چین افغان تعلقات میں پیش رفت

چین افغان تعلقات میں پیش رفت

  



چین کے ایک اعلی سطحی وفد نے ہفتہ کے روز کابل کا اچانک دورہ کیا اور صدر کرزئی کے ساتھ اقتصادی اور دفاعی تعاون کے اس معاہدے میں پیش رفت کے لئے بات چیت کی جو دونوں ممالک کے صدور کے درمیان گزشتہ جون میں صدر کرزئی کے دورہ چین کے وقت ہوا تھا۔ کسی چینی رہنما کی طرف سے افغانستان کا کیا جانے والا یہ چھیالیس سال کے بعدپہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل آنجہانی چینی صدر لیو شاﺅکی نے 1966ءمیں افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ مبصرین کے مطابق 2014ء میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاءکے بعد، اس معاہدے کی وجہ سے چین کو افغانستان میں اپنے اثر ورسوخ کی وجہ سے مرکزی اہمیت حاصل ہو جائے گی۔ افغانستان کا دورہ کرنے والے اس وفد کی قیادت اہم چینی رہنما ژاﺅ زانگ کانگ کر رہے تھے۔ وفد کی افغانستان میں آمد کا پیشگی کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ مسٹر ژ اﺅ کو چین کی حکمران پارٹی میں پروٹوکول کے لحاظ سے نویں پوزیشن حاصل ہے۔

چینی ذرائع کے مطابق اعلی چینی حکام کا یہ دورہ چین کی طرف سے اپنے ہمسایہ ملکوں کی مدد کرنے کے پروگرام کا حصہ ہے۔ کابل میں چینی وفد سے اپنی قیام گاہ پر ملاقات کے دوران صدر کرزئی نے کہا کہ چین افغانستان کا ایک اچھا اور سچا دوست ہے۔ چین کی خبررساں ایجنسی نے اس چار گھنٹے کے دورے کے سلسلے میں مسٹرژاﺅ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور سٹرٹیجک تعلقات مضبوط کرنے کے سلسلے میں تھا، اس سے علاقائی امن ، استحکام اور ترقی کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوگا۔

افغانستان کے شمال مشرق میں اس کی چھہتر کلو میٹر کی سرحد چین کے ساتھ ملتی ہے۔ افغانستان سے امریکی اور یورپی افواج کے 2014ءتک انخلاءکے اعلان کے بعد سے چین کی افغانستان کے معاملات میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ چین افغانستان میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ چین کے ساتھ افغانستان تانبے کی کان کنی اور تیل نکالنے کے ایک معاہدے پر اس سے پہلے ہی دستخط کر چکا ہے ۔ ان معدنیات کی مالیت کا اندازہ سو ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔صدر کرزئی نے چین سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے پوشیدہ زیرزمین خزانوں کو نکالنے کے لئے اور بھی سرمایہ کاری کرے۔

چین کی طرف سے افغانستان میں سرمایہ کاری اور اس سے سٹرٹیجک تعاون کا سلسلہ صدر کرزئی کی اس یقین دہانی کے بعد شروع ہوا جو انہوں نے گزشتہ جون میں اپنے دورہ شنگھائی کے دوران مسٹر ژاﺅ کو کرائی تھی۔ مسٹر کرزئی نے روس اور چین کی سربراہی میں قائم کی گئی ” کواپریشن آرگنائزیشن “ کے شنگھائی اجلاس میں شرکت کی تھی، جس کا مقصد امریکہ اور یورپ کے اثرورسوخ کا خاتمہ ہے۔ اس تنظیم میں افغانستان کو مبصرکا درجہ دیا گیا ہے۔ مسٹر ژاﺅ کو چین کے سیکورٹی امور کے سلسلے میں چوٹی کی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ افغانستان اور وسط ایشیا سے چین کے ملحقہ علاقوں میں علیحدگی پسندوں کی طاقت کچلنے ، مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے سلسلے میں انہیں بہت شہرت حاصل ہے۔

