غلام احمد بلور کا انکار اور وفاقی کابینہ

غلام احمد بلور کا انکار اور وفاقی کابینہ

  



وفاقی وزیر ریلوے اور اے این پی کے رہنما غلام احمدبلور نے گستاخانہ فلم کے فلمساز کو قتل کرنے والے کے لئے انعام والا بیان واپس لینے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ یہ ان کا ذاتی بیان ہے ۔وہ ایک مسلمان ہیں اور ان کے نزدیک شاتم رسول کی سزا ہی موت ہے۔محترم بلور کا مزید کہنا ہے کہ وہ اس بیان کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں اور اس کے جواب میں ان کے ساتھ جو ہونا ہے۔وہ ہو جائے پروا نہیں۔ غلام احمد بلور وفاقی کابینہ میں شامل ہیں کہ ان کی جماعت پیپلزپارٹی کی اتحادی ہے، اسی اتحاد کی ایک دوسری جماعت متحدہ قومی موومنٹ ہے،جس نے اس بیان کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا اور ایسے بیان کو بین الاقوامی سطح پر ملک کو اکیلا کردینے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے بھی نوٹس لیا اور بیان سے لاتعلقی ظاہر کرکے کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کے لئے اے این پی کی قیادت کو آگاہ کیا گیا۔حد تو یہ ہے کہ اے این پی نے بھی بیان کی تائید سے انکار کیا ہے۔

محترم غلام احمد بلور کی ذات کی حد تک تو بات اپنی جگہ لیکن وہ کابینہ کے ذمہ دار رکن ہیں، یہ معاملہ بہت حساس ہے، پورا عالم اسلام سراپا احتجاج ہے۔مغربی ذہنیت اپنی جگہ تاہم ایسے اعلان کو ہمارے ہی خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔دہشت گردی کی کارروائیوں اور گزشتہ جمعرات اور جمعہ کو غیر ملکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں پر حملوں نے بھی منفی اثر مرتب کیا اور آج صورت حال یہ ہے کہ سبھی لوگ ان دو دنوں میں ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کررہے ہیں۔ایسے میں بلور صاحب کا بیان اور اس پر اصرار مزید منفی مغربی پروپیگنڈے کا ذریعہ بن سکتا ہے اور پاکستان بین الاقوامی طور پر احتجاج کے ساتھ اہانت رسول پر قانون وضع کرنے کی کوشش شروع کرچکا ہے، اسے بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔ غلام احمد بلور وفاقی وزیر نہ ہوتے تو بات مختلف تھی۔ہم ان کے ایمان اور یقین کے مزید اعلان کے بعد بیان واپس لینے یا معذرت کرنے کی تو بات نہیں کرتے، البتہ ان سے ایسی اخلاقی توقع ضرور کرتے ہیں کہ وہ اب وزارت سے مستعفی ہو جائیں اور ذاتی حیثیت برقرار رکھیں اور جو چاہیں کریں۔

اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ کا بیان ایک حلیف جماعت کے حوالے سے مناسب نہیں لگتا،جب وزیراعظم کا بیان آ گیا تھا تو ایم کیو ایم کو بات کابینہ کے اندر کرنا چاہیے تھی۔صدر آصف علی زرداری نے مفاہمانہ حکمت عملی کے تحت جو اتحاد بنایا ،اس کی نوعیت بھی عجیب ہے۔اتحادی جماعتیں اقتدار میں پورا پورا حصہ اور اس کے فوائد سمیٹتی ہیں، لیکن ذمہ داری قبول نہیں کرتیں، جب بھی کوئی اہم واقع ہو، سب اتحادی اپنی بولی بولنے لگتے ہیں۔حالانکہ ان کے پاس کابینہ کے علاوہ اتحادی سربراہی اجلاس بلانے کی ترجیح بھی موجود ہوتی ہے۔شروع سے ہی یہ اصول طے کرلئے جاتے تو مناسب تھا۔قومی مسائل پر بھی اتحادیوں میں اختلاف نظر آتا ہے۔ہر جماعت ہر قومی اور عوامی مسئلہ پر اپنا موقف بیان کرتی اور اس کا اظہار کردیتی ہے اور اس پر اصرار بھی کرتی ہے حالانکہ یہ سب کابینہ اور سربراہی اجلاس میں ہونا چاہیے۔شروع سے یہ پالیسی ہوتی تو پریشانی نہ ہوتی۔اب بھی ضرورت ہے کہ جو وقت بچا ہے، اس کے دوران اتحادی پہلے آپس میں بات یا اعتراض کرلیا کریں تو بہتر ہوگا۔اب بھی پیپلزپارٹی اور اے این پی کو مل کر جلد فیصلہ کرنا چاہیے۔     ٭

مزید : اداریہ


loading...