پاک بھارت تعلقات اور ازدواجی زندگی

پاک بھارت تعلقات اور ازدواجی زندگی
پاک بھارت تعلقات اور ازدواجی زندگی

  



سرکار کی نوکری کرکے ریٹائر ہوکر گھر آنے کے مراحل کا جائزہ لیا جائے تو تاریخی حماقتوں کو یاد کرکے اتنا مزہ آتا ہے کہ ریٹائرمنٹ گزارنا بذات خود ایک مزیدار نئی زندگی گزارنے کا آغاز بن جاتا ہے، جس کا اختتام یقینا اچھا ہی ہوگا۔ بس صرف آپ کو خود پر اور حالات پر ہنسنا سیکھنا ہوگا، البتہ دوسروں پر ہنسنے سے پرہیز کرنا چاہئے، کیونکہ یہ نفرت پیدا کرتا ہے اور نفرت سے زندگی گزارنا سب سے مشکل، مہنگا اور حماقت یافتہ فعل ہے، لیکن اگر دوسروں کے ساتھ اور دوسروں کے لئے ہنسنا سیکھ لیا جائے تو یہ ایک خوش آئند مستقبل کی نوید ہے، بلکہ نفرت کا شاید ایک ہی توڑ ہے جو برد باری کے بعد زندگی میں بہت کام آتا ہے۔ خود پر اور حالات پر ہنسنا بڑا خوبصورت فعل بن سکتا ہے۔ خود پر ہنسنے سے خود احتسابی کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور خود احتسابی اگر حماقتوں پر ہنس کر کی جائے تو مزیدار ہو جاتی ہے، مثلاً ایک بار مَیں اپنی بیوی کے عجیب و غریب رویئے پر ناراض ہو گیا اور ناراضی میں قسم کھائی کہ مَیں آم نہیں کھاﺅںگا جو کہ میرا پسندیدہ پھل رہا اور گرمیوں کا ڈر میرے لئے ہمیشہ کم سے کم رہا، کیونکہ گرمیوں کا انتظار آم کی خاطر میرے لئے نئے نئے پھنسے محبوب کے انتظار کے برابر ہوتا کہ چلو یہ سیزن تو اچھا گزرے گا۔

چنانچہ مَیں نے حلال چیز کو اپنے لئے حرام قرار دے دیا، بالکل رشوت خوروں کی طرح جو حرام چیز کو اپنے اور بچوں کے لئے حلال قرار دے لیتے ہیں، چنانچہ گھر میں سب کے پاس آم دیکھ کر مَیں آم سے یوں درگزر کرتا اور حسرت سے دیکھتا جس طرح رشوت خور اپنے امیر سسر کے کام کے لئے رشوت نہ لینے پر ترستا ہے۔ رشوت خور کا مَیں بار بار اِس لئے ذکر کر رہا ہوں کہ رشوت خور اور عشق مجازی میں ایک چیز قدرے مشترک ہے کہ اس میں انتہا کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی چھوٹے پیمانے کی قید ہے۔ آپ پیسے اور محبوب کا ایک لمحہ بھی اسی طرح انجوائے کرتے ہیں، جس طرح غیر ملکی مہینوں کا غیر قانونی ہنی مون.... اسی نفرت میں آموں کا پورا سیزن گزر گیا۔ یہ ایسی حماقت تھی کہ اس پر بیوی کو بھی احساس نہ ہوا کہ اس کو غلطی تسلیم کیا جائے، چنانچہ وہ اپنے مزے میں رہی کہ آم کاٹنے کے جھنجھٹ سے بچی، بلکہ یقین محکم ہے کہ وہ شاید شکر ادا کر رہی ہو کہ چلو آم چھوڑنے سے ان کو شوگر نہیں ہوگی۔ اُن کی آنکھیں، کان، گردے وغیرہ محفوظ ہو جائیں گے، البتہ دل کا ان کو فکر اِس لئے نہیں ہوگا کہ وہ ان کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

