چیف ایگزیکٹو لیسکو ضیا لطیف کی تقرری کو چیلنج کر دیا گیا

چیف ایگزیکٹو لیسکو ضیا لطیف کی تقرری کو چیلنج کر دیا گیا

  



لاہور(کامرس رپورٹر)لیسکوکے سینئر افسر عتیق احمد نے چیف ایگزیکٹو لیسکو ضیاءلطیف کی تعیناتی کیخلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔جسٹس خالد محمود خان نے چیلنج ہونیوالے کیس کی سماعت کرتے ہوئے لیسکوبورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین رافع عالم، لیسکو چیف ضیاءلطیف، ایس ای فرسٹ سرکل چودھری انور اور وزارت پانی و بجلی کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔ چند روز قبل چیف ایگزیکٹو ضیاءلطیف کے آرڈر کے ذریعے معطل ہونیوالے ایس ای فرسٹ سرکل عتیق احمد نے مﺅقف اختیار کیا ہے کہ 19 ویں گریڈ کہ چیف ایگزیکٹو لیسکو ضیاءلطیف کا لیسکو میں سنیارٹی کے اعتبار سے گیارہواں نمبر ہے ، 6 افسران 20 ویں گریڈ کہ ہیں جبکہ 19 ویں گریڈ میں بھی پانچ افسر ا ن ضیاءلطیف سے سینئر ہیں۔ عتیق احمد کے مطابق سنیارٹی کے علاوہ بھی ضیاءلطیف پر کرپشن کے سنگین الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔ تقریباً 6 ماہ قبل لیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پاس اس وقت کے چیف انجینئر ڈویلپمنٹ ضیاءلطیف کیخلاف کرپشن کیس آیا تھا جس کی تحقیقات کیلئے آپریشن ڈائریکٹر، منیجر انٹرنل آڈٹ اور منیجر ایم اینڈ ایس پر مشتمل تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی حتمی رپورٹ میں ضیاءلطیف کیخلاف کرپشن کے دستاویزی فراہم کئے گئے تھے۔ ان ثبوتوں کی روشنی میں لیسکو کے 12 رکنی بورڈ نے اس وقت کے چیف انجینئر(ڈویلپمنٹ) ضیاءلطیف کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔ عتیق احمد کے مطابق 31 اگست 2012 ءکو آفس آرڈر جاری کیا گیا جس میں موجودہ چیف ایگزیکٹو ضیاءلطیف کو چیف انجینئر ڈویلپمنٹ کے عہدے سے ہٹانے کے احکامات جاری ہوئے تاہم بعض قوتوں نے تین دن کے اندر اندر ان کا بندوبست کر کے 3 ستمبر کو انہیں چیف ایگزیکٹو لیسکو تعینات کر وا دیا ۔ عتیق احمد کا کہنا ہے کہ ضیاءلطیف کی تقرری میں قانون کی صریحاً خلاف ورزیاں ہوئی ہیں ، اس سلسلے میں عدالت اپنا کردار ادا کرے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...