افغانستان کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کے لئے باعث اطمینان ہیں۔ جن مقاصد کے لئے چین اور افغانستان تعاون کررہے ہیں پاکستان بھی ان مقاصد میں دونوں ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہے۔ حال ہی میں تینوں ملکوں نے سہ فریقی میکانزم قائم کیا ہے تاکہ تینوں ملک اپنی اپنی پوزیشن ایک دوسرے پر واضح کرتے ہوئے رابطہ قائم رکھیں او ر مل کر علاقائی امن اور استحکام کے لئے کام کرسکیں۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں قیا م امن، خوشحالی اور اس کے استحکام کے لئے ہر طرح کی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور یورپ کی جنگ افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستانی علاقوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ ان علاقوں کی بحالی کے لئے ہر طرف سے اور بالخصوص چین جیسے ہمسایہ ممالک کی طرف سے تعاون بے حد ضروری ہے۔ چین افغانستان میں سرمایہ کاری کے لئے بے حد مثبت کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستان ، چین اور افغانستان مل کر دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

اس دور میں غیر حکومتی (زیر زمین) طاقتوں کو جس قدر پھیلاﺅ حاصل ہو چکا ہے اور ان کی دہشت گردی کی کارروائیوں کے سامنے حکومتیں خود کو جس طرح بے بس محسوس کرتی ہیں ، اقتصادی معاملات میں خطے کے ممالک جس طرح باہمی مفادات کے لئے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اس کے پیش نظرہمارے خطے کے ممالک میں اقتصادی اور سٹرٹیجک تعاون ناگزیر ہوچکا ہے۔ اس سب کچھ کے لئے اگر ہم اس سہ فریقی تعاون میں بھارت کو بھی شامل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو سب ممالک اپنی علیحدگی پسندزیرزمین طاقتوں اور ہر طرح کی دہشت گردی سے نجات پا کر اپنی معیشت کے استحکام اور عوام کی خوشحالی پر بھی توجہ دے سکیں گے۔

ایک اطلاع کے مطابق چین کی طرف سے گلگت بلتستان کے علاقے میں ایک سو بجلی گھر قائم کرنے اور ان علاقوں سے ماڈرن تکنیکس کے ذریعے قیمتی پتھر نکالنے کے لئے دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش اور تفصیلی منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کرپٹ گورنمنٹ مشینری کی وجہ سے اسلام آباد میں وزارتوں کی الماریوں میں بند پڑا ہے۔ اس طرح چین اور دوسرے بہت سے ممالک کی طرف سے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے ان گنت منصوبے اپنا حصہ مانگنے والے کرپٹ وزیروں یا بیورکریٹس کی طرف سے ناکام بنا دئیے جاتے ہیں اور بے چارے عوام قوم سے غداری کرنے والے ایسے لوگوں اور ان کی کارروائیوں سے قطعی بے خبر اور لاتعلق قومی معیشت اور مفاد کی بربادی کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں امریکی سفیر نے بھی شکایت کی ہے کہ پاکستانی بیورو کریسی کی کرپشن امریکی سرمایہ داروں کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ عوام کی اس سلسلے میں بے بسی اور بیوروکریسی کی منہ زوری سے عام پاکستانی یہ پوچھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا بیورو کریسی کو کبھی راہ راست پر لایا بھی جا سکے گایا نہیں۔ کیا حکومتوں میں اتنی طاقت ہے کہ وہ قوم کے دشمن کرپٹ لوگوں سے حکومتی مشینری کو پاک کرکے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی صحیح روح کے مطابق ملکی معیشت کو زیادہ سے زیادہ آزاد کرسکیں۔؟

کیا مسائل میں گھرے ہوئے جنگ زدہ افغانستان سے بھی ہماری حالت بد تر ہے کہ ہم اپنے عوام کی خوشحالی اور معیشت کی ترقی کے لئے بیرونی سرمایہ کاری اپنے ہاں نہیں لا سکتے۔؟جو مسلسل کم ہورہی ہے۔

مزید : اداریہ