 عرصے بعد جب اچانک کہیں سے عقل آئی تو مَیں نے غور کیا کہ میرے جیسا حماقتی تو کوئی ہوہی نہیں سکتا کہ مَیں نے ایک حلال چیز جو کہ جنت کا پھل ہے، جنت کی دوسری حلال چیز بیوی کی خاطر چھوڑ دیا۔ دوسرا مجھے احساس ہوا کہ اس سے بیوی کو تو کوئی نقصان نہیں ہوا، بلکہ سارا نقصان میرا ہی ہوا۔ مَیں گرمیوں اور آم کے انتظار سے، اس کے میٹھے ذائقے سے اور خون بنانے کی فیکٹری سے محروم ہوگیا، چنانچہ اس حماقت کے سارے نقصان مجھے ہی ہوئے۔ اس کے علاوہ اس کا نقصان میرے بچوں کو ہوا۔ اس لئے کہ آج کل کے بچے پھلوں سے دُور بھاگتے ہیں خاص طور پر خوشحال گھروں کے بچے، کیونکہ اُن کو کاٹنا پڑتا ہے اور پھر ہاتھ منہ دھونا پڑتا ہے، چنانچہ ان کو کاٹ کر اہتمام سے کھلا دیا جائے تو کھا لیں گے اور وہ بھی والدین پر احسان عظیم کر کے ورنہ چاکلیٹ، چیونگم، چپس اور دوسری چٹپٹی چیزیں کھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ پھل شاید اِس لئے بھی نہیں کھاتے کہ یہ سستے بڑے ہیں اور سستی چیزیں آج کل کے بچوں اور بیویوں کے دل کو نہیں بھاتیں۔ یوں اب مَیں اپنی حماقت پر خوب ہنستا ہوں اور ایسا کام کرنے سے گریز کرتا ہوں، جس سے سارے نقصان مجھے ہی ہوں اور دشمن اور مخالف کو کچھ بھی نہ ہو، بلکہ اسے پتا بھی نہ ہو۔

بیویوں سے معاملہ بھی عجیب و غریب ہے، اِس لئے کہ شروع سے آخر تک یہی پتا نہیں چلتا کہ وہ آپ کی دوست ہے،دشمن ہے، مخالفت ہے، مقابل ہے، قابض ہے یا قابل احترام ہے؟ یہ سب جاننے کے لئے ایک لمبی زندگی چاہئے جو عموماً نہ سمجھ آنے والی بیویوں کی وجہ سے لمبی نہیں ہو سکتی اور لمبی ہو بھی جائے تو اتنی مشکل کہ باقی ساری مشکلیں آسان لگتی ہیں۔ سنا ہے کہ ایک شوہر کے قبضے میں ایک طاقتور جن آگیا۔ جب وہ حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا کہ آقا میرے لئے کوئی بڑا حکم عطا فرمائیں تاکہ میں آپ کی حیثیت کے مطابق کوئی بڑا کام کر کے کوئی بڑی خوشی حاصل کر سکوں، چنانچہ عظیم شوہر نے پاکستانی سیاست دانوں کی طرح کوئی عظیم سوچ سوچنے کا تہیہ کیا۔ یہاں مَیں نے عظیم شوہر اِس لئے کہا کہ سیاست دان اور شوہر اور وہ بھی سرکاری شوہر اس وقت فوراً عظیم ہو جاتا ہے، جب اس کے پاس اقتدار، طاقت اور پیسے کا سرچشمہ ہاتھ آجائے اور وہ حکومت کا جن ہی ہوتا ہے، چنانچہ شوہر نے جن کو حکم دیا کہ تم پاکستان سے امریکہ تک ایک پل بنادو جو سیدھا امریکہ جائے اور راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ شوہر کے سسرال امریکہ میں تھے اور سال بھر امریکہ جانے اور آنے پر بڑے جھنجھٹ اور خرچے اُٹھانے پڑتے تھے، جن چلا گیا، لیکن اگلے دن واپس آیا کہ جناب پل تو میں بنا دوں گا، لیکن اس راستے میں بہت سے ملک آتے ہیں، ان سب سے اجازت لینا پڑے گی، جس کے لئے فارن آفس کی اجازت کی ضرورت ہے اور فارن آفس کی منسٹر بھی ایک بیوی ہیں، لہٰذا آپ مہربانی کرکے کوئی اور کام بتائیں۔

شوہر سمجھ دار تھا، مان گیا۔ اب اُس نے فرمائش کی کہ تم میری بیوی کو میرا تابعدار کر دو۔ جن چلا گیا اور اگلے دن واپس آیا کہ جناب یہ کام زیادہ مشکل ہے۔ مَیں امریکہ تک پل ہی بنوا دیتا ہوں۔ بہت عرصہ پہلے میرا ایک بوڑھا دوست اکثر بال اور مونچھیں کالی کرکے رکھتا اور نوجوانوں والے کپڑے پہنتا۔ مَیں نے اس سے اس اچانک رویے کی وجہ پوچھی تو بولا کہ یار میرے مرشد نے فرمایا ہے کہ بیوی اور دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہئے اور بیوی اور دشمن کو کبھی کمزور نہیں لگنا چاہئے۔ اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہے، لیکن کچھ عرصے بعد اس کا حشر پاکستان جیسا ہوا کہ جس کے بارے میں طالبان اور امریکہ دونوں مشکوک ہو گئے،چنانچہ اُن کے بیوی بچے دونوں مشکوک ہو گئے اور اُن کی اُدھار کی طاقت اُن کے لئے عذاب بن گئی، چنانچہ مَیں نے اس دوست سے اپنے مرشد کا ارشاد دہرایا کہ صرف اپنی طاقت پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اپنی کمزوریوں اور حماقتوں کو دشمن کی زد سے بچا کر رکھنا چاہئے۔ کچھ لوگ اس میں دشمن کے ساتھ بیوی کا اضافہ بھی کرتے ہیں، لیکن مَیں نہیں کرتا۔

