ن لیگ کو ٹف ٹائم دینے کے لئے ق لیگ نے لاہور پیپلز پارٹی کے حوالے کردیا

ن لیگ کو ٹف ٹائم دینے کے لئے ق لیگ نے لاہور پیپلز پارٹی کے حوالے کردیا

  



لاہور( جاویداقبال) مسلم لیگ (ن) سے تخت لاہور چھیننے کے لئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) میں معاملات طے پاگئے ہیں جس کے تحت ن لیگ کوٹف ٹائم دینے کے لئے مسلم لیگ ق نے لاہور پیپلزپارٹی کے حوالے کردیا ہے اور باقاعدہ پیپلزپارٹی اور ق لیگ کی قیادت میں معاملات طے پاگئے ہیں جس کے تحت آئندہ انتخابات میںپیپلزپارٹی لاہور کے صوبائی اسمبلی کے 26میں سے 25حلقوں میں جبکہ قومی اسمبلی کے 13میں سے 13 حلقوں میں امیدوار کھڑے کرے گی مسلم لیگ ق ان کے مقابلے میں اپنے امیدوار نہیں لائے گی اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو سپورٹ کرے گی ذرائع نے بتایا ہے کہ دوحلقوں کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق میں آئندہ انتخابات کے لئے لاہور کے 26صوبائی اور 13قومی حلقوں کے لئے انتخابی اتحاد طے پا گیا ہے جن میں مسلم لیگ ق نے لاہور پیپلزپارٹی کے حوالے کر دیا ہے لاہور کے صوبائی اسمبلی کے 26میں سے 25حلقوں میں پیپلزپارٹی امیدوار کھڑے کرے گی اور ان کی حمایت مسلم لیگ ق کرے گی ق لیگ صرف گلبرگ حلقہ سے اپنا امیدوار کھڑا کرے گی اسی حلقہ سے چودھری مونس الہی کو انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم آخری وقت میں یہاں سے چودھری شافع حسین یا چودھری سالک بھی امیدوار کے طور پر سامنے آسکتے ہیں اگر تحریک انصاف سے چودھری منشاءسندھو ق لیگ میں واپس آگئے تو وہ ق لیگ کے دوسرے امیدوار ہونگے نہ آنے کی صورت میں مسلم لیگ ق لاہور کے صرف ایک صوبائی حلقہ سے اپنا امیدوار نائب وزیر اعظم کے فرزند چودھری مونس الہی کو امیدوار کھڑا کرے گی۔مسلم لیگ ق کے ذمہ دار ذرائع نے اس کی تصدیق کردی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہی میں آئندہ انتخابات کے لئے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے اب تک طے پانے والے معاملات میں”لاہور کا فیصلہ“ بھی کر لیا گیا ہے ۔ جس کے تحت آئندہ انتخابات میں لاہور پیپلزپارٹی کا ہوگا لاہور میں صرف پیپلزپارٹی امیدوار کھڑے کرے گی اور مسلم لیگ ق پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو سپورٹ کرے گی ۔ ق لیگ کا مو¿قف تھا کہ وہ تمام حلقوں میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو سپورٹ کرے گی تاہم دو صوبائی حلقوں میں ہو سکتا ہے مسلم لیگ ق اپنے امیدوار لائے جن میں گلبرگ کا حلقہ جہاں سے 2008میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر سعید الہی چودھری مونس الہی کے مقابلے میں کامیاب ہوئے تھے اسی حلقے سے دوبارہ مونس الہی یا شافع حسین امیدوار ہو سکتے ہیں دوسرا حلقہ شافع حسین کا ہے جو تحریک انصاف میں جا چکے ہیں اگر وہ ق لیگ میں واپس آجاتے ہیں تو وہ مسلم لیگ ق کے امیدوار ہو سکتے ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے 13حلقوں میں پیپلزپارٹی امیدوار لائے تو مسلم لیگ ق ان کی سپورٹ کرے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...