وغیر ملکی سازشوں کا شکار ہے۔بلوچستان کے حوالے سے چودھری ظہور الٰہی کی تحقیق اور فکر آج بھی بلوچستان کے مسئلہ کو حل کرنے کے حوالے سے سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔

چودھری ظہور الٰہی نے بلوچستان کے حوالے سے سیدھے اور صاف الفاظ میں حقائق قوم کے سامنے رکھے۔مجھے اِس بات کی خوشی ہے کہ چودھری شجاعت حسین نے اپنے شہید باپ کے ویژن کی روشنی میں سینیٹر مشاہد حسین سید کے ہمراہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لئے وہاں کا دورہ کیا اور100صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی رپورٹ تیار کی تھی۔یہ رپورٹ سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے اور حقوق بلوچستان کی تیاری کے وقت بھی اِس رپورٹ سے استفادہ کیا گیا۔بہرحال مجھے چودھری ظہور الٰہی شہید کی مسئلہ بلوچستان پر پارلیمنٹ کے اندر کی جانے والی تقریر کا ذکر کرنا ہے ۔مَیں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے اور اِس کے پائیدار حل کے لئے آج بھی چودھری ظہور الٰہی شہید کا ویژن مکمل رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ یہ تقریر اُن کی سیاسی معاملہ فہمی اور بلوچستان کے عوام سے گہری دلی ہمدردی کی مظہر ہے۔اراکین پارلیمنٹ کو یہ تقریر پڑھنی چاہیے۔

یہ تقریر اُنہوں نے4فروری 1974ءمیں کی۔یہ بات قومی اسمبلی کے ریکارڈ سے ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ چودھری ظہور الٰہی شہید جب بلوچستان پر عام بحث کے موقع پر خطاب کررہے تھے تو تمام اراکین دم بخود سُن رہے تھے اور جب اُن کی تقریر کا وقت ختم ہوا تو میاں محمود علی قصوری اور پروفیسر غفور احمد نے اپنی تقریر کا وقت بھی چودھری ظہور الٰہی کو دے دیا۔ چودھری ظہور الٰہی نے سپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ صوبے کا مسئلہ نہیں،بلوچستان کے عوام کا مسئلہ نہیں، بلکہ اِس ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔موجودہ حکمرانوں کو بھی یہ نکتہ سمجھ لینا چاہیے کہ بلوچستان پاکستان کا مسئلہ ہے۔ چودھری ظہور الٰہی شہید زبانی جمع خرچ کے قائل نہیں تھے،وہ میدان عمل کے سیاست دان تھے۔اُنہوں نے بلوچستان کے حالات پر صرف اخبارات کا مطالعہ کرکے گفتگو نہیں کی تھی، بلکہ وہ خود بلوچستان گئے اور اپنی آنکھوں سے سارے حالات دیکھے اور پھر قومی اسمبلی میں شہرہ آفاق تقریر کی ۔اُنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبہ بلوچستان تو بہت امیر ہے مگر یہاں کے عوام اتنے ہی غریب ہیں۔

چودھری ظہور الٰہی شہید سمجھتے تھے کہ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے وہاں کے عوام سے پیار کیا جائے،اُن کے ساتھ نرمی سے بات کی جائے، بلوچستان کے وسائل پر بلوچستان کے عوام کا حق دل وجان سے تسلیم کیا جائے،بلوچستان کے مسائل کو بلوچ سرداروں کے ذمہ ڈالنا بڑی غلطی ہے۔اُنہوں نے اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ خود اِس مسئلے کو دیکھیں،خود بلوچستان جائیں،براہ راست وہاں کے عوام اور نمائندوں سے بات کریں اوراُن کے تحفظات دُور کرکے اُٹھیں۔ مجھے خوشی ہے کہ چودھری شجاعت حسین نے اپنے دور حکومت میں ایسا ہی کیا۔ وہ خود بلوچستان گئے۔ وہاں کے عوام اور نمائندوں سے ملے اور ایک تحقیقی رپورٹ مرتب کی ،مگر عرصہ اقتدار ختم ہوجانے کے بعد اِس رپورٹ کی جزئیات پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہوسکا ۔

چودھری شجاعت حسین نے یہی مشورہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو دیا تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر بلوچستان چلے جائیں اور بلوچ عوام کے تحفظات دُور کرکے اُٹھیں۔مَیں ذاتی طور پر بھی سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کے مسئلے کو اسلام آباد کی پہاڑیوں کے اُوپر کھڑے ہوکر نہ سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسلام آباد کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سلگتے بلوچستان کی چنگاریوں کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔مَیں ایک بار پھر پارلیمنٹرینز کو مشورہ دوں گا کہ وہ چودھری ظہور الٰہی شہید کی4فروری1974ءکی تقریر کا مطالعہ کریں۔ اُنہیں یہ مسئلہ سمجھنے او ر حل کرنے میں مدد ملے گی۔میں چودھری ظہور الٰہی شہید کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا گو ہوں اور اِس بات کے لئے بھی دُعا گو ہوں کہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی مسئلہ بلوچستان کے حل، جمہوریت کے استحکام ،اسلام اور پاکستان کی مضبوطی اور خوشحالی کے لئے چودھری ظہور الٰہی شہید کے ویژن کے مطابق جدوجہد جاری رکھیں گے۔  ٭

مزید : کالم