تحصیل صدر کے سینکڑوں موضع جات کے انتقال کمپیوٹرائز نہ ہوسکے،کلیرنس رپورٹ وزیراعلیٰ کو بھجوادی گئی

تحصیل صدر کے سینکڑوں موضع جات کے انتقال کمپیوٹرائز نہ ہوسکے،کلیرنس رپورٹ ...
تحصیل صدر کے سینکڑوں موضع جات کے انتقال کمپیوٹرائز نہ ہوسکے،کلیرنس رپورٹ وزیراعلیٰ کو بھجوادی گئی

  



لاہور(عامر بٹ سے) پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی جانب سے آن لائن کئے جانے والے تحصیل صدر کے سینکڑوں موضع جات کے انتقامات ہی کمپیوٹزاڈسسٹم میں فیڈ نہیں کئے گئے جس کے باعث کمپیوئزاڈ سسٹم میں زمینوں کی ملکیت بدستور پرانے مالکان کے نام چلی آرہی ہے جبکہ پی ایم یو انتظامیہ نے آن لائن کئے جانے والے موضع جات کو ہر طرح کی غلطیو ں سے پاک اور کمپیوئزاڈ سسٹم میں ریونیوریکارڈ کو محفوظ کرنے کی پریکٹس کی کلیرنس رپورٹ بھی وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوا رکھی ہے۔کمپیوئزاڈ سسٹم میں انتقالات کی فیڈنگ میں مسنگ کا انکشاف ہونے پر شہریوں میں خوف وہراس کی لہر دوڑ چکی ہے تاہم انچارج کمپیوٹر نے اِس غلطی کی ذمہ داری شہریوں پر ڈال دی ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ لالہ بھائی گل میں درج ہونے والے انتقالات کمپیوئزاڈ سسٹم میں فیڈ نہیں کئے جسکے جس کی وجہ سے موجودہ مالکان کی ایک بڑی تعداد ریونیو ریکارڈ میں مالک بننے سے محروم ہوچکی ہے او رپی ایم یو کے سروس سنٹر میںکمپیوئزاڈ سسٹم میں فیڈ ہونے والا ریکارڈ بھی جمعبندیوںکو دیکھ کر محفوظ کیا گیا ہے جس میں ملکیت کے خانے میں بدستور پرانے مالکان کے نام درج کئے گئے ہیں۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے ناتجربہ کار سٹاف نے آن لائن کئے جانے والے سینکڑوں موضع جات کے انتقالات ہی فیڈ نہیں کئے گئے جس سے درجنوں موضع جات کے ریونیوریکارڈ سے منسلک کھاتہ جات میں موجودمالکان اراضی کے نام ونشان ہی نہیں رہے ہیں اور پرانے مالکان کو ہی ریکارڈ میں مالک ظاہر کیا جارہا ہے۔اِس انکشاف پر شہریوں کی ایک قابل ذکر تعداد نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بورڈ آف ریونیو ،محکمہ مال کے سینئر افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے جو کہ آن لائن کئے جانے والے موضع جات کے ریونیور یکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیں اور اِس میں پیش آنے والی غلطیوں کی درستگی کرتے ہوئے موجودہ مالکان کی ملکیت کو بحال کریں ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ انتظامیہ آن لائن کئے جانے والے تمام موضع جات کے حوالے سے وزیرا علیٰ پنجاب کو رپورٹ دے چکے ہیں کہ یہ تمام موضع جات غلطیوں سے پاک ہیں اور کمپیوئزاڈ سسٹم میں آخری جمعبندی سے لے کر موجود جمعندی تک کا تمام ریکارڈ بھی محفوظ کیا جاچکا ہے مگر اِس رپورٹ کے برعکس کمپیوئزاڈ سسٹم میں انتقالات کی فیڈنگ میں مسینگ کے انکشافات نے شہریوں کی بڑی تعداد میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے ۔وہاں پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ادارے کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ دوسر جانب ضلعی کچہری میں انچارج کمپیوٹر سروس مسٹر عاقب کا کہنا ہے کہ اُن شہریوں کے انتقالات کی مسنگ کمپیوئزاڈ سسٹم میں ہورہی ہے جنہوں نے رجسٹریاں پاس ہونے کے بعد ریونیو ریکارڈ میں انتقال درج نہیں کروائے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے پاس ملکیت بدستور پرانے مالکان کی رہی ہے تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو رجسٹری پاس کروانے کے وقت گورنمنٹ کے خزانے میں500روپے جمع کروانے ہیں اوربورڈ آف ریونیو کے پرچہ رجسٹری قانون کے مطابق ریونیو سٹاف15 سے20دن بعد انتقال کی پاس شدہ کاپی دینے کا مجاز ہے جو کہ آن لائن ہونے والے موضع جات کے تمام انتقالات کے اندراج اور فردات جاری کرنے کی پریکٹس اب پی ایم یو یونٹ کررہا ہے اِس لئے انتقال کے اندراج کی ذمہ داری بھی اُن پر عاےد ہوتی ہے۔یہ اپنی غفلت اور نااہلی پر جان بوجھ کر پردہ ڈال رہے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب اِس کا نوٹس لیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...