ہمارے ایک دوست کا خیال ہے کہ یہ تو جاننا بڑا مشکل ہے کہ کیا بیوی دوست، دشمن، مخالف، مقابل یا قابض ہے، البتہ قابل احترام ضرور ہے اور یہ احترام شادی کے فوراً بعد ہی شروع ہو جانا چاہئے،کیونکہ دیر کرنے میں چھوٹی ہوئی نمازوں کی طرح معافی نہایت مشکل ہے۔ اس کا احسن طریقہ ہمیں محکمہ ¿ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا جو ہمیں نہایت قابل عمل لگا۔ اُن کا خیال ہے اور خام خیال نہیں، بلکہ خیال واضح ہے کہ بیوی کے ساتھ اچھی زندگی گزارنے اور اس کو جاننے کی کوشش کرنے کی بجائے اچھی سفارت کے اصول اپنائے جائیں، یعنی مستقل مذاکرات اور باہمی ہم آہنگی کی پالیسیاں اپنائی جائیں۔ انہوں نے اس کی تاریخی مثال پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں دی کہ ہم پچھلے60 سال سے ہندوستان کے ساتھ دشمنی ہونے کے باوجود کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم نے جنگیں بھی کیں، ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کے الزامات بھی لگائے، ایک دوسرے کو معاشی، معاشرتی اور سیاسی طور پر نقصان بھی پہنچایا، لیکن اس کے باوجود دنیا کے نزدیک ہم ایک دوسرے کے لئے فیورٹ نیشنز ہیں اور ساتھ امن کی آشا کے گیت بھی گاتے رہتے ہیں۔ ہمیں اس دوست کا مشورہ بہت پسند آیا۔

اس سفارتی گدڑ سنگھی سے ازدواجی زندگی کو پاک بھارت تعلقات کی طرح خوشگوار بنایا جا سکتا ہے، البتہ پاک بھارت تعلقات مخالف لوگوں کی طرح ازدواجی زندگی کے معاشرتی منفی کردار آپ کے تعلقات کو بڑھتا دیکھ کر آپ کے پیچھے پڑ جائیں گے۔ کوئی کہے گا کہ بھارت سستی سبزیوں سے آپ کی معیشت تباہ کر رہا ہے، کوئی تجزیے پیش کرے گا کہ بھارت پانی پر قبضہ کرکے آپ کو بنجر کردے گا اور اپنے لئے مستقبل کی منڈی بنا لے گا۔ کوئی کہے گا کہ فیورٹ نیشن سے کشمیر کا تقدس تکلیف میں بدل جائے گا۔ کچھ امن کی آشا کو ”بغل میں چھری منہ میں رام رام“ قرار دیں گے، اگرچہ یہ سب سچ ہے،لیکن ہمسائے کے ساتھ اور بیوی کے ساتھ اچھے تعلقات کے لئے ایسی چیزیں برداشت کر لینی چاہئیں۔ ہمارے اعلیٰ سفارتی دوست اور کامیاب شوہر کا خیال ہے کہ اگر مقروض ہو کر بیوی کے اللے تللے برداشت کر کے اچھی ازدواجی زندگی گزاری جا سکتی ہے تو بھارت سے ڈیڑھ دو سو ارب سالانہ کا تجارتی خسارہ برداشت کر کے اچھے تعلقات بنانے میں کیا ہرج ہے۔ ہم سرکار اور شوہروں کو اس نئی تحقیق پر قومی رائے عامہ ہموار کرنے کا مشورہ دیں گے اور ہمیں امید ہے کہ امریکی سینیٹر اور سینیٹ اس کے خلاف قرارداد پیش نہیں کریں گے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ثقافتی چندے کے منہ کھول دیں، جس سے ہمارا قومی تجارتی اور سیاسی خسارہ کم ہونے کے امکانات روشن ہیں۔    ٭

مزید : کالم


loading...