اوورسیز پاکستانیوں کیلئے سہولتیں، متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب

اوورسیز پاکستانیوں کیلئے سہولتیں، متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب

  



اسلام آباد(این این آئی) سپریم کورٹ نے اوورسیز پاکستانیز کو وطن واپسی پر ملک کے ہوائی اڈوں پر مطلوبہ سہولیات دلانے کیلئے سول ایوی ایشن، ایف آئی اے اور اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن سے مشترکا اور مربوط حکمت عملی طلب کرلی ہے ۔ پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اوورسیز پاکستانیوں کو ایئرپورٹس پر سہولیات نہ ملنے کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالتی بنچ کے رکن جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس میں کہاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے حکومتی اداروں میں انتہا کی بے حسی ہے، یہ بیرون ملک پاکستانی تپتی دھوپ میں کام کرکے سالانہ 13ارب ڈالر بھجواتے ہیں لیکن ان کے ساتھ یہاں ایئرپورٹس پر جو سلوک ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے اربوں ڈالرزرمبادلہ دینے والے پاکستان میں آکرسہولتوں سے محروم ہوتے ہیں، پھر عدالت نے او پی ایف، سول ایوی ایشن، ایف آئی اے کو مربوط اقدامات کرنے کی ہدایت کردی، چیف جسٹس نے کہاکہ تمام اداروں کے سربراہ مشترکا غور کرکے یکم اکتوبر تک عدالت کو رپورٹ دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وطن آمد پر سمندر پار پاکستانی لوٹ کھسوٹ کا شکارہوتے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ مہذب قومیں ایئرپورٹ پراپنے باشندوں کوخصوصی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ ہمارے ایئرپورٹ پربوڑھے اوربچوں والی خواتین بھی لائنوں میں کھڑی ہوتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے، امیگریشن حکام، سول ایوی ایشن اوراوپی ایف کے سربراہان کومشترکہ اجلاس بلانے اوراجلاس کی رپورٹ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت یکم اکتوبرتک ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...